بابا تاج الدینؒ کا عرس: اتحاد، ہم آہنگی اور امن کا عالمی پیغام

Story by  ATV | Posted by  [email protected] | Date 11-07-2026
بابا تاج الدینؒ کا عرس: اتحاد، ہم آہنگی اور امن کا عالمی پیغام
بابا تاج الدینؒ کا عرس: اتحاد، ہم آہنگی اور امن کا عالمی پیغام

 



ناگپور:حضرت بابا تاج الدین اولیاءؒ کے 104ویں سالانہ عرسِ مبارک کے موقع پر  پہلے روز پرچم کشائی کی روح پرور تقریب میں ایک لاکھ سے زائد عقیدت مندوں نے شرکت کی، جبکہ ہندوستان کے مختلف مذاہب کے روحانی رہنما ناگپور میں ایک پلیٹ فارم پر جمع ہوئے۔ اس اجتماع نے جنگوں، نسل پرستی اور طاقت کے غلط استعمال سے دوچار دنیا کے سامنے ہندوستان کی تہذیبی اور روحانی روایت کا عملی نمونہ پیش کیا۔

ہندوستان کی زندہ روحانی روایات کے حسین امتزاج کا مظاہرہ کرتے ہوئے قومی یکجہتی، اتحاد میں تنوع اور دلوں کی ہم آہنگی کے لیے صوفی بین المذاہب کانفرنس بدھ، 8 جولائی 2026 کو ناگپور میں حضرت بابا تاج الدین اولیاءؒ کی درگاہ کے مقدس احاطے میں منعقد ہوئی۔ یہ کانفرنس حضرت بابا تاج الدین اولیاءؒ کے 104ویں سالانہ عرسِ مبارک کی تقریبات کا اہم حصہ تھی۔

عرسِ مبارک کے پہلے روز کا آغاز شاندار پرچم کشائی کی تقریب سے ہوا، جس کے ساتھ عرس کا باقاعدہ آغاز کیا گیا۔ اس روح پرور منظر کے گواہ ایک لاکھ سے زائد عقیدت مند بنے، جو ہر مذہب اور ہر طبقے سے تعلق رکھتے تھے۔ وہ ناگپور کے اس عظیم صوفی بزرگ کی درگاہ پر عقیدت کے ساتھ جمع ہوئے، جن کا محبت، اخوت اور انسانیت کا پیغام گزشتہ ایک صدی سے ہر برادری کے لوگوں کو اپنی جانب کھینچتا رہا ہے۔اس کانفرنس کا انعقاد بھارتیہ سرو دھرم سنسد کے زیر اہتمام کیا گیا، جس کی قیادت اس کے قومی کنوینر، مہارشی بھرگو پیٹھادھیشور شری گروجی گوسوامی سشیل جی مہاراج نے کی۔

اس پروگرام میں چشتی فاؤنڈیشن، اجمیر شریف کی نمائندگی اس کے گدی نشین حاجی سید سلمان چشتی نے کی، جبکہ میزبانی بابا تاج الدین اولیاء ٹرسٹ نے انجام دی۔ ٹرسٹ کے چیئرمین جناب پیارے ضیا خان، جو مہاراشٹر اسٹیٹ مائنارٹی کمیشن کے چیئرمین بھی ہیں، اور ٹرسٹ کے سیکریٹری جناب تاج احمد نے انتظامات کی نگرانی کی۔

تاریخی اجتماع سے خطاب کرتے ہوئے حاجی سید سلمان چشتی نے کہا کہ "آج جب دنیا جنگوں، نسل پرستی اور ذاتی مفادات کے لیے طاقت اور سیاست کے بے جا استعمال کے باعث انسانی تہذیبی اقدار سے دور ہوتی جا رہی ہے، ایسے وقت میں ہندوستان دنیا کو اپنا ازلی جواب پیش کرتا ہے۔ یہ جواب صوفیائے کرام، گروؤں، یوگیوں اور اولیائے اللہ کی وہ تعلیم ہے جس کا خلاصہ ہے: 'سب سے محبت، کسی سے نفرت نہیں۔'

حضرت بابا تاج الدین اولیاءؒ کی یہ بابرکت درگاہ محض ایک مزار نہیں بلکہ ہم آہنگی کا ایک زندہ درسگاہ ہے، جہاں مختلف مذاہب سے تعلق رکھنے والے ایک لاکھ سے زیادہ دل ایک ساتھ دھڑکتے ہیں۔ یہی دراصل بھارت کی حقیقی روحانی شناخت ہے۔ 

حضرت بابا سید محمد تاج الدین ناگپوریؒ: مختصر سوانح حیات  

ضرت بابا سید محمد تاج الدین ناگپوریؒ برصغیر کے ان جلیل القدر اولیائے کرام میں شمار ہوتے ہیں جنہوں نے اپنی پوری زندگی ذکرِ الٰہی، خدمتِ خلق، محبتِ انسانیت اور روحانی تربیت کے لیے وقف کر دی۔ آپ کی ذاتِ گرامی صدیوں سے لاکھوں انسانوں کے لیے فیض، محبت اور روحانی سکون کا سرچشمہ بنی ہوئی ہے، اور آج بھی آپ کا مزار ہر مذہب، ہر مسلک اور ہر طبقے سے تعلق رکھنے والے عقیدت مندوں کی عقیدت کا مرکز ہے۔

آپ کی ولادت 5 رجب 1288 ہجری، مطابق 27 جنوری 1861ء، بروز پیر، ناگپور کے قریب کامٹی کے محلہ گورے بازار میں ہوئی۔ آپ کے والد بدر الدین مہدی بن جمال الدین مہدی برطانوی فوج میں صوبیدار تھے، جبکہ والدہ کا نام مریم بی بی تھا۔ آپ ابھی ایک سال کے تھے کہ والد کا انتقال ہوگیا، اور نو برس کی عمر میں والدہ بھی اس دنیا سے رخصت ہوگئیں۔ اس کے بعد آپ کی پرورش آپ کے نانا اور نانی نے محبت اور شفقت کے ساتھ کی۔

حضرت بابا تاج الدینؒ کا سلسلۂ نسب حضرت امام حسن عسکریؓ کے ذریعے ساداتِ کرام سے جا ملتا ہے اور آپ حضرت فضیل مہدیؒ کی اولاد میں شمار ہوتے ہیں۔ آپ کو تاج الاولیاء، تاج الملت والدین، تاج العارفین، تاج الملوک، سراج السالکین اور شہنشاہِ ہفت اقلیم جیسے القابات سے یاد کیا جاتا ہے۔

ابتدائی تعلیم کے دوران ہی آپ کی غیر معمولی ذہانت نمایاں ہوگئی تھی۔ پندرہ برس کی عمر تک آپ عربی، اردو، فارسی اور انگریزی زبانوں میں مہارت حاصل کر چکے تھے۔ اس کے بعد تقریباً دو برس گونڈوانہ کے جنگلات میں گوشہ نشینی اختیار کرکے عبادت، ذکرِ الٰہی، مجاہدہ اور ریاضت میں مشغول رہے، جہاں آپ کی روحانی تربیت نے مزید کمال حاصل کیا۔

1881ء میں بیس برس کی عمر میں آپ نے ناگپور رجمنٹ نمبر 8 (مدراسی پلٹن) میں بطور نائیک فوجی ملازمت اختیار کی۔ بعد ازاں 1884ء میں آپ کا تبادلہ ساگر رجمنٹ میں ہوا، مگر فوجی زندگی کے باوجود آپ کی اصل وابستگی عبادت، مراقبہ اور اولیائے کرام کی بارگاہوں سے رہی۔ آپ اکثر حضرت بابا داؤد مکیؒ کے مزار پر شب بیداری فرماتے اور اپنے روحانی مجاہدات جاری رکھتے۔ اسی زمانے میں آپ سے متعدد خرقِ عادت واقعات بھی ظاہر ہونے لگے۔

تقریباً تین برس ملازمت کے بعد، اپنے مرشد کے حکم پر آپ نے فوجی زندگی کو خیرباد کہہ دیا اور خود کو مکمل طور پر روحانی تربیت، عبادت اور خدمتِ خلق کے لیے وقف کر دیا۔

1887ء سے آپ پر کیفیتِ جذب کا ظہور ہونے لگا، جو وقتاً فوقتاً نمایاں ہوتی رہی۔ بالآخر 26 اگست 1893ء کو، اکتیس برس کی عمر میں، آپ کو ناگپور کے ذہنی امراض کے ادارے منتقل کیا گیا، مگر یہ وہ دور تھا جب آپ کی کرامات نے پورے ہندوستان میں شہرت حاصل کی۔ لوگ حیرت سے دیکھتے کہ آپ ایک ہی وقت میں پاگل خانے میں بھی موجود ہیں اور کامٹی کی گلیوں یا مختلف گھروں میں بھی تشریف رکھتے ہیں۔ اس غیر معمولی کیفیت نے ہزاروں لوگوں کو آپ کی روحانی عظمت کا قائل بنا دیا۔

آپ کی زیارت کے لیے عقیدت مندوں کا ایسا ہجوم امڈتا تھا کہ حکومت نے ملاقات کے لیے پہلے دو آنے اور بعد میں ایک روپیہ فیس مقرر کر دی، مگر اس کے باوجود لوگوں کا رش کم نہ ہوا۔ اس زمانے کے متعدد انگریز حکام، اعلیٰ سرکاری افسران، مہاراجہ رگھوجی راؤ بھونسلے اور مختلف مذاہب سے تعلق رکھنے والی ممتاز شخصیات آپ کی خدمت میں حاضر ہو کر دعائیں اور رہنمائی حاصل کرتی تھیں۔

مہاراجہ رگھوجی راؤ بھونسلے کو آپ سے بے پناہ عقیدت تھی۔ آپ نے ایک موقع پر ان سے فرمایا: "میرا بستر تیرے گھر قیامت تک رہے گا۔" بعد میں یہ پیش گوئی حرف بہ حرف سچ ثابت ہوئی۔ 1908ء میں عوام کے بڑھتے ہوئے ہجوم کے باعث آپ کو پاگل خانے سے شکردرہ محل منتقل کیا گیا، جہاں بھی عقیدت مندوں کا تانتا بندھا رہا۔

بعدازاں آپ نے واکی کے جنگلات میں بھی قیام فرمایا، مگر وہاں بھی فیض حاصل کرنے والوں کا سلسلہ جاری رہا۔ پٹیل شری کاشی ناتھ راؤ نے اپنی وسیع اراضی آپ کے لیے وقف کی، جہاں مسجد، مدرسہ، شفاخانہ اور دیگر رفاہی مراکز قائم کیے گئے، جو خدمتِ خلق کی روشن مثال بنے۔

حضرت بابا تاج الدینؒ ہمیشہ انسانیت، محبت، اخوت اور مساوات کا درس دیتے رہے۔ آپ کی بارگاہ ہر مذہب اور ہر طبقے کے لوگوں کے لیے یکساں کھلی رہتی تھی۔ آپ فرمایا کرتے تھے: "میں ایک لاکھ ولی بناؤں گا۔" وقت نے ثابت کیا کہ لاکھوں افراد نے آپ کی صحبت سے روحانی فیض، قلبی سکون اور معرفتِ الٰہی کی دولت حاصل کی۔ حضرت انسان علی شاہؒ اور حضرت مریم بی اماںؒ آپ کے نمایاں فیض یافتگان میں شمار ہوتے ہیں۔

1925ء میں آپ کی طبیعت ناساز رہنے لگی۔ مہاراجہ رگھوجی راؤ بھونسلے نے اس دور کے معروف معالجین سے آپ کا علاج کرایا، لیکن مشیتِ الٰہی کو کچھ اور ہی منظور تھا۔ 26 محرم الحرام 1344 ہجری، مطابق 17 اگست 1925ء، بروز پیر، مغرب کے وقت آپ نے اپنے دونوں ہاتھ دعا کے لیے بلند کیے، چند لمحے خاموشی سے اپنے رب سے مناجات کی، پھر اردگرد نگاہ ڈالی، سکون سے بستر پر لیٹ گئے اور اسی اطمینان کے ساتھ اپنے خالقِ حقیقی سے جا ملے۔

وصال کی خبر جنگل کی آگ کی طرح پھیل گئی۔ ہر مذہب، ہر برادری اور ہر طبقے کے ہزاروں افراد آخری دیدار کے لیے امڈ آئے۔ تقریباً چوبیس گھنٹے تک زائرین کا سلسلہ جاری رہا، جبکہ آپ کی نمازِ جنازہ میں بھی ہزاروں افراد نے شرکت کی۔ اس وقت کے اخبارات نے آپ کے وصال کو نمایاں سرخیوں کے ساتھ شائع کیا، جو آپ کی عوامی مقبولیت اور روحانی عظمت کا واضح ثبوت تھا۔

آپ کا مزارِ اقدس ناگپور کے تاج آباد (تاج باغ) میں واقع ہے، جہاں آج بھی لاکھوں زائرین حاضری دے کر روحانی سکون حاصل کرتے ہیں۔ ہر سال آپ کا عرسِ مبارک ہندوستان، پاکستان اور دنیا کے مختلف ممالک میں نہایت عقیدت، ادب اور احترام کے ساتھ منایا جاتا ہے۔

حضرت بابا تاج الدینؒ نے اپنی ظاہری زندگی میں نکاح نہیں فرمایا، تاہم اپنے چچا زاد بھائی کی صاحبزادی سعیدہ بی بی کی پرورش اپنی بیٹی کی طرح کی۔ انہی سعیدہ بی بی کے صاحبزادے حضرت محمد عظیم برخیاء المعروف قلندر بابا اولیاءؒ، جو سلسلۂ عظیمیہ کے بانی اور امام ہیں، رشتے کے اعتبار سے حضرت بابا تاج الدینؒ کے نواسے کہلاتے ہیں اور ہمیشہ آپ کو محبت و عقیدت سے "نانا جان" کہہ کر یاد فرمایا کرتے تھے۔

حضرت بابا سید محمد تاج الدین ناگپوریؒ کی تعلیمات کا خلاصہ محبت، اخوت، خدمتِ خلق، رواداری اور ذکرِ الٰہی ہے۔ آپ نے اپنی پوری زندگی انسانوں کے درمیان محبت کے چراغ روشن کرنے، دلوں کو جوڑنے اور انسانیت کی خدمت کا درس دینے میں بسر کی۔ یہی وجہ ہے کہ آج بھی آپ کی بارگاہ صرف ایک درگاہ نہیں بلکہ بین المذاہب ہم آہنگی، روحانی فیضان اور انسان دوستی کی ایک زندہ علامت سمجھی جاتی ہے۔