پہلگام حملے کی برسی ۔ مسلم دانشوروں اور علما نے کہا ۔۔ یہ انسانیت کا خون تھا ، دہشت گردی مہذب سماج کا حصہ نہیں

Story by  ATV | Posted by  [email protected] | Date 22-04-2026
پہلگام حملے کی برسی ۔ مسلم دانشوروں اور علما نے کہا ۔۔ یہ انسانیت کا خون تھا ، دہشت گردی مہذب سماج کا حصہ نہیں
پہلگام حملے کی برسی ۔ مسلم دانشوروں اور علما نے کہا ۔۔ یہ انسانیت کا خون تھا ، دہشت گردی مہذب سماج کا حصہ نہیں

 



پہلگام حملہ انسانیت پر حملہ تھا،ایسے حملوں کی جتنی مذمت کی جائے کم ہے،بے قصور انسانوں کی جانوں کی تلافی کا کوئی جواز نہیں ہوسکتا ، دہشت گردی مذہب سماج کا حصہ نہیں جو صرف ہنستے کھیلتے حاندانوں کو اجاڑ سکتی ہے ۔پہلگام حملے میں ملوث دماغوں کو انجام تک پہنچانے کی ضرورت ہے

پہلگام حملے کی پہلی برسی پر ملک کے ممتاز مسلم دانشورو ں اور علما نے دہشت گردی کی سخت مذمت کی ہے۔اسے ملک کے اتحاد پر حملہ قرار دیتے ہوئے اس بات پر اطمینان ظاہر کیا ہے کہ ملک میں فرقہ وارانہ انتشار پیدا کرنے کی سازش کامیاب نہیں ہوسکی ۔22 اپریل 2025کو پہلگام کی بائسارن وادی میں پیش آنے والا دہشت گرد حملہ ایک سال گزرنے کے باوجود آج بھی کشمیر کی وادیوں اور پورے ملک کے دلوں میں ایک گہرے درد کے طور پر موجود ہے جس کی شدت وقت کے ساتھ کم نہیں ہو سکی ہے۔

قیمتی جانوں کی تلافی ممکن نہیں 

پہلگام دہشت گرد حملے کی پہلی برسی کے موقع پر میرواعظ عمر فاروق نے پہلگام حملے میں  قیمتی جانوں کے ضیاع پر گہرے رنج و غم کا اظہار کیا۔ انہوں نے متاثرہ خاندانوں کے ساتھ یکجہتی کا اظہار کرتے ہوئے کہا کہ وہ اس سانحے کے درد کو اب تک برداشت کر رہے ہیں اور بدقسمتی سے یہ درد ہمیشہ باقی رہے گا۔سوشل میڈیا پلیٹ فارم ایکس پر اپنے بیان میں میرواعظ عمر فاروق نے کہا کہ کیلنڈر کی یہ تاریخیں گزشتہ تین دہائیوں میں کشمیر کے مختلف علاقوں میں پیش آنے والے ایسے ہی سانحات کی یادوں کو تازہ کر دیتی ہیں۔ ان میں گاو کدل زکوڑا ہوال سوپور وندھاما اور چٹیسنگھ پورہ جیسے واقعات شامل ہیں۔انہوں نے کہا کہ اس تنازع میں ہزاروں قیمتی انسانی جانیں ضائع ہوئیں۔ انہوں نے مزید کہا کہ اس تمام تکلیف کے باوجود جموں و کشمیر کے عوام کا عدم تشدد اور باعزت مستقل امن کے لیے بات چیت پر یقین اب بھی مضبوط ہے۔انہوں نے دعا کرتے ہوئے کہا کہ ہم امید کرتے ہیں اور دعا کرتے ہیں کہ ایسے ہولناک واقعات ہمیشہ کے لیے ماضی کا حصہ بن جائیں۔ آمین۔

 دہشت گردی کا مذہب سے کوئی تعلق نہیں

مولانا سید محمد اشرف کچھوچھوی نے اپنے بیان میں قرآن کی آیت ولقد کرمنا بنی آدم کا حوالہ دیتے ہوئے کہا کہ اللہ نے انسان کو عزت کے ساتھ پیدا کیا ہے اور ہر انسان کے ساتھ ہمدردی اور رحم دلی سے پیش آنا ہی سچے ایمان کی اصل پہچان ہے۔مولانا نے کہا کہ بائسارن میں پیش آنے والا واقعہ صرف ایک دہشت گرد حملہ نہیں تھا بلکہ انسانیت کے خلاف ایک سنگین گناہ تھا جسے کسی بھی مذہب یا تہذیب میں جائز قرار نہیں دیا جا سکتا۔ انہوں نے کہا کہ جو لوگ کشمیر کی وادیوں میں سکون کی تلاش میں آئے تھے انہیں اس طرح موت کے حوالے کرنا ایک ایسی سوچ کی علامت ہے جو انسانیت سے بہت دور ہے۔ انہوں نے متاثرہ خاندانوں کے ساتھ گہری ہمدردی کا اظہار کرتے ہوئے کہا کہ اس واقعے کا درد صرف ان گھروں تک محدود نہیں بلکہ ہر حساس دل میں آج بھی تازہ ہے۔

انہوں نے کہا کہ اسلام یہ سکھاتا ہے کہ دکھ کی گھڑی میں انسان کو انسان کے ساتھ کھڑا ہونا چاہیے۔ اسی لیے کشمیر کے مذہبی رہنماؤں نے متاثرہ خاندانوں کے لیے دعا کی اور اپیل کی کہ ہر مذہب کے لوگ اپنے اپنے طریقے سے جاں بحق افراد کے لیے امن کی دعا کریں۔ مولانا نے کہا کہ انسانیت کا رشتہ مذہب سے بالاتر ہے اور کسی بھی غمزدہ خاندان کے ساتھ کھڑا ہونا ہم سب کی ذمہ داری ہے۔حملے کے بعد کشمیر انتظامیہ نے سکیورٹی وجوہات کی بنا پر وادی کے 48 سیاحتی مقامات کو بند کر دیا تھا۔ اگرچہ حالات بہتر ہونے پر کچھ مقامات دوبارہ کھول دیے گئے لیکن ایک سال گزرنے کے باوجود بائسارن وادی اب تک بند ہے۔ وہاں جانے والے راستوں پر پابندیاں برقرار ہیں اور کبھی سیاحوں سے آباد رہنے والی یہ وادی آج خاموشی کا منظر پیش کر رہی ہے۔

مولانا سید محمد اشرف کچھوچھوی نے کہا کہ کشمیر کے لوگوں کے دلوں کے زخم اس وقت تک نہیں بھر سکتے جب تک ملک اور دنیا سے آنے والے سیاح دوبارہ اعتماد کے ساتھ واپس نہ آئیں۔ انہوں نے کہا کہ یہ صرف معاشی مسئلہ نہیں بلکہ دلوں کے رشتے کا معاملہ ہے۔ کشمیر اور سیاحوں کے درمیان برسوں سے قائم جذباتی تعلق کو دہشت گردی کے ذریعے کمزور کرنے کی کوشش کی جا رہی ہے۔انہوں نے کہا کہ کشمیر کی پہچان بندوق کی آواز نہیں بلکہ انسانیت اور محبت کی آواز ہے۔ یہاں آنے والے لوگ صرف قدرتی حسن دیکھنے نہیں بلکہ یہاں کے لوگوں کی محبت محسوس کرنے آتے ہیں۔ انہوں نے واضح کیا کہ دہشت کے ذریعے اس رشتے کو توڑنے کی کوششیں کبھی کامیاب نہیں ہوں گی کیونکہ کشمیر کی روح میں محبت بستی ہے نہ کہ نفرت۔

ایک ناپاک سازش تھی 

سری نگر میں مولوی محمد اشرف نے کہا کہ قرآن کی یہ تعلیم واضح کرتی ہے کہ ہر انسان قابل احترام ہے اور اس کے ساتھ ہمدردی اور رحم دلی سے پیش آنا ہی اصل ایمان کی علامت ہے۔انہوں نے کہا کہ دہشت گردی کا کسی مذہب سے کوئی تعلق نہیں ہے۔ ان کے مطابق اسلام امن رحمت اور بھائی چارے کا دین ہے جبکہ بے گناہوں کا خون بہانا اس کی بنیادی تعلیمات کے خلاف ہے۔ انہوں نے زور دے کر کہا کہ کسی بھی تشدد کو مذہب کے نام پر جائز قرار نہیں دیا جا سکتا۔انہوں نے کہا کہ اسلام امن رحمت اور انسانی بھائی چارے کا پیغام دیتا ہے جبکہ پہلگام میں جو ہوا وہ وحشیانہ عمل تھا جس کا مقصد ملک کی بنیادوں کو ہلانا تھا مگر اہم بات  یہ ہے کہ اس نازک لمحے میں  ہم سب ایک ساتھ اٹل رہے 

کوئی مذہب اس کی اجازت نہیں دے سکتا 

 ممتاز عالم مولانا ظہیر عباس رضوی نے کہا کہ یہ حملہ انسانیت پرتھا، بدترین دہشت گردی جسے کوئی انسان کسی بھی قیمت پر قبول نہیں کرے گا ۔ پہلگام میں جو ہوا وہ وحشیانہ عمل تھا، بے قصور لوگوں کی ہلاکت کو کسی بھی پہلو سے جائز نہیں ہوسکتی ۔ اسلام نے تو ایک انسان کی موت کو انسانیت کی موت قرار دیا ہے ، بلکہ  دنیا کا کوئی مذہب اس قسم کے عمل کی اجازت نہیں دے سکتا ۔

مولانا ظہیر عباس رضوی کا کہنا ہے کہ ملک کو توڑنے کی کوشش تھی پہلگام حملہ ۔مگر یہ ملک کی تہذیب ہے جس نے ملک کو فرقہ وارانہ بنیاد پر بکھرنے سے بچا لیا ۔انہوں نے کہا کہ جن بے قصور افراد نے جانیں گنوائی ہیں ان کے خاندانوں کے لیے یہ نا قابل تلافی  نقصان ہے ،ہم سب اس  درد میں ان خاندانوں کے ساتھ ہیں جو اس صدمے سے ابھرنے کی کوشش کررہے ہیں

انہوں نے واضح کیا کہ دہشت گردی کا کسی بھی مذہب سے کوئی تعلق نہیں ہوتا۔ ان کے مطابق اسلام امن رحمت اور انسانی بھائی چارے کا دین ہے اور بے گناہ انسانوں کا خون بہانا اس کی بنیادی تعلیمات کے سراسر خلاف ہے۔ انہوں نے زور دیا کہ کسی بھی قسم کے تشدد کو مذہب کے نام پر جائز قرار نہیں دیا جا سکتا۔

دہشت گردی کسی بھی وصرت میں قابل قبول نہیں 

 ممبئی میں مفتی منظور ضیائی (چیف مفتی ممبئی و مہاراشٹر) نے پہلگام بایسرن دہشت گردانہ حملے کی پہلی برسی پر تعزیتی و مذمتی بیان میں کہا کہ پہلگام کے علاقے بایسرن میں پیش آنے والے افسوسناک دہشت گردانہ حملے کو ایک سال مکمل ہو چکا ہے۔ وقت گزر جاتا ہے، مگر ایسے سانحات کے زخم آسانی سے نہیں بھرتے۔ دہشت گردی، چاہے کسی بھی شکل میں ہو اور کہیں بھی ہو، وہ صرف دہشت گردی ہی ہوتی ہے،اس کی ہر حال میں سخت ترین الفاظ میں مذمت کی جانی چاہیے۔ ٓ

ہم اس موقع پر اُن تمام بے گناہ افراد کو خراجِ عقیدت پیش کرتے ہیں جو اس انسانیت سوز واقعے میں اپنی جانوں سے ہاتھ دھو بیٹھے۔ ان شہداء کے اہلِ خانہ کے ساتھ دلی ہمدردی اور تعزیت کا اظہار کرتے ہیں۔ ان کے غم میں برابر کے شریک ہیں اور اللہ تعالیٰ سے دعاگو ہیں کہ وہ مرحومین کو اعلیٰ درجات عطا فرمائے اور پسماندگان کو صبرِ جمیل نصیب کرے۔یہ ہماری ذمہ داری ہے  نہ صرف بطور مسلمان بلکہ ایک امن پسند انسان کی حیثیت سے  کہ ہم ایسے واقعات کی نہ صرف مذمت کریں بلکہ انسانیت کے حق میں اپنی آواز بلند کریں۔ دہشت گردی کسی مذہب، قوم یا انسانیت کی نمائندہ نہیں ہو سکتی۔ یہ محض ظلم، بربریت اور انسانیت کے خلاف ایک سنگین جرم ہے۔

ہم اس سانحے کو کبھی فراموش نہیں کر سکتے، وہ دن جب ہنستے کھیلتے بے گناہ انسان اچانک دہشت گردی کا نشانہ بن گئے  اس دن انسانیت نے اپنے سینے پر ظلم و جبر کی گولیاں کھا کر بھی دنیا کو یہ پیغام دیا کہ امن اور انسانیت کبھی مرتے نہیں۔ وہ ہمیشہ زندہ رہتے ہیں، اور سرسبز پودوں کی مانند ہر دور میں نئی امید کے ساتھ پروان چڑھتے رہتے ہیں۔ہم دعا کرتے ہیں کہ اللہ تعالیٰ ہمارے ملک اور پوری دنیا کو امن و سکون کا گہوارہ بنائے، اور ایسے افسوسناک واقعات دوبارہ کبھی رونما نہ ہوں۔آخر میں، ہم سب کو یہ عہد کرنا ہوگا کہ ہم نفرت، تشدد اور دہشت گردی کے خلاف متحد ہو کر کھڑے ہوں گے، اور امن، بھائی چارے اور انسانیت کے فروغ کے لیے اپنی کوششیں جاری رکھیں گے۔

دہشت گردو ں کو سر عام موت  دی جانی چاہیے۔  مولانا قاسمی 

کولکتہ کی مسجد ناخدا کے امام مولانا محمد شفیق قاسمی نے ایک بیان میں کہا کہ دہشت گردی کا کوئی جواز نہیں ہوسکتا ،کسی بھی پہلو یا نظرئیے سے دےشت گردی کو جائز قرار نہیں دیا جاسکتا ہے ۔انسانی جان سے زیادہ قیمتی کچھ نہیں ۔۔ انہوں نے کہا کہ دہشت گردی کے جو واقعات ہوتے ہیں ان کی مکمل جانچ ہو اور مجرموں کو پاتال سے نکالا جائے۔میں تو کہتا ہوں کہ ایسے لوگوں کو سر عام پھانسی دی جائے مگر افسوس ابتک ایسا نہیں ہوسکا ہے ۔ پہلگام دہشت گردی کی سخت ترین مذمت کے ساتھ اس میں ملوث دہشت گردوں کو سرعام پھانسی کا مطالبہ کرتا ہوں یہی طریقہ اس سے متاثر ہثنے والوں کو سکون دے گا