صحافیوں کی ایک شام: شاعری کے نام، اردو اکادمی دہلی کا منفرد اور یادگار مشاعرہ

Story by  ATV | Posted by  [email protected] | Date 05-06-2026
صحافیوں کی ایک شام: شاعری کے نام، اردو اکادمی دہلی کا منفرد اور یادگار مشاعرہ
صحافیوں کی ایک شام: شاعری کے نام، اردو اکادمی دہلی کا منفرد اور یادگار مشاعرہ

 



نئی دہلی، : اردو اکادمی دہلی کے زیر اہتمام ’’صحافیوں کی ایک شام: شاعری کے نام‘‘ کے عنوان سے ایک منفرد اور یادگار مشاعرہ قمر رئیس سلور جبلی آڈیٹوریم میں منعقد ہوا، جس میں صحافیوں، شاعروں، ادیبوں، طلبہ اور اردو زبان و ادب کے شائقین نے بڑی تعداد میں شرکت کی۔

مشاعرے کی صدارت روزنامہ انقلاب کے سابق مدیر اور ممتاز صحافی شکیل حسن شمسی نے کی، جبکہ نظامت کے فرائض معروف شاعر معین شاداب نے انجام دیے۔ تقریب کا آغاز شمع روشن کرکے کیا گیا، جس کے بعد شرکاء نے اردو کے نامور شاعر بشیر بدر کے انتقال پر اظہارِ تعزیت کرتے ہوئے انہیں خراجِ عقیدت پیش کیا۔

افتتاحی خطاب میں ڈاکٹر شفیع ایوب نے اردو اور ہندی صحافت و ادب کی مشترکہ روایت پر روشنی ڈالی اور اردو اکادمی دہلی کی ادبی خدمات کو سراہا۔ معین شاداب نے صحافت اور شاعری کے باہمی تعلق پر گفتگو کرتے ہوئے صحافت کو ’’عجلت میں لکھا ہوا ادب‘‘ قرار دیا۔

مشاعرے میں شکیل حسن شمسی، سلیم شیرازی، تحسین منور، ڈاکٹر شفیع ایوب، خصال مہدی، ارشد ندیم، ضمیر ہاشمی، امیر امروہوی، ڈاکٹر فرمان چودھری، نعیم ہندوستانی، ڈاکٹر شعیب رضا فاطمی، رامش رؤف، ڈاکٹر منور حسن کمال، انجم جعفری اور مبارک قاسمی سمیت متعدد ممتاز صحافی شعراء نے اپنا کلام پیش کیا۔ شعراء نے عصری مسائل، انسانی اقدار، سماجی رویوں اور صحافتی تجربات کو شاعری کے قالب میں پیش کیا، جسے حاضرین نے بھرپور داد دی۔

اختتامی کلمات میں اردو اکادمی دہلی کے اسسٹنٹ پبلی کیشن آفیسر محمد ہارون نے تمام مہمانوں، شعراء اور شرکاء کا شکریہ ادا کیا۔ انہوں نے دہلی حکومت کی وزیر اعلیٰ ریکھا گپتا اور وزیر برائے فن، ثقافت و السنہ کپل مشرا کے تعاون کو سراہتے ہوئے کہا کہ انہی کی سرپرستی سے ایسے معیاری ادبی پروگرام ممکن ہو رہے ہیں۔

یہ مشاعرہ صحافت اور شاعری کے حسین امتزاج کا ایک خوبصورت نمونہ ثابت ہوا اور اردو ادب کے فروغ میں ایک اہم اور یادگار ادبی سرگرمی کے طور پر یاد رکھا جائے گا۔