نئی دہلی: مرکزی وزیر قانون ارجن رام میگھوال نے پیر کے روز پارلیمنٹ کے مانسون اجلاس کے دوران اپوزیشن کے مسلسل ہنگامے کے بیچ لوک سبھا میں سپریم کورٹ (ججوں کی تعداد) ترمیمی بل، 2026 پیش کیا۔ میگھوال نے بل پیش کرنے کی اجازت طلب کرتے ہوئے کہا کہ اس کا مقصد سپریم کورٹ (ججوں کی تعداد) ایکٹ، 1956 میں مزید ترمیم کرنا ہے۔
مجوزہ قانون اس آرڈیننس کی جگہ لے گا جس کے ذریعے سپریم کورٹ میں ججوں کی منظور شدہ تعداد 33 سے بڑھا کر 37 کر دی گئی تھی۔ بل ایسے وقت میں پیش کیا گیا جب اپوزیشن ارکان مبینہ نیٹ-یو جی 2026 پرچہ لیک اور رام مندر کے چندے میں مبینہ خرد برد کے معاملے پر ایوان میں نعرے بازی کر رہے تھے۔ مسلسل ہنگامے کے باعث لوک سبھا کی کارروائی دوپہر 12:30 بجے تک ملتوی کر دی گئی۔
ادھر راجیہ سبھا میں بھی قائدِ حزب اختلاف ملکارجن کھڑگے نے مبینہ نیٹ پرچہ لیک اور طلبہ کے احتجاج کا معاملہ اٹھایا، جس کے بعد ایوان کی کارروائی متاثر ہوئی۔ کھڑگے نے کہا، "آپ نے مجھے نیٹ امتحان میں پرچہ لیک اور مبینہ گھوٹالے پر بات کرنے کی اجازت دی ہے۔ یہ لاکھوں طلبہ کے مستقبل کا معاملہ ہے۔ اس مسئلے پر ہزاروں طلبہ جنتر منتر پر جمع ہیں، جہاں ان پر لاٹھی چارج کیا گیا۔
حکومت طاقت کے ذریعے ان کی آواز دبانے اور انہیں وہاں سے ہٹانے کی کوشش کر رہی ہے۔" اس کے بعد راجیہ سبھا کے چیئرمین سی پی رادھا کرشنن نے ایوان کی کارروائی دوپہر 12 بجے تک ملتوی کر دی۔ پارلیمنٹ کا مانسون اجلاس پیر سے شروع ہوا ہے اور 13 اگست تک جاری رہے گا۔
اس دوران حکومت اور اپوزیشن کے درمیان مختلف معاملات پر سخت بحث ہونے کا امکان ہے۔ سپریم کورٹ (ججوں کی تعداد) ترمیمی بل، 2026 کے علاوہ حکومت راجیہ سبھا میں قومی اعزاز کی توہین کی روک تھام (ترمیمی) بل، 2026 بھی پیش کرے گی۔ اس مجوزہ قانون کے تحت قومی نغمہ "وندے ماترم" میں کسی بھی قسم کی رکاوٹ یا اس کی توہین کو قابلِ سزا جرم بنانے کی تجویز ہے۔ دوسری جانب اپوزیشن نے اشارہ دیا ہے کہ وہ اجلاس کے دوران نیٹ-یو جی 2026 پرچہ لیک، ایودھیا کے شری رام جنم بھومی تیرتھ ٹرسٹ میں مبینہ چندہ خرد برد اور دیگر اہم مسائل پر بحث کا مطالبہ کرے گی۔