پٹنہ: بہار میں کھلے عام گوشت فروخت کرنے پر سخت کارروائی ہوگی۔ محکمہ شہری ترقی و رہائش نے اس سلسلے میں سخت ضابطے جاری کیے ہیں۔ ان ضابطوں کے تحت تمام دکانداروں کے لیے لائسنس لینا لازمی ہوگا۔ اس کے ساتھ ہی کھلے میں گوشت بیچنے پر کارروائی کی جائے گی۔ قواعد کی خلاف ورزی کی صورت میں 5,000 روپے تک جرمانہ بھی عائد کیا جا سکتا ہے۔
محکمہ کی جانب سے رہنما ہدایات جاری کر دی گئی ہیں۔ محکمہ شہری ترقی و رہائش کے وزیر وجے کمار سنہا نے گزشتہ پیر (16 فروری 2026) کو سخت الفاظ میں کارروائی کی تنبیہ کی۔ انہوں نے کہا، کھلے میں گوشت کی فروخت نہیں ہوگی۔ صرف لائسنس یافتہ افراد ہی گوشت بیچ سکیں گے۔ گوشت فروشوں کو تمام قواعد پر عمل کرنا ہوگا۔
عوامی صحت اور نظم و ضبط برقرار رکھنے کے لیے یہ فیصلہ ضروری ہے۔کھلے میں گوشت فروخت کرنے پر پہلے سے پابندی موجود ہے، لیکن اس پر سختی سے عمل درآمد نہیں کیا جا رہا تھا۔ دکاندار سڑک کنارے یا بازاروں میں کھلے عام گوشت فروخت کر رہے ہیں۔ دوسری جانب دیکھا جائے تو مٹن، مچھلی اور چکن فروخت کرنے والوں کی اکثریت کے پاس لائسنس موجود نہیں ہے۔
میونسپل کارپوریشن یا بعض میونسپل کونسل علاقوں کے مرکزی بازاروں میں چند دکانداروں کے پاس ہی لائسنس ہے۔ اب حکومت ایکشن موڈ میں نظر آ رہی ہے۔ نئے ضابطوں کے تحت اب صرف لائسنس یافتہ دکاندار ہی گوشت فروخت کر سکیں گے۔ دکانوں کو پردے یا شیشے سے ڈھانپنا لازمی ہوگا۔ سڑک کنارے یا کھلے میں گوشت لٹکا کر فروخت کرنے پر پابندی عائد کر دی گئی ہے۔
یہ بھی ہدایت دی گئی ہے کہ گوشت فروخت کرنے کے لیے باقاعدہ لائسنس لینا ضروری ہوگا۔ باہر سے نظر نہ آنے کے لیے کالے شیشے لگانے کی ہدایت دی گئی ہے۔ دکانیں اسکولوں یا مذہبی مقامات کے قریب نہیں کھولی جا سکیں گی۔ ان ضابطوں کی خلاف ورزی کی صورت میں دکان بند کر دی جائے گی اور 5,000 روپے تک جرمانہ بھی عائد کیا جا سکتا ہے۔ دکانداروں کو کچرا جمع کر کے رکھنا ہوگا تاکہ میونسپل کارپوریشن کی گاڑی اسے اٹھا سکے۔ یہ فیصلہ صحت، صفائی اور عوامی جذبات کو مدنظر رکھتے ہوئے لیا گیا ہے۔