غوث سیوانی، نئی دہلی
یقیں محکم عمل پیہم محبت فاتح عالم
جہاد زندگانی میں ہیں یہ مردوں کی شمشیریں
کیا آپ کو لگتا ہے کہ اقبال کے اس شعر میں کہیں بھگودگیتا کا عکس ہے؟جی ہاں! یہ سوال آپ کے لئے حیران کن ہوسکتا ہے کیونکہ اقبال نے اپنی شاعری میں اسلامی فلسفہ پر زور دیا ہے۔ حالانکہ انہوں نے جن سرچشموں سے اکتساب فیض کیا ہے،اس میں بھگوت گیتا بھی شامل ہے۔ دراصل علامہ اقبال برصغیر کے ان عظیم مفکرین میں شمار ہوتے ہیں جنہوں نے مشرقی اور مغربی فلسفوں، مذہبی روایات اور انسانی تہذیب کے مختلف فکری سرچشموں کا گہرا مطالعہ کیا۔ ان کی فکر کا مرکزی نکتہ "خودی" اور "عمل" ہے۔ اقبال کے نزدیک زندگی کا راز حرکت، جدوجہد، تخلیق اور مسلسل عمل میں پوشیدہ ہے۔ وہ انسان کو تقدیر کے سامنے بے بس مخلوق یا دنیا سے فرار اختیار کرنے والا راہب نہیں، بلکہ ایک فعال، باارادہ اور تخلیقی ہستی کے طور پر دیکھتے ہیں۔
اسی تناظر میں بعض محققین نے اقبال کے فلسفۂ عمل اور ہندو مذہب کی مقدس کتاب بھگوت گیتا کے تصورِعمل (کرم) کے درمیان مماثلت کی نشاندہی کی ہے۔ اگرچہ اقبال کی فکری بنیاد قرآن اور اسلامی تعلیمات تھیں، لیکن انہوں نے گیتا سمیت مختلف مذہبی اور فلسفیانہ متون کا مطالعہ کیا اور جہاں کہیں انہیں اخلاقی ذمہ داری اورعمل کی اہمیت کی تعلیم نظر آئی، وہاں اس کی قدر بھی کی۔اقبال کا تعلق خود ایک کشمیری برہمن خاندان سے تھا جس نےمغل عہد میں اسلام قبول کرلیا تھا۔علم کا رواج اس خاندان میں صدیوں سے چلا آرہا تھا اوراقبال سنسکرت زبان سے بھی واقف تھے،ایسے میں ہندووں کی مذہبی کتابوں کا انہوں نے مطالعہ بھی کیا تھا جن میں وید اور گیتا بھی شامل تھیں۔ گیتا کے فلسفہ عمل نے انہیں متاثر کیا تھاجنہیں اقبال نے بعد میں اپنی شاعری کا سب سے اہم حصہ بنایا۔

اقبال اور عمل کا فلسفہ
اقبال کے نزدیک زندگی سکون، جمود اور بے عملی کا نام نہیں بلکہ مسلسل حرکت اور جدوجہد کا نام ہے۔ ان کے نزدیک کائنات خود ایک متحرک حقیقت ہے اور انسان اس متحرک نظام کا فعال حصہ ہے۔ یہی وجہ ہے کہ وہ اپنی شاعری میں بار بار عمل، حرکت اور مسلسل کوشش کی دعوت دیتے ہیں۔ یہ وہی پیغام ہے جوبھگوت گیتا میں ملتا ہے۔
وہ کہتے ہیں:
عمل سے زندگی بنتی ہے جنت بھی جہنم بھی
یہ خاکی اپنی فطرت میں نہ نوری ہے نہ ناری ہے
اس شعر میں اقبال واضح کرتے ہیں کہ انسان کی حقیقت اور اس کا مقام اس کے عمل سے متعین ہوتا ہے۔ انسان اپنے اعمال کے ذریعے بلندی یا پستی حاصل کرتا ہے۔
ایک اور مقام پر وہ فرماتے ہیں:
خودی کو کر بلند اتنا کہ ہر تقدیر سے پہلے
خدا بندے سے خود پوچھے بتا تیری رضا کیا ہے
یہ شعر اقبال کے فلسفۂ خودی کا نچوڑ ہے۔ یہاں انسان کو تقدیر کا غلام نہیں بلکہ ایک بااختیار اور باعمل شخصیت کے طور پر پیش کیا گیا ہے۔اقبال، رہبانیت اور سنیاس کو پسند نہیں کرتے تھے، اسی لئے انہوں نے تصوف کے نام پر بے عملی کی مذمت کی ہے جبکہ وہ اہل تصوف کو پسند کرتے تھے،ان کی کتابیں پڑھتے تھے اور ان کے مزارات کی زیارت کے لئے بھی جاتے تھے۔ اقبال اس لئے بھی اہل تصوف سے عقیدت رکھتے تھے کہ ان کا خاندان کسی کشمیری ریشی کے زیراثر مسلمان ہوا تھا۔ اقبال نے خود کو جلال الدین رومی کا معنوی مرید بھی قرار دیا ہے۔اقبال کے ممدوح صوفیہ میں غزالی، منصور حلاج،شیخ احمد سرہندی اور شاہ ہمدان بھی شامل ہیں۔ایسے میں وہ تصوف سے تعلق خاطر کے باجود رہبانیت کو پسند نہیں کرتے تھے اور حرکت وعمل سے زندگی میں تبدیلی کے قائل تھے۔
بھگوت گیتا اورعمل کا تصور
بھگوت گیتا ہندوستانی فلسفے کی اہم ترین کتابوں میں سے ایک ہے۔ اس میں شری کرشن میدانِ جنگ میں ارجن کو اپنے فرائض اور ذمہ داریوں کی ادائیگی کا درس دیتے ہیں۔ گیتا کا بنیادی پیغام یہ ہے کہ انسان کو نتائج کی فکر میں مبتلا ہوئے بغیر اپنا فرض انجام دینا چاہیے۔
مہابھارت کی جنگ شروع ہونے سے قبل جب ارجن نے دیکھا کہ مخالف فوج میں اس کے رشتہ دار، اساتذہ اور دوست ہیں تو شدید ذہنی اضطراب میں مبتلا ہوااور شری کرشن سے کہا کہ میں اپنے بزرگوں، اساتذہ، بھائیوں، بیٹوں، دوستوں اور رشتہ داروں کو قتل نہیں کرنا چاہتا۔ ایسی فتح، سلطنت یا خوشی کا کیا فائدہ جس کے لیے اپنے ہی لوگوں کا خون بہانا پڑے؟ اپنوں کا قتل بڑا گناہ ہوگا۔نہ مجھے فتح کی خواہش ہے، نہ ریاست کی اور نہ ہی ان خوشیوں کی جن کے لیے ہم یہ جنگ لڑ رہے ہیں۔ایسے میں اپنے عزیزوں کو قتل کرنے سے بہتر ہے،بغیرہتھیار اٹھائے قتل ہوجانا۔ مہابھارت کے مطابق ارجن نے کہا اے کرشن! میں نہ فتح چاہتا ہوں، نہ سلطنت اور نہ ہی لذتیں۔ جن لوگوں کے لیے ہم سلطنت اور خوشیاں چاہتے ہیں، وہی لوگ ہمارے سامنے جنگ کے لیے کھڑے ہیں۔اس ذہنی کیفیت سے ارجن کو نکالنے کے لئے شری کرشن ،ارجن کو گیتا کا اپدیش دیتے ہیں جس میں فرض (دھرم)، عمل (کرم)، روح کی ابدیت اور نتائج سے بے تعلق ہو کر اپنے فرض کی ادائیگی پر زور دیا گیا ہے۔ یہی مکالمہ بھگوت گیتا کہلاتا ہے۔چونکہ اس میں عمل کی تاکید کی گئی ہے لہذا اسے اقبال پسند کرتے ہیں اور اپنی شاعری،خطبات اور خطوط میں بھی یہی پیغام دیتے ہیں۔
گیتا میں ترکِ عمل کی نہیں بلکہ عمل کے اندر رہتے ہوئے روحانی ارتقا کی تعلیم دی گئی ہے۔ شری کرشن ارجن کو جنگ سے فرار ہونے کے بجائے میدان میں ڈٹے رہنے اور اپنے فرض کی ادائیگی کا حکم دیتے ہیں۔
یہی وہ نکتہ ہے جو اقبال کی فکر سے قریب دکھائی دیتا ہے۔ اقبال بھی انسان کو دنیا سے کنارہ کش ہونے کے بجائے زندگی کے میدان میں سرگرم کردار ادا کرنے کی دعوت دیتے ہیں۔ تقدیر اور تدبیر کے فرق کو گیتا اور ہندو فلسفے میں کس طرح سمجھایا گیا ہے، اس بارے میں ان کی یہ تحریر پڑھیں:
""ہندو قوم کے دل و دماغ میں عملیات و نظریات کی ایک عجیب طریق سے آمیزش ہوئی ہے ۔ اس قوم کے موشگاف حکماء نے قوت عمل کی حقیقت پر نہایت دقیق بحث کی ہے اور بالآخر اس نتیجے پر پہنچے ہیں کہ انا کی حیات کا یہ مشهود تسلسل جو تمام آلام و مصائب کی جڑ ہے عمل سے متعین ہوتا ہے۔ یا یوں کہیے کہ انسانی انا کی موجودہ کیفیات اور لوازمات اس کے گزشتہ طریق عمل کالازمی نتیجہ ہیں اور جب تک یہ قانون عمل اپنا کام کرتا رہے گا وہی نتائج پیدا ہوتے رہیں گے۔ انیسویں صدی کے مشہور جرمن شاعر گوئٹے کا ہیرو فوسٹ جب انجیل یوحنا کی پہلی آیت میں لفظ کلام کی جگہ لفظ عمل پڑھتا ہے ۔
(ابتدا میں کلام تھا، کلام خدا کے ساتھ اور کلام ہی خدا تھا)
تو حقیقت میں اس کی دقیقہ رس نگاہ اسی نکتے کو دیکھتی ہے جس کو ہندو حکماء نے صدیوں پہلے دیکھ لیا تھا ۔ اس عجیب و غریب طریق پر ہندو حکماء نے تقدیر کی مطلق العنانی اور انسانی حریت اور بالفاظ دیگر جبر و اختیار کی گتھی کو سلجھا یا اور اس میں کچھ شک نہیں کہ فلسفیانہ لحاظ سے ان کی جدت طرازی داد و تحسین کی مستحق ہے اور بالخصوص اس وجہ سے کہ وہ ایک بہت بڑی اخلاقی جرات کے ساتھ ان تمام فلسفیانہ نتائج کو بھی قبول کرتے ہیں جو اس قضیہ سے پیدا ہوتے ہیں، یعنی یہ کہ جب انا کا تعین عمل سے ہے تو انا کے پھندے سے نکلنے کا ایک ہی طریق ہے اور وہ ترک عمل ہے ۔ یہ نتیجہ انفرادی اور بھی پہلو سے نہایت خطرناک تھا اور اس بات کا مقتضی تھا کہ کوئی مجد د پیدا ہو جو ترک عمل کے اصلی مفہوم کو واضح کرے۔
بنی نوع انسان کی ذہنی تاریخ میں سری کرشن کا نام ہمیشہ ادب واحترام سے لیا جائے گا کہ اس عظیم الشان انسان نے ایک دلفریب پیرائے میں اپنے ملک و قوم کی فلسفیانہ روایات کی تنقید کی اور اس حقیقت کو آشکار کیا کہ ترک عمل سے مراد ترک کلی نہیں ہے کیونکہ عمل اقتضائے فطرت ہے اور اسی سے زندگی کا استحکام ہے۔ بلکہ ترک عمل سے مراد یہ ہے کہ عمل اور اس کے نتائج سے مطلق دلبستگی نہ ہو۔
سری کرشن کے بعد سری رام نوج بھی اسی طریقے پر چلے مگر افسوس ہے کہ جس عروس معنی کو سری کرشن اور سری رام نوج نے بے نقاب کرنا چاہتے تھے، سری شنکر کے منطقی طلسم نے اسے پھر محجوب کردیا۔ اور سری کرشن کی قوم ان کی تجدید کے ثمر سے محروم رہ گئی۔"
(دیباچہ اسرارخودی)
دیباچۂ اسرارِ خودی کی اس عبارت میں علامہ اقبال نے ہندو فلسفے، خصوصاً قانونِ عمل (کرم) اور ترکِ عمل کے تصور کا نہایت گہرا اور منصفانہ جائزہ لیا ہے۔ اقبال یہاں محض تنقید نہیں کرتے بلکہ ہندو حکما کی فکری عظمت کا اعتراف بھی کرتے ہیں۔
اقبال کے مطابق ہندو مفکرین نے انسانی زندگی کے ایک بنیادی مسئلے، یعنی جبر و اختیار، کو حل کرنے کی سنجیدہ کوشش کی۔ ان کے نزدیک انسان کی موجودہ حالت اس کے سابقہ اعمال کا نتیجہ ہے اور زندگی کا تسلسل قانونِ عمل کے تحت جاری رہتا ہے۔ اقبال اس نظریے کی فلسفیانہ گہرائی کو تسلیم کرتے ہوئے اسے قابلِ تحسین قرار دیتے ہیں۔ اسی لیے وہ گوئٹے کے فاؤسٹ کی مثال دیتے ہیں، جہاں ’’کلام‘‘ کی جگہ ’’عمل‘‘ کو اصل حقیقت قرار دیا گیا ہے۔
اقبال کا فلسفہ عمل
اقبال ہر اس فلسفے کو ناپسند کرتے ہیں جو انسان کو بے عملی کی طرف راغب کرتا ہے۔ وہ مسلمانوں کو خاص طور پر حرکت وعمل کی دعوت دیتے ہیں تاکہ وہ اپنی شوکت رفتہ کو پاسکیں۔ وہ اپنی ایک تقریر میں کہتے ہیں:
"گزشتہ پانچ سو برسوں سے اسلامی فکر عملی طور پر ساکت وجامد چلی آرہی ہے۔ایک وقت تھا جب مغربی فکر اسلامی دنیا سے روشنی اور تحریک پاتا تھا۔"
علامہ محمد اقبال کے انگریزی خطبات کا اردو ترجمہ، صفحہ، 13،ناشر۔اقبال اکادمی پاکستان
اقبال کی اصل توجہ اسلامی فکر کی تجدید پر مرکوز رہی۔ وہ چاہتے تھے کہ جس طرح مغربی اور ہندو مفکرین نے اپنے فکری ورثے کو نئے انداز میں پیش کیا، اسی طرح مسلمانوں کو بھی ایک نئی فکری توانائی فراہم کی جائے۔بھگوت گیتا کی تعلیمات کو پسندیدگی کی نظر سے دیکھنے کا ایک اہم سبب یہ بھی ہے۔
خودی اور کرم کا تعلق
اقبال کے فلسفۂ خودی اور گیتا کے تصورِ کرم کے درمیان ایک نمایاں مماثلت یہ ہے کہ دونوں انسان کو فعال کردار ادا کرنے کی تلقین کرتے ہیں۔اقبال کے نزدیک خودی کوئی جامد یا ساکن شے نہیں بلکہ مسلسل عمل اور جدوجہد کے ذریعے پروان چڑھنے والی قوت ہے۔ انسان جتنا زیادہ عمل کرتا ہے، اس کی خودی اتنی ہی مضبوط ہوتی جاتی ہے۔
وہ فرماتے ہیں:
ستاروں سے آگے جہاں اور بھی ہیں
ابھی عشق کے امتحاں اور بھی ہیں
یہ شعر انسان کو مسلسل آگے بڑھنے، نئی منزلوں کی تلاش اور جدوجہد جاری رکھنے کا پیغام دیتا ہے۔
اسی طرح وہ کہتے ہیں:
نہیں تیرا نشیمن قصرِ سلطانی کے گنبد پر
تو شاہیں ہے بسیرا کر پہاڑوں کی چٹانوں میں
یہ شعر اقبال کی ایک نظم "ایک نوجوان کے نام" کا ہے۔ یہاں اقبال آسانی، آرام طلبی اور جمود کے بجائے بلند ہمتی، آزادی اور مسلسل جدوجہد کی تعلیم دیتے ہیں۔اقبال اپنے خطابات میں بھی نوجوانوں کو حرکت وعمل کی تاکید کرتے تھے اور انہیں سمجھاتے تھے کہ آرام طلبی کی نفسیات سے باہر نکلو اور محنت ومشقت کرو۔
اقبال اور ترکِ دنیا کے نظریات پر تنقید
اقبال ان تعبیرات کے شدید ناقد تھے جو انسان کو دنیا سے بے تعلق، بے عمل یا تقدیر کے حوالے کر دیتی ہیں۔ انہوں نے بعض صوفیانہ رجحانات اور فلسفیانہ تشریحات پر اسی بنیاد پر تنقید کی جن سے عمل کی قوت کمزور پڑتی تھی۔خصوصاً وہ شنکر آچاریہ کے فلسفۂ مایا اور بعض وحدت الوجودی تعبیرات کے ان پہلوؤں سے اختلاف رکھتے تھے جو دنیا کو محض وہم یا بے حقیقت قرار دیتے تھے۔حالانکہ وہ آدی شنکرآچاریہ کا احترام کرتے تھے۔ اقبال کے نزدیک دنیا عمل کا میدان ہے اور یہی میدان انسان کی شخصیت کی تعمیر کرتا ہے۔اسے آخری سانس تک جدوجہد جاری رکھنا چاہئے۔
ان کے نزدیک:
فقط نگاہ سے ہوتا ہے فیصلہ دل کا
نہ ہو نگاہ میں شوخی تو دلبری کیا ہے
اور:
جہانِ تازہ کی افکارِ تازہ سے ہے نمود
کہ سنگ و خشت سے ہوتے نہیں جہاں پیدا
یہ اشعار فکراور عمل کے باہمی تعلق کو ظاہر کرتے ہیں۔
اقبال کا ہندو مذہبی روایت سے تعلق
اقبال کے آباؤ اجداد کشمیری برہمن تھے جنہوں نے اسلام قبول کرلیا تھا۔ اقبال نے خود اپنے ایک شعر میں اپنے برہمن نسب کا ذکر کیا ہے۔تاہم ان کی فکری اور روحانی وابستگی مکمل طور پر اسلامی روایت سے تھی۔ ان کی اصل توجہ اسلامی فکر کی تجدید اور مسلمانوں کی فکری بیداری پر مرکوز رہی۔ اس کے لئے انہوں نے جہاں اسلامی روایات سے روشنی لی، وہیں ہندو علوم وفنون سے بھی اکتساب فیض کیا۔

جاوید نامہ اور حرکت کا پیغام
اقبال کی عظیم مثنوی جاوید نامہ دراصل ایک روحانی سفر نامہ ہے جس میں مختلف تاریخی، فلسفیانہ اور مذہبی شخصیات سے مکالمے پیش کیے گئے ہیں۔ اس پوری کتاب کا بنیادی پیغام بھی حرکت، ارتقا اور مسلسل عمل ہے۔
اقبال کے روحانی مرشد مولانا رومی اس کتاب میں بار بار انسان کو جمود، بے عملی اور محض مراقبے سے نکل کر عمل اور تخلیق کی دنیا میں آنے کی دعوت دیتے ہیں۔
یہی وجہ ہے کہ اقبال کی پوری فکر میں حرکت ایک بنیادی اصول کی حیثیت رکھتی ہے۔ ان کے نزدیک زندگی کا مطلب ہی حرکت ہے اور موت کا مطلب جمود۔
وہ کہتے ہیں:
یہی آئین قدرت ہے، یہی اسلوبِ فطرت ہے
جو ہے راہِ عمل میں گام زن، محبوبِ فطرت ہے
اقبال کی اپنی زندگی بھی حرکت وعمل سے عبارت تھی۔ انہوں نے اپنی زندگی میں جوکچھ بھی حاصل کیا،جدوجہد سے حاصل کیا۔ان کے والد شیخ نورمحمد ایک درزی تھے اور ٹوپیاں سلا کرتے تھے،ایسے میں ان کے بس میں نہ تھا،اعلیٰ تعلیم کے لئےیوروپ جائیں مگرجدوجہد نے اسے ممکن بنادیا تھا۔یہی سبب ہے کہ بھگوت گیتا کا فلسفہ عمل انہیں بھاتا تھا،اسے وہ سنسکرت میں پڑھتے تھے اور چاہتے تھے کہ اس کا ترجمہ کریں اور زیادہ سے زیادہ لوگوں تک پہنچائیں۔ چنانچہ مہاراجہ کشن پرشاد شاد کے نام ایک خط میں اقبال نے اس خواہش کا اظہار کیا تھا کہ وہ بھگوت گیتا کا ترجمہ کرنا چاہتے ہیں۔حالانکہ وہ مترجم نہیں تھے اور نہ ہی کسی کتاب کا کبھی ترجمہ کیا تھا مگراس کتاب نے انہیں اس قدر متاثر کیا تھا کہ وہ اس کا ترجمہ کرنے کے خواہشمند تھے۔گیتا کا اقبال کی فکر پر کس قدر اثر ہے،اس کا اندازہ اس بات سےلگایا جاسکتا ہے کہ گیتا میں بیان کیا گیا ہے کہ موت جسم کو آتی ہے روح کو نہیں کیونکہ روح امر ہے۔ اس پس منظر میں اقبال کہتے ہیں:
زندگی کی آگ کا انجام خاکستر نہیں
ٹوٹنا جس کا مقدر ہو یہ وہ گوہر نہیں
مجموعی طور پر دیکھیں تو اقبال کی شاعری پربھگوت گیتا میں بیان کے گئے شری کرشن کے اپدیشوں کا بڑا اثر نظر آتا ہے اور وہ چاہتے تھے کہ پوری قوم حرکت وعمل میں رہے:
صورت شمشیر ہے دست قضا میں وہ قوم
کرتی ہے جو ہر زماں اپنے عمل کا حساب