نئی دہلی: بھارتیہ جنتا پارٹی (بی جے پی) نے منگل کو عام آدمی پارٹی کے قومی کنوینر اروند کیجریوال کے ای 20 (20 فیصد ایتھنول ملاوٹ والے) پٹرول کے خلاف وزیر اعظم نریندر مودی کی رہائش گاہ تک مارچ پر سخت ردعمل ظاہر کرتے ہوئے ان پر کسانوں کے مفادات کی مخالفت اور اپنی "ناکام سیاست" کو دوبارہ زندہ کرنے کی کوشش کا الزام لگایا۔
دہلی پولیس نے کیجریوال اور ان کے ساتھیوں کو فیروز شاہ روڈ پر وزیر اعظم کی رہائش گاہ کی جانب مارچ کرنے سے روک دیا۔ کیجریوال تقریباً 100 حامیوں کے ساتھ 2.30 لاکھ سے زائد یادداشتیں (میمورنڈم) پیش کرنے کے لیے مارچ کر رہے تھے۔ ان کا دعویٰ ہے کہ ای 20 پٹرول کی پالیسی سے گاڑی مالکان متاثر ہو رہے ہیں۔
سابق وزیر اعلیٰ نے یہ بھی الزام لگایا کہ مرکزی حکومت امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کے دباؤ میں ایتھنول ملاوٹ والے پٹرول کو فروغ دے رہی ہے اور اس معاملے میں امریکہ کے سامنے "جھک" گئی ہے۔ بی جے پی کے قومی جنرل سکریٹری ترون چغ نے کیجریوال کے احتجاج کو "بے بنیاد، غیر ذمہ دارانہ اور سیاسی مفاد پر مبنی" قرار دیا۔
پارلیمنٹ ہاؤس کے احاطے میں صحافیوں سے گفتگو کرتے ہوئے انہوں نے کہا، "اروند کیجریوال کا مارچ بے معنی ہے۔ ایتھنول ملاوٹ پروگرام مکمل طور پر سائنسی اور شفاف طریقے سے نافذ کیا گیا ہے، اس پر کسی نے کوئی اعتراض نہیں اٹھایا۔
" ترون چغ نے الزام لگایا کہ ای 20 پٹرول کی مخالفت کرکے کیجریوال دراصل ہندوستانی کسانوں کے مفادات کے خلاف کام کر رہے ہیں، کیونکہ ایتھنول مکئی، گنے اور دیگر زرعی پیداوار سے تیار کیا جاتا ہے، جس سے کسانوں کی آمدنی میں اضافہ ہوتا ہے۔ انہوں نے کہا، "کیجریوال کا یہ مہم کسانوں کے خلاف ہے۔ وہ کسانوں کو ان کی آمدنی سے محروم کرنا چاہتے ہیں، جبکہ ایتھنول کئی دہائیوں سے دنیا کے مختلف ممالک میں کامیابی سے استعمال ہو رہا ہے اور ہندوستان میں بھی اسے سائنسی بنیادوں پر نافذ کیا گیا ہے۔" بی جے پی رہنما نے مزید کہا کہ کیجریوال محض سیاسی فائدے کے لیے غیر ضروری تنازع کھڑا کر رہے ہیں اور ان کے دلائل کی کوئی سائنسی بنیاد نہیں ہے۔