نئی دہلی: ہندوستان کی سپریم کورٹ نے منگل کو ہدایت دی کہ دھار میں واقع متنازع بھوج شالہ کمپلیکس کے قریب مسلم برادری کو جمعہ کے روز دوپہر ایک بجے سے تین بجے کے درمیان نماز ادا کرنے کے لیے الگ کھلی جگہ فراہم کی جائے۔ چیف جسٹس سوریہ کانت، جسٹس جوئمالیہ باغچی اور جسٹس وی موہنا پر مشتمل بنچ نے واضح کیا کہ مسلم برادری کے لیے یہ انتظام صرف عبوری (ایڈہاک) نوعیت کا ہوگا اور اس کا انحصار اس معاملے میں زیرِ التوا درخواستوں کے حتمی فیصلے پر ہوگا۔
سپریم کورٹ نے یہ بھی حکم دیا کہ آرکیالوجیکل سروے آف انڈیا (اے ایس آئی) عدالت کی اجازت کے بغیر متنازع کمپلیکس میں کسی قسم کی ساختی تبدیلی نہیں کرے گا۔ عدالت نے بھوج شالہ تنازع کو نہایت حساس معاملہ قرار دیتے ہوئے ہندو اور مسلم دونوں فریقوں سے صبر و تحمل کا مظاہرہ کرنے کی اپیل کی۔ عدالت نے کہا کہ وہ اس معاملے کی روزانہ سماعت کرنے اور تنازع کے حل کے لیے تیار ہے۔
سپریم کورٹ مدھیہ پردیش ہائی کورٹ کے اس فیصلے کے خلاف دائر درخواستوں کی سماعت کر رہی تھی، جس میں کہا گیا تھا کہ ضلع دھار میں واقع متنازع بھوج شالہ کمپلیکس دیوی سرسوتی کا مندر ہے۔ عدالت نے کہا کہ اسے اپنے ہر لفظ کے استعمال میں غیر معمولی احتیاط برتنی ہوگی۔ چیف جسٹس نے زبانی ریمارکس میں کہا، ’’یہ انتہائی حساس نوعیت کے معاملات ہیں۔
عدالت میں کہی گئی کوئی بھی بات غیر ضروری تنازع پیدا کر سکتی ہے یا غلط پیغام دے سکتی ہے، اس لیے ہمیں ہر لفظ سوچ سمجھ کر استعمال کرنا ہوگا۔‘‘ انہوں نے مزید کہا، ’’عبوری انتظام سے متعلق یہ معاملہ پہلی بار ہمارے سامنے آیا ہے۔ ہم ہائی کورٹ کے حکم اور امن و امان برقرار رکھنے میں ریاستی حکومت کو درپیش مشکلات کو بھی مدنظر رکھ رہے ہیں۔ ہماری رائے ہے کہ اس معاملے کو 10 سے 15 دن کے اندر مناسب بنچ کے سامنے سماعت کے لیے درج کیا جائے۔‘‘
اس سے قبل مسلم فریق کی جانب سے سینئر وکیل حذیفہ احمدی اور وکیل نظام پاشا نے پیر کو بنچ سے اس معاملے کی فوری سماعت کی درخواست کی تھی۔ اس پر چیف جسٹس نے درخواست گزاروں کے وکلا سے کہا تھا کہ وہ درخواستوں میں موجود خامیوں کو دور کریں، جس کے بعد مقدمے کو جلد سماعت کے لیے کسی مناسب بنچ کے سامنے درج کر دیا جائے گا۔
مدھیہ پردیش ہائی کورٹ نے 15 مئی کے اپنے فیصلے میں قرار دیا تھا کہ ضلع دھار کا متنازع بھوج شالہ-کمال مولا مسجد کمپلیکس دیوی سرسوتی کے نام وقف ایک مندر ہے۔ عدالت نے آرکیالوجیکل سروے آف انڈیا کے کئی دہائیوں پرانے اس حکم کو بھی منسوخ کر دیا تھا، جس کے تحت مسلم برادری کو اس کمپلیکس میں جمعہ کی نماز ادا کرنے کی اجازت حاصل تھی۔