نئی دہلی: غیر سرکاری تنظیم (این جی او) ’جسٹس آن ٹرائل‘ نے وزیر اعظم نریندر مودی پر بنائی گئی دستاویزی فلم ’انڈیا: دی مودی کوئسچن‘ کے معاملے میں برطانوی براڈکاسٹنگ کارپوریشن (بی بی سی) سے 10 ہزار کروڑ روپے ہرجانہ طلب کرنے والی اپنی درخواست دہلی ہائی کورٹ سے واپس لے لی ہے۔
تنظیم نے الزام لگایا تھا کہ اس دستاویزی فلم سے ملک کی ساکھ کو نقصان پہنچا اور اس میں وزیر اعظم مودی اور ہندوستانی عدلیہ کے خلاف جھوٹے اور ہتک آمیز الزامات لگائے گئے ہیں۔ جسٹس تشار راؤ گیڈیلا نے درخواست گزار کے وکیل کو مقدمہ واپس لینے کی اجازت دیتے ہوئے کہا، ’’اس کے مطابق آئی پی اے 1/2023 اور اس کے ساتھ دائر مقدمے کو مطلوبہ رعایت فراہم کرتے ہوئے واپس لیا ہوا تصور کیا جاتا ہے اور خارج کیا جاتا ہے۔‘‘
عدالت نے یہ حکم 3 ستمبر کو جاری کیا تھا۔ گجرات میں قائم تنظیم ’جسٹس آن ٹرائل‘ کے وکیل نے کہا کہ انہیں ’انڈیجینٹ پرسن ایپلی کیشن‘ (آئی پی اے) اور مقدمہ واپس لینے اور اسی معاملے میں نیا مقدمہ دائر کرنے کی اجازت طلب کرنے کی ہدایت دی گئی تھی۔ این جی او نے آئی پی اے دائر کی تھی، جس کے تحت مالی طور پر کمزور شخص کو مقدمہ دائر کرنے کی اجازت دی جاتی ہے۔
ہائی کورٹ نے اس سے قبل این جی او کی درخواست پر بی بی سی (برطانیہ) اور بی بی سی (ہندوستان) کو نوٹس جاری کیے تھے۔ درخواست میں کہا گیا تھا کہ بی بی سی (برطانیہ) برطانیہ کا قومی نشریاتی ادارہ ہے اور اس نے دو حصوں پر مشتمل دستاویزی فلم ’انڈیا: دی مودی کوئسچن‘ جاری کی تھی، جبکہ بی بی سی (ہندوستان) اس کا مقامی دفتر ہے۔ دستاویزی فلم کے دونوں حصے جنوری 2023 میں نشر کیے گئے تھے۔
درخواست گزار نے وزیر اعظم، حکومت ہند، گجرات حکومت اور ہندوستان کے عوام کی ’’ساکھ اور وقار کو پہنچنے والے نقصان‘‘ کے لیے مدعا علیہان سے این جی او کے حق میں 10 ہزار کروڑ روپے ہرجانہ دلانے کی درخواست کی تھی۔ یہ دستاویزی فلم 2002 کے گجرات فسادات سے متعلق ہے، جب مودی ریاست کے وزیر اعلیٰ تھے۔ حکومت نے دستاویزی فلم جاری ہونے کے کچھ ہی عرصے بعد اس پر پابندی عائد کر دی تھی۔