بردوان (مغربی بنگال): مغربی بنگال کے ضلع مشرقی بردوان سے پولیس نے کالعدم دہشت گرد تنظیم جیشِ محمد (JeM) کے ایک مبینہ رکن کو گرفتار کیا ہے۔ پولیس ذرائع کے مطابق تفتیشی ایجنسیاں اس کے کسی بڑے دہشت گرد نیٹ ورک سے ممکنہ روابط کی بھی جانچ کر رہی ہیں۔ ریاستی پولیس کی اسپیشل ٹاسک فورس (STF) نے حامد منڈل کو جمعرات کی دیر رات بردوان شہر کے ایک رہائشی کمپلیکس میں واقع کرائے کے فلیٹ سے گرفتار کیا۔
پولیس کے مطابق حامد منڈل گزشتہ دو سے تین ماہ سے اس فلیٹ میں مقیم تھا تاکہ قانون نافذ کرنے والے اداروں کی نظروں سے بچا رہے۔ پولیس نے بتایا کہ اس کے موبائل فون اور دیگر دستاویزات سے ایسے شواہد ملے ہیں جن سے اشارہ ملتا ہے کہ وہ وزیر اعلیٰ شویندو ادھیکاری سے متعلق معلومات جمع کر رہا تھا۔
تفتیشی ایجنسیاں یہ بھی معلوم کرنے کی کوشش کر رہی ہیں کہ آیا وہ کسی حملے کی منصوبہ بندی کر رہا تھا یا نہیں۔ پولیس کا کہنا ہے کہ حامد منڈل کے پاکستان میں قائم کالعدم دہشت گرد تنظیم جیشِ محمد سے روابط ہونے کا شبہ ہے۔ اسے سجاد بھٹ کا قریبی ساتھی بھی بتایا جا رہا ہے، جسے 2019 کے پلوامہ دہشت گرد حملے کے مبینہ اہم سازش کاروں میں شمار کیا جاتا ہے۔ واضح رہے کہ 14 فروری 2019 کو پلوامہ میں جیشِ محمد کے ایک خودکش حملہ آور نے بارود سے بھری گاڑی سی آر پی ایف کے اہلکاروں کو لے جانے والی بس سے ٹکرا دی تھی، جس میں 40 اہلکار شہید ہوئے تھے۔
گرفتار ملزم کو جمعہ کے روز بردوان کی ایک عدالت میں پیش کیا گیا۔ دوسری جانب، پڑوسی فلیٹ مالکان کا کہنا ہے کہ حامد منڈل گزشتہ تقریباً ڈیڑھ سال سے اپنے خاندان کے ساتھ کرائے کے اس فلیٹ میں رہ رہا تھا، جو پولیس کے ابتدائی بیان سے مختلف دعویٰ ہے۔
ادھر بھارتیہ جنتا پارٹی (بی جے پی) کے ترجمان دیب جیت سرکار نے الزام لگایا کہ بائیں محاذ کی 34 سالہ حکومت اور ترنمول کانگریس کے 15 سالہ دورِ حکومت میں مغربی بنگال انتہا پسند اسلامی تنظیموں کے لیے ایک "محفوظ راہداری" بنا رہا۔ انہوں نے دعویٰ کیا کہ ریاست کے سیاسی ماحول میں تبدیلی آنے کے بعد دہشت گرد تنظیمیں اب مغربی بنگال کو محفوظ پناہ گاہ نہیں سمجھتیں اور وہ ان رہنماؤں کو نشانہ بنانے کی کوشش کر رہی ہیں جنہوں نے انتہا پسند سرگرمیوں کے خلاف سخت موقف اختیار کیا ہے۔