کولکاتا: مغربی بنگال حکومت نے جمعہ کے روز ایک نوٹیفکیشن جاری کرتے ہوئے گرام پنچایتوں کے پردھانوں اور شہری بلدیاتی اداروں کے صدور سے پیدائش اور وفات کے اندراج کا اختیار واپس لے لیا۔ اب یہ ذمہ داری ضلع مجسٹریٹ (ڈی ایم)، محکمۂ صحت کے نوڈل افسران اور سرکاری اسپتالوں کے سربراہان کو سونپ دی گئی ہے۔
یہ نوٹیفکیشن چیف سکریٹری منوج کمار اگروال کے اس اعلان کے ایک دن بعد جاری کیا گیا، جس میں کہا گیا تھا کہ دیہی اور شہری بلدیاتی اداروں کے منتخب نمائندوں کو اب پیدائش اور وفات کے سرٹیفکیٹ جاری کرنے کا اختیار حاصل نہیں ہوگا۔ اگروال نے جمعرات کو کہا تھا کہ اب صرف مجاز سرکاری افسران ہی پیدائش اور وفات کے سرٹیفکیٹ جاری کریں گے۔
ان کے مطابق یہ اختیار منتخب عوامی نمائندوں سے اس لیے واپس لیا گیا کیونکہ ایسے سرٹیفکیٹ جاری کرنے میں بڑے پیمانے پر بے ضابطگیاں سامنے آئی تھیں، خاص طور پر ووٹر فہرست کی خصوصی جامع نظرثانی (SIR) کے دوران متعدد بے قاعدگیوں کا انکشاف ہوا تھا۔
دریں اثنا، وزیراعلیٰ شبھیندو ادھیکاری نے سوشل میڈیا پلیٹ فارم ایکس پر ایک پوسٹ میں کہا کہ ان کی حکومت مغربی بنگال کے ہر شہری کے لیے عوامی انتظامیہ کو زیادہ شفاف، جوابدہ اور قابلِ رسائی بنانے کے لیے مسلسل کام کر رہی ہے۔ انہوں نے کہا کہ عوامی خدمات کی فراہمی کو مزید بہتر بنانے کے مقصد سے ریاست بھر میں پیدائش اور وفات کے اندراج کے نظام میں اہم ساختی اصلاحات کی گئی ہیں۔