نئی دہلی: سپریم کورٹ نے بدھ کو کہا کہ بار کونسل آف انڈیا (بی سی آئی) کو کوئی بھی پالیسی فیصلہ ہندوستان کے اٹارنی جنرل اور سالیسٹر جنرل سے مشاورت کے بعد ہی لینا ہوگا۔ عدالت عظمیٰ بی سی آئی کے صدر منن کمار مشرا کی طویل مدت تک اس عہدے پر رہنے کی قانونی حیثیت کو چیلنج کرنے اور انہیں عہدے سے ہٹانے کی درخواستوں پر سماعت کر رہی تھی۔
چیف جسٹس آف انڈیا سوریہ کانت، جسٹس جوی مالیا باگچی اور جسٹس وی. موہنا پر مشتمل بنچ ان درخواستوں کی سماعت کر رہی ہے۔ بنچ نے کہا، ’’بی سی آئی کی جانب سے لیے جانے والے ہر پالیسی فیصلے میں ہندوستان کے اٹارنی جنرل اور سالیسٹر جنرل کی فعال شرکت ہونی چاہیے۔‘‘
یوگمایا ایم جی کی جانب سے دائر درخواست میں کہا گیا ہے کہ منن کمار مشرا پہلی مرتبہ 2012 تک کے لیے بی سی آئی کے صدر منتخب ہوئے تھے۔ اگرچہ مشرا نے 2014 میں کچھ عرصے کے لیے صدر کا عہدہ چھوڑ دیا تھا، لیکن اسی سال نومبر میں وہ دوبارہ اس عہدے پر فائز ہوگئے اور تب سے مسلسل صدر بنے ہوئے ہیں۔