تاج محل کے سروے سے انکار کے خلاف الہ آباد ہائی کورٹ سے رجوع

Story by  PTI | Posted by  [email protected] | Date 04-07-2026
تاج محل  کے سروے سے انکار کے خلاف الہ آباد ہائی کورٹ سے رجوع
تاج محل کے سروے سے انکار کے خلاف الہ آباد ہائی کورٹ سے رجوع

 



نئی دہلی: تاج محل کے اندر معائنہ، فوٹوگرافی اور ویڈیوگرافی کے لیے ایڈووکیٹ کمشنر مقرر کرنے سے آگرہ کی عدالت کے انکار کے خلاف الہ آباد ہائی کورٹ میں عرضی دائر کی گئی ہے۔ اس درخواست پر پیر کے روز سماعت متوقع ہے۔ یہ عرضی دیوتا ’’شری اگرشور مہادیو ناگناتھیشور وراجمان‘‘ کی جانب سے ان کے ’’نیکسٹ فرینڈ‘‘ ایڈوکیٹ ہری شنکر جین اور دیگر عقیدت مندوں نے دائر کی ہے۔

درخواست گزاروں نے یاد دلایا کہ انہوں نے 2015 میں آگرہ کی سول عدالت میں ایک مقدمہ دائر کیا تھا، جس میں دعویٰ کیا گیا تھا کہ دنیا بھر میں مشہور تاج محل دراصل ایک قدیم ہندو مندر ’’تیجو مہالیہ‘‘ ہے، جو بھگوان شیو کے لیے تعمیر کیا گیا تھا۔ ان کی درخواست تھی کہ عدالت اس عمارت کو ہندو مندر قرار دے اور ہندو برادری کو اس کے احاطے میں پوجا اور درشن کی اجازت دی جائے۔

ان کا مؤقف ہے کہ آئین ہند کے آرٹیکل 25 کے تحت انہیں مذہبی عبادت کا بنیادی حق حاصل ہے۔ سال 2019 میں انہوں نے تاج محل کے سروے کے لیے ایڈووکیٹ کمشنر مقرر کرنے کی درخواست دی تھی، لیکن آگرہ کی سول عدالت نے اسے مسترد کر دیا۔ عدالت نے کہا تھا کہ درخواست گزار متعلقہ ریونیو ریکارڈ، جیسے کھسرا اور کھتونی، پیش نہیں کر سکے اور جائیداد کی حدود و رقبے کی تفصیل بھی سرکاری ریکارڈ سے مطابقت نہیں رکھتی۔

اس فیصلے کے خلاف نظرثانی کی درخواست بھی رواں سال اپریل میں ناقابلِ سماعت قرار دے دی گئی۔ اب ہائی کورٹ میں دائر درخواست میں ان دونوں فیصلوں کو چیلنج کرتے ہوئے متعدد تاریخی اور تعمیراتی دلائل پیش کیے گئے ہیں۔ درخواست گزاروں کا دعویٰ ہے کہ ’’تیجو مہالیہ‘‘ نامی مندر 1155-56 عیسوی میں راجہ پرماردی دیو نے تعمیر کرایا تھا، بعد میں یہ راجہ مان سنگھ اور پھر راجہ جے سنگھ کی ملکیت میں رہا، جسے مغل بادشاہ شاہجہان نے اپنی ملکہ کی یادگار بنانے کے لیے حاصل کیا اور اس میں بعض اسلامی طرزِ تعمیر کے عناصر شامل کیے۔

عرضی میں یہ بھی کہا گیا ہے کہ عمارت میں کم از کم 109 ایسے آثار اور تاریخی شواہد موجود ہیں جو اسے ہندو مندر ثابت کرتے ہیں۔ درخواست گزاروں نے دعویٰ کیا ہے کہ سنگِ مرمر کے گنبد پر کلش اور کنول کی پنکھڑیوں کی نقش و نگاری ہندو مذہبی طرزِ تعمیر کی علامت ہے، جبکہ جنوب مشرقی حصے میں واقع ایک عمارت کو آثارِ قدیمہ کے محکمے کے ریکارڈ میں ’’گؤشالا‘‘ درج کیا گیا ہے، جو ہندو مندروں کا حصہ ہوتی ہے۔

درخواست میں آثارِ قدیمہ کے محکمے (اے ایس آئی) پر یہ الزام بھی عائد کیا گیا ہے کہ اس نے جمعہ کے دن مسلمانوں کو نماز کی اجازت دے رکھی ہے، جبکہ عمارت کے کئی حصے بند کر دیے گئے ہیں اور عام لوگوں کی رسائی محدود ہے۔ درخواست گزاروں کا کہنا ہے کہ تاج محل کی اندرونی ساخت، بند کمروں اور دیگر تعمیراتی خصوصیات کو صرف زبانی گواہی سے ثابت نہیں کیا جا سکتا، اس لیے عدالت کی نگرانی میں فوٹوگرافی اور ویڈیوگرافی ناگزیر ہے۔

ان کا کہنا ہے کہ چونکہ یہ محفوظ تاریخی یادگار ہے، اس لیے انہیں خود تصاویر لینے کی اجازت نہیں، لہٰذا عدالت کی جانب سے مقرر کردہ کمشنر ہی مؤثر شواہد جمع کر سکتا ہے۔ انہوں نے ہائی کورٹ سے استدعا کی ہے کہ آگرہ کی عدالتوں کے فیصلے کالعدم قرار دیتے ہوئے ایڈووکیٹ کمشنر کی تقرری کی درخواست پر دوبارہ میرٹ کی بنیاد پر فیصلہ کرنے کا حکم دیا جائے۔ ساتھ ہی عبوری درخواست میں عدالت سے یہ بھی کہا گیا ہے کہ آثارِ قدیمہ کے محکمے کے ڈائریکٹر کو عمارت کے اندر اور باہر کی تصاویر درخواست گزاروں کی موجودگی میں لینے اور عدالت میں پیش کرنے کی ہدایت دی جائے۔