پیدائش و اموات ترمیمی بل راجیہ سبھا سے منظور

Story by  PTI | Posted by  [email protected] | Date 04-08-2026
پیدائش و اموات ترمیمی بل راجیہ سبھا سے منظور
پیدائش و اموات ترمیمی بل راجیہ سبھا سے منظور

 



نئی دہلی: راجیہ سبھا نے منگل کو پیدائش اور اموات کے اندراج (ترمیمی) بل، 2026 کو صوتی ووٹ سے منظور کر لیا۔ اس سے قبل لوک سبھا بھی 31 جولائی کو اس بل کو منظور کر چکی تھی، جس کے بعد اب اسے پارلیمنٹ کی منظوری حاصل ہوگئی ہے۔

ایوان کی کارروائی دو مرتبہ ملتوی ہونے کے بعد دوپہر دو بجے دوبارہ شروع ہوئی، جس کے بعد نائب چیئرمین ہری ونش کی اجازت سے مرکزی وزیر مملکت برائے داخلہ نتیانند رائے نے اپوزیشن کے ہنگامے کے درمیان بل پیش کیا۔ بل پر مختصر بحث کا جواب دیتے ہوئے نتیانند رائے نے کہا کہ اس ترمیم کا مقصد پیدائش اور اموات کے اندراج ایکٹ، 1969 (جس میں 2023 میں ترمیم کی گئی تھی) کی دفعہ 13(3) میں مزید تبدیلی کرکے تاخیر سے ہونے والے اندراج کے ضابطوں کو مزید سخت بنانا ہے۔

انہوں نے بتایا کہ موجودہ قانون کے مطابق اگر پیدائش یا موت کا اندراج ایک سال سے زیادہ تاخیر سے کرایا جائے تو اس کے لیے ضلع مجسٹریٹ (ڈی ایم)، سب ڈویژنل مجسٹریٹ (ایس ڈی ایم) یا کسی ایگزیکٹو مجسٹریٹ کی اجازت درکار ہوتی ہے۔ نئے بل کے تحت تاخیر کی مدت کی بنیاد پر دو سطحی منظوری کا نظام متعارف کرایا گیا ہے۔

وزیر مملکت نے کہا کہ ہر بچے کی پیدائش کا بروقت اندراج ہونا ضروری ہے تاکہ اسے اپنے تمام قانونی حقوق اور سرکاری سہولتوں سے فائدہ مل سکے۔ انہوں نے واضح کیا کہ ایک سال کے اندر پیدائش یا موت کے اندراج کے موجودہ طریقہ کار میں کوئی تبدیلی نہیں کی گئی ہے۔

انہوں نے بتایا کہ اگر پیدائش یا موت کی اطلاع ایک سال سے زیادہ لیکن دو سال کے اندر دی جاتی ہے تو اندراج صرف ضلع مجسٹریٹ، سب ڈویژنل مجسٹریٹ یا ان کے مجاز ایگزیکٹو مجسٹریٹ کی اجازت اور تصدیق کے بعد ہی ہوگا۔ اس کے علاوہ اگر کسی پیدائش یا موت کو دو سال سے زیادہ گزر چکے ہوں تو اس کا اندراج اب صرف جوڈیشل مجسٹریٹ فرسٹ کلاس (جے ایم ایف سی) کے حکم کے بعد ہی ممکن ہوگا۔

وزیر نے کہا کہ رجسٹریشن کی اجازت دینے سے پہلے متعلقہ حکام فراہم کی گئی معلومات کی مکمل جانچ اور تصدیق کریں گے۔ بحث کے بعد راجیہ سبھا نے بل کو صوتی ووٹ سے منظور کر لیا۔ اپوزیشن نے کارروائی کے دوران کہا کہ یہ ایک نہایت اہم بل ہے، اس لیے مرکزی وزیر داخلہ امت شاہ کو ایوان میں موجود ہونا چاہیے تھا۔ اپوزیشن ارکان نے ان کی غیر موجودگی پر نعرے بازی بھی کی، تاہم ہنگامے کے درمیان مختصر بحث کے بعد بل منظور کر لیا گیا۔