جی ڈی سی گاندربل میں عالمی یومِ خواندگی کے موقع پر بیداری پروگرام کا انعقاد

Story by  ATV | Posted by  [email protected] | Date 09-09-2026
جی ڈی سی گاندربل میں عالمی یومِ خواندگی کے موقع پر بیداری پروگرام کا انعقاد
جی ڈی سی گاندربل میں عالمی یومِ خواندگی کے موقع پر بیداری پروگرام کا انعقاد

 



سری نگر: گورنمنٹ ڈگری کالج (جی ڈی سی) گاندربل کے شعبۂ تعلیم و سماجیات کی جانب سے منگل کے روز کالج کے کانفرنس ہال میں عالمی یومِ خواندگی کے موقع پر ایک بیداری پروگرام کا انعقاد کیا گیا، جس میں تدریسی عملے اور طلبہ نے شرکت کی۔ اس پروگرام کا مقصد طلبہ کو خواندگی کی اہمیت سے روشناس کرانا اور اس بات کو اجاگر کرنا تھا کہ خواندگی ایک بنیادی انسانی حق اور انسانی وقار کا اہم ذریعہ ہے۔

اس کے علاوہ ایک تعلیم یافتہ، بااختیار اور پائیدار معاشرے کی تعمیر میں تعلیم و خواندگی کے کلیدی کردار کو بھی اجاگر کیا گیا۔ پروگرام کا آغاز ڈاکٹر شائستہ اختر، اسسٹنٹ پروفیسر و سربراہ شعبۂ تعلیم کے استقبالیہ خطاب سے ہوا۔ انہوں نے افراد کو بااختیار بنانے اور مثبت سماجی تبدیلی لانے میں تعلیم کے اہم کردار پر روشنی ڈالی۔ انہوں نے کہا کہ تعلیم محض علم اور ہنر کے حصول تک محدود نہیں بلکہ یہ افراد کو ذمہ دار، باخبر اور معاشرے کے فعال شہری بننے کے قابل بھی بناتی ہے۔

اس موقع پر پرنسپل جی ڈی سی گاندربل، ڈاکٹر رفیق احمد نے کلیدی خطاب کیا۔ انہوں نے انسانی زندگی میں علم اور حصولِ تعلیم کی اہمیت کو اجاگر کرتے ہوئے قرآنِ کریم کی پہلی وحی کا حوالہ دیا، جس میں “اقرأ” یعنی “پڑھو” کا حکم دیا گیا۔ انہوں نے اس امر پر زور دیا کہ اسلام میں علم اور تعلیم کو بنیادی اہمیت حاصل ہے۔ ڈاکٹر رفیق احمد نے تعلیمی مواقع سے محروم افراد کو درپیش مسائل کا بھی ذکر کیا۔ انہوں نے کہا کہ ناخواندگی افراد کی معلومات تک رسائی، روزگار کے مواقع اور بنیادی خدمات کے حصول میں رکاوٹ بن سکتی ہے، جس کے نتیجے میں نہ صرف ان کے ذاتی وقار کو نقصان پہنچتا ہے بلکہ سماجی اور معاشی ترقی بھی متاثر ہوتی ہے۔

پروگرام کے دوران تقریباً 18 طلبہ نے مختلف موضوعات پر تقاریر پیش کیں اور خواندگی کے مختلف پہلوؤں کے ساتھ ساتھ موجودہ دور میں اس کی اہمیت کو اجاگر کیا۔ طلبہ نے اس بات پر زور دیا کہ خواندگی محض پڑھنے اور لکھنے کی صلاحیت کا نام نہیں، بلکہ یہ افراد کو معلومات کو سمجھنے، باخبر فیصلے کرنے، مواقع سے استفادہ کرنے اور سماجی و شہری زندگی میں بامعنی طور پر حصہ لینے کے قابل بناتی ہے۔ مقررین نے زندگی بھر سیکھنے کے رجحان کو فروغ دینے کی ضرورت پر بھی زور دیا۔ انہوں نے طلبہ کی حوصلہ افزائی کی کہ وہ تعلیمی بیداری کے فروغ میں اپنا کردار ادا کریں اور ایسے اقدامات کی حمایت کریں جن کا مقصد معاشرے کے پسماندہ اور محروم طبقات تک تعلیم اور خواندگی کے ثمرات پہنچانا ہو۔ پروگرام کے اختتام پر ڈاکٹر صبیحہ یوسف نے ہدیۂ تشکر پیش کیا۔ انہوں نے پرنسپل، تدریسی عملے، طلبہ اور پروگرام کے کامیاب انعقاد میں تعاون کرنے والے تمام افراد کا شکریہ ادا کیا۔