نئی دہلی: خواتین کے ریزرویشن قانون میں ترمیم سے متعلق بل کے پاس نہ ہونے پر بھارتیہ جنتا پارٹی (بی جے پی) کی خواتین رہنماؤں اور کارکنوں نے ہفتہ کے روز لوک سبھا میں قائدِ حزبِ اختلاف راہل گاندھی کی سنہری باغ واقع رہائش گاہ کے قریب احتجاجی مارچ نکالا۔
مظاہرین میں بی جے پی کی خواتین اراکینِ پارلیمنٹ ہیما مالنی، کملجیت سہراوت، بانسری سواراج، منجو شرما اور واتسلیہ گپتا شامل تھیں۔ انہوں نے جمعہ کو لوک سبھا میں آئین (131واں ترمیمی) بل کے پاس نہ ہونے پر اپوزیشن جماعتوں کو سخت تنقید کا نشانہ بنایا اور ان پر ملک کی خواتین کی "توہین" کرنے کا الزام لگایا۔
دہلی کی وزیر اعلیٰ ریکھا گپتا، بی جے پی دہلی یونٹ کے صدر وریندر سچدیوا، مرکزی وزیر رکشا کھڈسے، رکن پارلیمنٹ منوج تیواری اور پارٹی کی دیگر خواتین کارکنان بھی اس احتجاج میں شریک ہوئیں۔ حکام کے مطابق، گاندھی کی رہائش گاہ کی طرف بڑھنے والی مظاہرین کو منتشر کرنے کے لیے پولیس نے واٹر کینن کا استعمال کیا۔
#WATCH | Delhi: Union MoS Raksha Khadse and BJP MP Bansuri Swaraj detained by Police personnel during protest march to the residence of Lok Sabha LoP Rahul Gandhi, a day after the Constitution (131st Amendment) Bill failed to pass in the Lok Sabha. pic.twitter.com/OVdpBcXR8W
— ANI (@ANI) April 18, 2026
موتی لال نہرو مارگ پر جمع مظاہرین سے خطاب کرتے ہوئے ہیما مالنی نے کہا، "وزیر اعظم نریندر مودی نے اس بل کو پاس کرانے کے لیے بہت محنت کی، لیکن اپوزیشن نے اسے منظور نہیں ہونے دیا۔" انہوں نے مزید کہا، "یہ ہمارے لیے انتہائی افسوسناک دن ہے۔ ایسا لگتا ہے کہ اپوزیشن کو خواتین کی طاقت پر یقین نہیں ہے اور وہ انہیں ان کے حقوق دینا نہیں چاہتے۔"
یہ آئینی ترمیمی بل 2029 سے قانون ساز اداروں میں خواتین کے لیے ریزرویشن نافذ کرنے اور لوک سبھا کی نشستوں کی تعداد بڑھانے کے مقصد سے پیش کیا گیا تھا، تاہم یہ ایوان میں پاس نہیں ہو سکا۔ اس کے حق میں 298 ارکان نے ووٹ دیا جبکہ 230 نے مخالفت کی، جبکہ بل کی منظوری کے لیے 528 رکنی ایوان میں دو تہائی یعنی 352 ارکان کی حمایت ضروری تھی۔