کولکاتا: مغربی بنگال میں اسمبلی انتخابات کے دوسرے اور آخری مرحلے میں چھٹپٹ تشدد کے درمیان شام پانچ بجے تک تقریباً 3.21 کروڑ ووٹروں میں سے قریب اکیانوے اعشاریہ باسٹھ فیصد نے ووٹ ڈالے ہیں ۔ الیکشن کمیشن آف انڈیا کے مطابق شام سات بج کر تیس منٹ تک کے اعداد و شمار میں ضلع پوربا بردھمان ترانوے اعشاریہ اڑتالیس فیصد کے ساتھ سرفہرست رہا جبکہ جنوبی چوبیس پرگنہ اکیانوے اعشاریہ تہتر فیصد شمالی چوبیس پرگنہ اکیانوے اعشاریہ ستر فیصد ہوگلی اکیانوے اعشاریہ پچاس فیصد ندیہ اکیانوے اعشاریہ پینتالیس فیصد اور ہاوڑہ اکیانوے اعشاریہ سترہ فیصد کے ساتھ اس کے قریب رہے۔
بھوانی پور اسمبلی حلقے میں کچھ دیر کے لیے کشیدگی کا ماحول دیکھا گیا جب وزیر اعلیٰ ممتا بنرجی اور بی جے پی کے شوبھیندو ادھیکاری، جو اس باوقار نشست پر انتخاب لڑ رہے تھے، ایک ہی پولنگ بوتھ کے علاقے میں پہنچے اور ایک دوسرے پر سخت الزامات عائد کیے۔ شام پانچ بجے تک ریاست میں 89.99 فیصد ووٹنگ درج کی گئی۔ مشرقی بردھمان میں سب سے زیادہ 92.46 فیصد ووٹنگ ہوئی، اس کے بعد ہوگلی میں 90.34 فیصد رہی۔
نادیہ میں 90.28 فیصد، شمالی 24 پرگنہ میں 89.74 فیصد، جنوبی 24 پرگنہ میں 89.57 فیصد، ہاوڑہ میں 89.44 فیصد، شمالی کولکاتا میں 87.77 فیصد اور جنوبی کولکاتا میں 86.11 فیصد ووٹنگ ریکارڈ کی گئی۔ شام چھ بجے تک ووٹنگ جاری رہی۔ سیاسی مبصرین کا کہنا ہے کہ حتمی ووٹنگ کا فیصد پہلے مرحلے کے ریکارڈ 93.19 فیصد کے قریب پہنچ سکتا ہے یا اسے عبور کر سکتا ہے۔
کولکاتا کے بھوانی پور اور جنوبی 24 پرگنہ کے بسنتی سے لے کر نادیہ کے چھپرا اور ہاوڑہ کے بَلی تک، پورے دن مغربی بنگال کے مانوس انتخابی منظرنامے کے مطابق ماحول رہا — پولنگ مراکز پر لمبی قطاریں، بوتھ سطح پر جھڑپیں اور سیاسی کشمکش۔ ان سب کے درمیان یہ دیکھنا باقی ہے کہ حکومت مخالف لہر اور ووٹر لسٹ میں تبدیلیاں ریاستی سیکریٹریٹ نبنّا میں اقتدار کے توازن کو متاثر کرتی ہیں یا نہیں۔ اس مرحلے میں جن 142 نشستوں پر ووٹنگ ہو رہی ہے، ان میں سے 123 نشستیں حکمراں جماعت نے 2021 کے انتخابات میں جیتی تھیں۔
#WATCH | South 24 Parganas | EVMs are being sealed by polling officials as the voting for the second phase of the #WestBengalLegislativeAssemblyelection2026 concludes; Visuals from a polling booth in Bhangar Assembly constituency
— ANI (@ANI) April 29, 2026
As of 5 pm, the approximate voter turnout of… pic.twitter.com/Zpd2UMzRvb
چیف الیکشن کمشنر گیانیش کمار نے ووٹروں کی بھرپور شرکت کو سراہتے ہوئے کہا کہ آزادی کے بعد سے مغربی بنگال میں پہلے اور دوسرے دونوں مرحلوں میں سب سے زیادہ ووٹنگ ریکارڈ کی گئی ہے اور یہ جمہوری عمل کا ایک قابل فخر مظہر ہے۔ پہلے مرحلے میں بھی تئیس اپریل کو اکیانوے اعشاریہ اٹھہتر فیصد ووٹنگ ریکارڈ کی گئی تھی جو عوامی شمولیت کی مضبوط علامت ہے۔
ریاست میں اصل مقابلہ حکمراں ترنمول کانگریس اور بھارتیہ جنتا پارٹی کے درمیان دیکھا جا رہا ہے۔ دوسرا مرحلہ ترنمول کانگریس کے لیے ایک کسوٹی کی حیثیت رکھتا ہے کیونکہ ووٹنگ اس کے روایتی مضبوط علاقوں جنوبی بنگال اور کولکاتا میں ہوئی ہے۔ اس مرحلے میں ریاست کی کل دو سو چورانوے نشستوں میں سے ایک سو بیالیس نشستیں شامل ہیں۔
اس مرحلے میں دو کروڑ بائیس لاکھ سے زائد ووٹرز ووٹ ڈالنے کے اہل تھے جن میں ایک کروڑ چونسٹھ لاکھ سے زیادہ مرد اور ایک کروڑ ستاون لاکھ سے زائد خواتین شامل تھیں۔ اہم مقابلوں میں بھابانی پور اور ٹالی گنج کی نشستیں خاص طور پر توجہ کا مرکز رہیں۔ دو ہزار اکیس کے انتخابات میں ترنمول کانگریس نے انہی ایک سو بیالیس نشستوں میں سے ایک سو تئیس پر کامیابی حاصل کی تھی۔ بی جے پی کے لیے یہ مرحلہ شہری متوسط طبقے اور ماتوآ برادری میں اپنی جگہ بنانے کی کوشش ہے جبکہ ترنمول کانگریس کے لیے یہ اپنی برتری برقرار رکھتے ہوئے ممتا بنرجی کی قیادت میں مسلسل چوتھی بار حکومت بنانے کی جدوجہد ہے۔ ووٹوں کی گنتی چار مئی کو ہوگی۔
کولکاتا، ہاوڑہ، ہوگلی، نادیہ، شمالی اور جنوبی 24 پرگنہ اور مشرقی بردھمان کے اس خطے میں مضبوط گرفت کے بغیر بی جے پی کے لیے حکومت بنانا ممکن نہیں ہے۔ ووٹنگ صبح سات بجے شروع ہوئی اور کولکاتا، ہاوڑہ، شمالی و جنوبی 24 پرگنہ، نادیہ، ہوگلی اور مشرقی بردھمان کے اضلاع میں پولنگ مراکز کے باہر ووٹروں کی لمبی قطاریں دیکھنے میں آئیں۔ یہ علاقے بنگال کی انتخابی سیاست کا مرکز سمجھے جاتے ہیں۔ اس مرحلے میں ووٹنگ کے اہل کل ووٹروں میں سے 1.57 کروڑ خواتین ہیں اور 792 ٹرانسجینڈر ووٹرز شامل ہیں۔ ترنمول کانگریس نے ووٹنگ کو اس بات کا ثبوت قرار دیا کہ اس کی فلاحی پالیسیاں اور ممتا بنرجی کی جنوبی بنگال پر گرفت برقرار ہے۔
اس کے برعکس، بی جے پی نے اسے اس بات کا اشارہ بتایا کہ مبینہ بدعنوانی، بھرتی گھوٹالوں، قانون و انتظام سے متعلق خدشات اور حکومت مخالف لہر کے خلاف عوامی غصہ خاموش طور پر حکمراں جماعت کے خلاف منظم ہو رہا ہے۔ ایک انتخابی افسر نے کہا، "کچھ علاقوں میں معمولی واقعات کے علاوہ ووٹنگ پرامن طریقے سے جاری ہے۔ ہم نے متعلقہ حکام سے رپورٹ طلب کی ہے۔" چکربیریا میں ایک ہی بوتھ کے علاقے میں بنرجی اور ادھیکاری کی صبح سویرے آمد نے وزیر اعلیٰ کے انتخابی گڑھ بھوانی پور کو مرکزِ نگاہ بنا دیا۔ اس سے اس وقار کی لڑائی کی علامتی اہمیت مزید بڑھ گئی، جسے پچھلے اسمبلی انتخابات میں نندیگرام نشست پر ہونے والے مقابلے کی تکرار کے طور پر دیکھا جا رہا ہے، جہاں 2021 میں بی جے پی کے رہنما نے انہیں شکست دی تھی