نئی دہلی: مرکزی وزیر تعلیم پرہلاد جوشی نے ہفتہ کو حکومت ہند کی اہم پہل ’بھارت انوویٹس‘ کو اجاگر کرتے ہوئے کہا کہ یہ پروگرام ہندوستان کے اعلیٰ تعلیمی اور تحقیقی اداروں میں ہونے والی اختراعات کو عالمی سطح تک پہنچانے کے لیے ایک اہم پل کا کام کررہا ہے۔ میڈیا سے بات کرتے ہوئے جوشی نے برکس 2026 کی تقریبات کے ساتھ منعقد ہونے والی ’بھارت انوویٹس‘ نمائش میں موجود مندوبین اور معزز شخصیات کا خیرمقدم کیا۔ انہوں نے کہا کہ اس اہم پروگرام کا مقصد اعلیٰ تعلیم اور تحقیق کے اداروں میں ہونے والی نئی دریافتوں اور اختراعات کو بین الاقوامی سطح تک پہنچانا ہے۔
انہوں نے کہا، ’’برکس 2026 میں بھارت انوویٹس نمائش میں آپ سب کا خیرمقدم کرنا میرے لیے باعث فخر ہے۔ بھارت انوویٹس حکومت ہند کی ایک اہم پہل ہے، جس کا مقصد اعلیٰ تعلیمی اور تحقیقی اداروں سے سامنے آنے والی اختراعات کو دنیا تک پہنچانا ہے۔‘‘ ہندوستان کی برکس کی صدارت کے دوران جاری کوششوں کا ذکر کرتے ہوئے وزیر تعلیم نے کہا کہ ملک بین الاقوامی سطح پر مضبوط اور پائیدار تعاون کو فروغ دینے کے لیے پرعزم ہے۔
ملک میں ٹیکنالوجی کے شعبے کی مسلسل ترقی کا سہرا سیاسی قیادت کو دیتے ہوئے جوشی نے کہا، ’’وزیر اعظم نریندر مودی کی دوراندیش قیادت میں ہندوستان کے اختراعی نظام نے تیزی سے ترقی کی ہے۔ بھارت انوویٹس کا سفر بھی عالمی سطح پر اپنا اثر قائم کرچکا ہے اور ہندوستان کی صلاحیتوں کو دنیا کے سامنے پیش کررہا ہے۔‘‘ انہوں نے کہا کہ ہندوستان تحقیق، اختراع اور کاروباری سرگرمیوں میں سرحد پار تعاون کو مضبوط بنانے کے لیے پرعزم ہے۔ ان کوششوں کے ذریعے لیبارٹریوں میں پیدا ہونے والے خیالات کو بازار تک اور ہندوستان کی صلاحیتوں کو دنیا تک پہنچایا جارہا ہے۔
جوشی نے کہا، ’’ہندوستان کی برکس صدارت کے دوران ہم تحقیق، اختراع اور کاروبار کے شعبوں میں مضبوط شراکت داری قائم کرنے کے لیے پرعزم ہیں، تاکہ لیبارٹری سے بازار تک اور ہندوستان سے دنیا تک کا سفر جاری رہے۔‘‘ دریں اثنا، قومی راجدھانی میں 12 اور 13 ستمبر کو ہونے والے 18ویں برکس سربراہی اجلاس کے پیش نظر بھارت منڈپم میں سخت حفاظتی انتظامات کیے گئے ہیں۔ سکیورٹی کے لیے ڈاگ اسکواڈ سمیت مختلف ٹیمیں تعینات کی گئی ہیں۔
دہلی پولیس نے تقریب کی سکیورٹی کے لیے تقریباً 15 ہزار اہلکار تعینات کیے ہیں، جبکہ نیم فوجی دستوں کی تقریباً 200 کمپنیاں بھی سکیورٹی انتظامات میں شامل کی گئی ہیں۔ دہلی پولیس کے خصوصی کمشنر برائے سکیورٹی منیش اگروال نے جمعہ کو بتایا، ’’دہلی پولیس نے ان انتظامات کے لیے 15 ہزار سے زیادہ اہلکار تعینات کیے ہیں۔ وزارت داخلہ نے ہمیں تقریباً 200 سی اے پی ایف کمپنیاں فراہم کی ہیں، جنہیں امن و قانون برقرار رکھنے اور دیگر عملی ذمہ داریوں کے لیے تعینات کیا جارہا ہے۔‘‘ اس سال برکس سربراہی اجلاس کا موضوع ’’اختراع، تعاون اور پائیدار ترقی کے لیے مضبوطی پیدا کرنا‘‘ ہے۔
ہندوستان برکس کا بانی رکن ہے اور اس سے پہلے 2012، 2016 اور 2021 میں اس گروپ کی صدارت کرچکا ہے۔ برکس بڑی ابھرتی ہوئی معیشتوں کے درمیان تعاون اور عالمی اداروں میں گلوبل ساؤتھ کے مفادات کو آگے بڑھانے کے لیے ایک اہم پلیٹ فارم بن چکا ہے۔ اس کے ایجنڈے میں ترقی، مالیات، ٹیکنالوجی، تجارت اور عوامی سطح پر تبادلے جیسے موضوعات شامل ہیں۔ اس وقت برکس میں 11 ممالک شامل ہیں، جن میں برازیل، چین، مصر، ایتھوپیا، ہندوستان، انڈونیشیا، ایران، روس، سعودی عرب، جنوبی افریقہ اور متحدہ عرب امارات شامل ہیں۔
ہندوستان کی برکس صدارت ایسے وقت میں ہورہی ہے جب دنیا کو معاشی تقسیم، تکنیکی تبدیلی، جغرافیائی سیاسی غیر یقینی، موسمیاتی تبدیلی اور وسائل پر بڑھتے دباؤ جیسے چیلنجز کا سامنا ہے۔ برکس کی توسیع سے ترقی، موسمیاتی اقدامات، ٹیکنالوجی، توانائی اور مالیاتی مضبوطی کے شعبوں میں تعاون کے نئے مواقع پیدا ہوئے ہیں۔ اس کے ساتھ ہی عالمی اداروں میں اصلاحات سے متعلق بحث میں بھی یہ گروپ اہم کردار ادا کررہا ہے۔
ایک روز قبل وزیر اعظم نریندر مودی نے کہا تھا کہ عالمی تجارت اسی وقت آگے بڑھ سکتی ہے جب سمندری راستے محفوظ ہوں، سپلائی کے راستے کھلے رہیں اور سمندری عملہ محفوظ ہو۔ انہوں نے کہا تھا کہ ہندوستان سمندری آمدورفت کی آزادی اور سمندری عملے کی سلامتی کا مضبوط حامی ہے۔ ہفتہ کو برکس سربراہی اجلاس کے باضابطہ آغاز سے قبل برکس بزنس فورم 2026 سے خطاب کرتے ہوئے وزیر اعظم مودی نے کہا کہ برکس ممالک دنیا کی تقریباً 50 فیصد آبادی، 40 فیصد عالمی جی ڈی پی اور 25 فیصد سے زیادہ عالمی تجارت کی نمائندگی کرتے ہیں۔