رام نومی پر ملک بھر میں ہندو مسلم اتحاد کے خوبصورت نظارے

Story by  ATV | Posted by  [email protected] | Date 30-03-2026
رام نومی پر ملک بھر میں ہندو مسلم اتحاد کے خوبصورت نظارے
رام نومی پر ملک بھر میں ہندو مسلم اتحاد کے خوبصورت نظارے

 



 آواز دی وائس نئی دہلی

ملک بھر میں رام نومی کے جلوسوں میں فرقہ وارانہ ہم آہنگی، کے نظارے دیکھنے کو ملے، جب رام نامی کے جلوسوں پر مسلمانوں نے پھول نچھاور کیے اور جگہ بہ جگہ  جلوسوں کا استقبال کیا - کہیں شربت پلایا گیا اور کہیں پانی، 

 مدھیہ پردیش کے شہر کھرگون میں جو کبھی فرقہ وارانہ فسادات کے لیے جانا جاتا تھا جمعرات کے روز سماجی ہم آہنگی کی ایک خوبصورت مثال دیکھنے کو ملی جب مسلمانوں نے رگھوونشی برادری کی جانب سے نکالی گئی رام نومی کی شوبھا یاترا پر پھولوں کی بارش کی۔

جلوس جب مسلم اکثریتی علاقوں سے گزرا تو مقامی مسلمان اپنے گھروں سے باہر نکل آئے اور جلوس کا خیر مقدم کرتے ہوئے اس پر پھول نچھاور کیے۔ منتظمین میں شامل پون رگھوونشی کے مطابق کئی مقامات پر لوگوں نے گھروں کی چھتوں سے بھی پھول برسائے۔

انہوں نے مزید بتایا کہ مسلم برادری کے افراد نے جلوس میں شامل لوگوں کے لیے مختلف مقامات پر مٹھائیوں کا بھی اہتمام کیا۔ اس طرح یہ جلوس بھائی چارے اور فرقہ وارانہ ہم آہنگی کی ایک نمایاں مثال بن کر سامنے آیا۔

یہ بات قابل ذکر ہے کہ کھرگون میں ماضی میں خاص طور پر رام نومی کے موقع پر کشیدگی اور فسادات دیکھنے کو ملتے رہے ہیں۔ 10 اپریل 2022 کو رام نومی کے جلوس پر حملے کے بعد شہر میں شدید فسادات پھوٹ پڑے تھے جن میں دکانیں مکانات اور گاڑیاں جلادی گئی تھیں اور ایک شخص کی جان بھی گئی تھی جبکہ حالات کو قابو میں آنے میں تقریباً ایک ہفتہ لگ گیا تھا۔

بعد ازاں شہر میں ہندو اور مسلم آبادیوں کو الگ کرنے کے لیے ایک بڑی دیوار بھی تعمیر کی گئی تھی جسے بعض حلقوں نے تنقید کا نشانہ بناتے ہوئے تقسیم کی دیوار قرار دیا تھا۔

آج اسی کھرگون شہر میں رام نومی کے موقع پر سامنے آنے والا یہ منظر اس بات کا ثبوت ہے کہ سماجی ہم آہنگی اور بھائی چارہ ممکن ہے اور اس سے شہر کے لیے ایک مثبت پیغام جاتا ہے۔

جب جنازے کو دیکھ کر رام نومی  جلوس میں میوزک رک گئی

بہار اور جھارکھنڈ میں بھائی چارے کی مثالیں

بہار اور جھارکھنڈ جیسے علاقوں سے اکثر تہواروں کے دوران کشیدگی کی خبریں آتی رہی ہیں لیکن اس بار یہاں محبت اور بھائی چارے کا ماحول دیکھنے کو ملا۔ سیوان کٹیہار اور جہان آباد سے لے کر رانچی تک ہر جگہ ہندو مسلم یکجہتی کی خوبصورت مثالیں سامنے آئیں۔

سیوان میں رگھوناتھ پور کے رکن اسمبلی اسامہ شہاب نے رام نومی جلوس کے دوران شہر بھر میں پانی اور چائے کے اسٹال لگوا کر ایک مثبت مثال قائم کی۔ یہ اقدام صرف رسمی نہیں بلکہ اس روایت کی یاد دہانی تھا جس میں ایک دوسرے کے تہوار کو اپنا سمجھا جاتا ہے۔ دیگر علاقوں میں بھی مسلم برادری نے جلوسوں کا استقبال کیا اور کئی مقامات پر نوجوانوں نے انتظامات میں بھرپور حصہ لیا۔

رانچی کی تصویر نے جیتا دل

رانچی سے ایک ایسی تصویر سامنے آئی جس نے سب کے دل جیت لیے۔ ایک مسلمان باپ نے اپنے بچے کو شری رام کے روپ میں تیار کر کے جلوس میں شامل کیا۔ یہ منظر اس بات کی دلیل تھا کہ بھارتی معاشرے میں ثقافتی ہم آہنگی مذہبی فرق سے بالاتر ہے۔

اسی شہر میں مسلم نوجوانوں نے جلوس کے دوران روایتی مارشل آرٹ گتکا کا مظاہرہ کیا جبکہ ایک مولانا کی تلوار بازی کی ویڈیو بھی خوب وائرل ہوئی جسے ہندو برادری نے بھرپور داد دی۔ یہ سب اس بات کا ثبوت ہے کہ ثقافت اور فن لوگوں کو جوڑنے کا ذریعہ ہیں۔

بنگال اور مہاراشٹر میں تہذیبی ہم آہنگی

کولکاتا نے ایک بار پھر اپنی گنگا جمنی تہذیب کا ثبوت دیا جہاں رام نومی کے جلوس اور جمعہ کی نماز دونوں پرامن طور پر ادا ہوئے۔ دونوں برادریوں کے درمیان ایسا تال میل تھا کہ کہیں بھی کوئی مسئلہ پیش نہیں آیا۔

مہاراشٹر کے ناگپور میں بھی خوشگوار ماحول دیکھنے کو ملا جہاں ہندو اور مسلم برادری کے افراد نے ایک دوسرے کو گلے لگا کر مبارکباد دی اور مشترکہ طور پر لنگر کا اہتمام کیا جس میں سب نے مل کر کھانا کھایا۔

ڈیجیٹل پلیٹ فارم پر مثبت رجحان

سوشل میڈیا جو اکثر نفرت پھیلانے کا ذریعہ بنتا ہے اس بار یکجہتی کا پیغام دینے کا ذریعہ بن گیا۔ مختلف پلیٹ فارمز پر ایسے ویڈیوز وائرل ہوئے جن میں لوگ ایک دوسرے کے تہوار میں حصہ لیتے اور تعاون کرتے نظر آئے۔ نوجوان نسل نے واضح کر دیا کہ وہ نفرت کے بجائے ہم آہنگی اور ترقی کو ترجیح دیتی ہے۔

محبت اور انسانیت کی جیت

رام نومی 2026 نے ایک مثبت تبدیلی کی نشاندہی کی ہے۔ یہ اس بات کا ثبوت ہے کہ بھارت کی روح آج بھی مضبوط ہے۔ جب دنیا کے کئی حصے جنگ اور نفرت کا شکار ہیں بھارت نے ایک بار پھر امن اور بھائی چارے کا پیغام دیا ہے۔

یہ واقعات محض خبریں نہیں بلکہ ایک ایسے مستقبل کی بنیاد ہیں جہاں مذہب ذاتی عقیدہ ہے اور بھائی چارہ اجتماعی ذمہ داری۔ اس رام نومی نے ثابت کر دیا کہ محبت اور انسانیت کی طاقت ہر طرح کی نفرت پر غالب آ سکتی ہے۔