نئی دہلی: حکومت نے پیدائش اور وفات کے اندراج سے متعلق قانون میں ترمیم کے لیے بدھ کے روز پیدائش و وفات رجسٹریشن (ترمیمی) بل، 2026 لوک سبھا میں پیش کر دیا۔ مرکزی وزیر مملکت برائے داخلہ نتیانند رائے نے اپوزیشن کے ہنگامے کے درمیان ایوان میں یہ بل پیش کیا۔
اپوزیشن ارکان پرچہ لیک کے خلاف لائے گئے عوامی امتحانات (غیر منصفانہ ذرائع کی روک تھام) ترمیمی بل، 2026 پر بحث کے دوران وزیر اعظم نریندر مودی اور مرکزی وزیر داخلہ امت شاہ کی ایوان میں موجودگی کا مطالبہ کرتے ہوئے نعرے بازی کر رہے تھے۔
پارلیمانی ضابطے کے مطابق لوک سبھا اسپیکر اوم برلا نے بل پیش کیے جانے کی مخالفت کے لیے اپوزیشن کے چند ارکان کے نام پکارے، تاہم کسی رکن نے اعتراض پیش نہیں کیا، جس کے بعد نتیانند رائے نے بل ایوان میں پیش کر دیا۔ واضح رہے کہ مرکزی کابینہ نے 20 جولائی کو اس بل کی منظوری دی تھی۔
اس کا مقصد پیدائش و وفات رجسٹریشن ایکٹ، 1969 (جس میں 2023 میں ترمیم کی گئی تھی) کی دفعہ 13(3) میں مزید ترمیم کرکے تاخیر سے رجسٹریشن کے ضابطوں کو مزید سخت بنانا ہے۔ موجودہ قانون کے مطابق اگر پیدائش یا وفات کا اندراج ایک سال سے زیادہ تاخیر سے کرایا جائے تو اس کے لیے ضلع مجسٹریٹ (ڈی ایم)، سب ڈویژنل مجسٹریٹ (ایس ڈی ایم) یا کسی ایگزیکٹو مجسٹریٹ کے حکم کی ضرورت ہوتی ہے۔ مجوزہ بل میں تاخیر کی مدت کی بنیاد پر دو مرحلوں پر مشتمل منظوری کے نظام کا انتظام کیا گیا ہے، تاکہ تاخیر سے رجسٹریشن کے معاملات کو مزید مؤثر اور منظم طریقے سے نمٹایا جا سکے۔