دراندازوں کے اخراج کی حمایت کرتی ہے آسام سرکار

Story by  PTI | Posted by  [email protected] | Date 30-08-2025
دراندازوں کے اخراج کی حمایت کرتی ہے آسام سرکار
دراندازوں کے اخراج کی حمایت کرتی ہے آسام سرکار

 



گوہاٹی: آسام کے وزیراعلیٰ ہمنت بسوا سرما نے ہفتے کے روز دعویٰ کیا کہ مرکز آسام حکومت کی بے دخلی (Eviction) مہم کی ’’مکمل حمایت‘‘ کرتا ہے اور اس کی جھلک گزشتہ دن مرکزی وزیر داخلہ امیت شاہ کی تقریر میں صاف نظر آئی۔ سرما نے پریس کانفرنس میں کہا کہ شاہ نے واضح طور پر کہا ہے کہ آسام اور پورا ملک غیر قانونی دراندازوں سے پاک کیا جائے گا، اور اسی مقصد کے تحت بی جے پی حکومت نے قبضہ ختم کرنے کی مہم شروع کی ہے جس کی ’’کانگریس نے مخالفت‘‘ کی۔ انہوں نے کہا، ’’مرکز آسام حکومت کی بے دخلی مہم کی پوری حمایت کرتا ہے اور اس کے منطقی انجام تک پہنچانے کے لیے ہر ممکن مدد فراہم کرے گا۔‘‘

وزیراعلیٰ نے کہا کہ ریاست میں یہ مہم جاری رہے گی کیونکہ ’’ہم زمین کو قبضے سے آزاد کرانے کے لیے پرعزم ہیں۔‘‘ سرما نے دعویٰ کیا کہ مئی 2021 میں ان کی حکومت بننے کے بعد سے اب تک 160 مربع کلومیٹر سے زیادہ زمین قبضے سے خالی کرائی جا چکی ہے۔ انہوں نے کہا تھا کہ جنگلاتی اراضی، وی جی آر (گاؤں کی چراگاہ)، پی جی آر (پیشہ ورانہ چراگاہ)، سَتر، نمگھر اور دیگر عوامی مقامات پر غیر مجاز قبضوں کو مرحلہ وار ختم کیا جائے گا۔

بے دخلی کی اس مہم سے زیادہ تر متاثرہ افراد بنگالی بولنے والے مسلمان ہیں جو دعویٰ کرتے ہیں کہ ان کے آبا و اجداد نے ان علاقوں میں سکونت اختیار کی تھی جب برہم پترا ندی کے کٹاؤ کی وجہ سے ان کی ’چار‘ یا دریائی زمینیں بہہ گئیں۔ دراندازی کے مسئلے پر بات کرتے ہوئے سرما نے کہا کہ ریاست میں دو محاذوں پر ’’واپس دھکیلنے‘‘ (push back) کی کارروائی جاری ہے، ایک طرف ان نئے افراد کے خلاف جو حال ہی میں سرحد پار کر کے داخل ہونے کی کوشش کر رہے ہیں، اور دوسری طرف ان لوگوں کے خلاف جو 1971 کے بعد آسام میں بس گئے ہیں۔

انہوں نے کہا، ’’1971 کے بعد آنے والے غیر ملکی جو ریاست میں رہ رہے ہیں، انہیں Immigrant Expulsion Act کے تحت واپس بھیجا جا رہا ہے، جو ہمیں یہ اختیار دیتا ہے۔‘‘ انہوں نے مزید کہا کہ ’’جو لوگ بنگلہ دیش سے ریاست میں داخل ہونے کی کوشش کرتے ہیں، انہیں اسی وقت واپس دھکیل دیا جاتا ہے۔ یہ عمل جاری ہے اور جاری رہے گا۔‘‘

وزیراعلیٰ نے کہا کہ وزیر داخلہ نے یہ بھی کہا ہے کہ آسام پر وہ لوگ حکومت نہیں کر سکتے جو بار بار پاکستان کا دورہ کرتے ہیں، اور اشارہ کانگریس کے ریاستی صدر گورو گوگوئی کی طرف تھا۔ سرما نے کہا، ’’شاہ نے یہ بات پارلیمنٹ میں بھی کہی تھی اور کل یہاں بھی دہرائی۔ اگر پارلیمنٹ میں غلط بیان دیا گیا تھا تو استحقاق کی خلاف ورزی کی کارروائی ہوسکتی تھی، لیکن کانگریس لیڈر نے کوئی اقدام نہیں کیا۔‘‘

انہوں نے کہا کہ اب یہ بات صاف ہے کہ ’’معاملہ کتنا سنگین ہے۔‘‘ پہلے ریاستی حکومت اسے اجاگر کر رہی تھی لیکن اب خود وزیر داخلہ نے بھی یہی بات کہہ دی۔ بی جے پی اور سرما طویل عرصے سے گورو گوگوئی کو ان کی برطانوی نژاد اہلیہ کے مبینہ طور پر پاکستان کی خفیہ ایجنسی آئی ایس آئی سے تعلقات کے حوالے سے نشانہ بنا رہے ہیں۔ سرما نے دعویٰ کیا تھا کہ گوگوئی کی اہلیہ الیزبتھ کولبرن نے بھارت اور پاکستان کے درمیان 19 بار سفر کیا ہے۔

شاہ نے آسام اسمبلی انتخابات 2026 کے لیے بی جے پی کی انتخابی مہم کا آغاز کرتے ہوئے کہا تھا کہ این ڈی اے اگلے سال لگاتار تیسری بار ریاست میں حکومت بنائے گا، کیونکہ وزیر اعظم کی جانب سے شروع کیے گئے اور سرما کی حکومت کی جانب سے نافذ کردہ ترقیاتی منصوبے زبردست کامیابی حاصل کر رہے ہیں۔ سرما نے کہا کہ کانگریس این ڈی اے کی تنظیمی طاقت کا مقابلہ نہیں کر سکتی اور یہ حقیقت اس سال ہوئے پنچایت انتخابات کے نتائج سے بھی ظاہر ہو گئی ہے۔ انہوں نے پر اعتماد لہجے میں کہا، ہم ہر چیلنج کا مقابلہ کرنے کے لیے تیار ہیں۔‘