مسلم مخالف فلمیں سماج کو تقسیم کرتی ہیں: انوراگ کشیپ

Story by  ATV | Posted by  [email protected] | Date 23-02-2026
مسلم مخالف فلمیں سماج کو تقسیم کرتی ہیں: انوراگ کشیپ
مسلم مخالف فلمیں سماج کو تقسیم کرتی ہیں: انوراگ کشیپ

 



ممبئی: بالی ووڈ کے معروف فلم ساز اور اداکار انوراگ کشیپ نے مجوزہ فلم دی کیرالہ اسٹوری 2 پر سخت تنقید کرتے ہوئے اسے ایک بار پھر تنازع کا باعث قرار دیا ہے۔ ان کا کہنا ہے کہ فلم کا مقصد بامعنی کہانی پیش کرنا نہیں بلکہ معاشرے میں تقسیم پیدا کرنا اور تجارتی فائدہ حاصل کرنا ہے۔

یہ فلم تقریباً تین سال قبل ریلیز ہونے والی متنازع فلم کا سیکوئل ہے اور ریلیز سے پہلے ہی بحث و مباحثے کا مرکز بن چکی ہے۔ فلم کو ویپول امرت لال شاہ نے پروڈیوس جبکہ کماکھیا نارائن سنگھ نے ہدایت دی ہے۔ کوچی ایئرپورٹ پر میڈیا سے گفتگو کرتے ہوئے انوراگ کشیپ نے کہا کہ فلم میں دکھائے گئے مناظر غیر حقیقی اور اشتعال انگیز ہیں۔

انہوں نے ایک متنازع منظر کا حوالہ دیتے ہوئے کہا کہ کسی خاتون کو زبردستی گوشت کھلانے جیسا منظر محض سنسنی پھیلانے کی کوشش ہے۔ ان کے مطابق، “یہ سب بے بنیاد ہے۔ نہ کوئی اس طرح گوشت کھلاتا ہے اور نہ ہی اس انداز میں کھچڑی پیش کی جاتی ہے۔ فلم کا مقصد صرف منافع کمانا ہے اور مواد کو ثانوی حیثیت دی گئی ہے۔

انوراگ کشیپ کا کہنا تھا کہ جب فلم سازی میں کہانی اور تخلیقی معیار کے بجائے مالی مفاد کو ترجیح دی جائے تو اس کے نتائج معاشرتی تقسیم کی صورت میں سامنے آتے ہیں۔ دوسری جانب اس فلم کے خلاف قانونی محاذ بھی کھل گیا ہے۔ ماہر حیاتیات سری دیو نمبودری نے کیرالہ ہائی کورٹ میں درخواست دائر کر کے فلم کی ریلیز کو چیلنج کیا ہے۔

درخواست میں مؤقف اختیار کیا گیا ہے کہ فلم فرقہ وارانہ ہم آہنگی کو متاثر کر سکتی ہے، لہٰذا اس کی نمائش پر نظرثانی کی جائے۔ واضح رہے کہ فلم کی ریلیز سے قبل ہی سوشل میڈیا اور سیاسی حلقوں میں اس پر بحث جاری ہے، اور آئندہ دنوں میں یہ معاملہ مزید شدت اختیار کر سکتا ہے۔