نئی دہلی: سپریم کورٹ نے جمعہ کے روز مسلم فریق کی اس درخواست پر 29 جولائی کو سماعت کرنے پر رضامندی ظاہر کی، جس میں کہا گیا ہے کہ مدھیہ پردیش حکومت کی جانب سے نماز کے لیے مختص کی گئی متبادل جگہ دھار کے متنازع بھوج شالا احاطے سے کافی دور ہے۔
مسلم فریق نے عدالت سے درخواست کی ہے کہ جمعہ کی نماز کے لیے بھوج شالا احاطے کے قریب مناسب جگہ فراہم کی جائے۔ 22 جولائی کو چیف جسٹس سوریہ کانت کی سربراہی والی بنچ نے یقین دہانی کرائی تھی کہ درخواست کو جمعہ کے روز سماعت کے لیے فہرست میں شامل کیا جائے گا۔
تاہم سینئر وکیل حذیفہ احمدی نے دن کی کارروائی کے اختتام پر معاملے کا ذکر کرتے ہوئے کہا کہ یہ مقدمہ فہرست میں شامل نہیں کیا گیا۔ احمدی نے الزام لگایا کہ ریاستی حکومت کے افسران نماز کی ادائیگی کے لیے قریبی جگہ مختص نہیں کر رہے، جس کے باعث دو جمعوں کی نماز پہلے ہی چھوٹ چکی ہے۔ ان کے مطابق حکومت کی جانب سے دی گئی جگہ سڑک کے راستے تقریباً 1.3 کلومیٹر دور ہے۔
ریاستی حکومت کی جانب سے پیش ہونے والے سالیسٹر جنرل تشار مہتا نے اس دعوے کی مخالفت کرتے ہوئے کہا کہ متبادل جگہ صرف 900 میٹر کے فاصلے پر ہے۔ اس پر احمدی نے کہا، ’’ہمارے پاس ہیلی کاپٹر نہیں ہیں، سڑک کے راستے یہ فاصلہ 1.3 کلومیٹر بنتا ہے۔ ہمیشہ عدالت کے احکامات پر مکمل عمل درآمد سے گریز کیا جاتا ہے۔‘
‘ تشار مہتا نے جواب دیا، ’’میں جذبات میں بہہ کر بات نہیں کر سکتا۔‘‘ چیف جسٹس نے ہدایت دی کہ عبوری درخواست کو 29 جولائی کو سماعت کے لیے درج کیا جائے۔ قابلِ ذکر ہے کہ 14 جولائی کو سپریم کورٹ نے مدھیہ پردیش حکومت کو ہدایت دی تھی کہ جب تک مقدمے کا حتمی فیصلہ نہیں ہو جاتا، ہر جمعہ دوپہر ایک بجے سے تین بجے تک متنازع بھوج شالا احاطے کے قریب کسی کھلی جگہ پر نماز ادا کرنے کی سہولت فراہم کی جائے۔ یہ ہدایت مدھیہ پردیش ہائی کورٹ کے اس فیصلے کے خلاف مسلم فریق کی اپیلوں کی سماعت کے دوران دی گئی تھی، جس میں بھوج شالا کو دیوی سرسوتی کا مندر قرار دیا گیا تھا۔