علامہ اقبال اور ہندوفلسفہ ۔2

Story by  غوث سیوانی | Posted by  [email protected] | Date 29-08-2026
علامہ اقبال اور ہندوفلسفہ ۔2
علامہ اقبال اور ہندوفلسفہ ۔2

 



دوسری قسط

غوث سیوانی،نئی دہلی

اقبال کے اشعار میں قومی یکجہتی کا پیغام

اقبال نے اپنی شاعری کے ذریعے حب الوطنی کے ساتھ ساتھ قومی یکجہتی کا بھی پیغام دیا۔ انہوں نے ہندو، سکھ بزرگوں اورعیسائی فلسفیوں کی تعریف نظم ونثر میں کی۔ اسی کے ساتھ گوتم بدھ ، زرتشت اور مانی پر بھی لکھا۔ یہاں تک کہ انہوں نے ایران کے ایک بانی مذہب بہاء اللہ کے تعلق سے بھی اپنے پی ایچ ڈی کے مقالے میں لکھا ہے۔ واضح ہوکہ بہائی مذہب کے بانی بہاء اللہ نے نبوت کا دعویٰ کیا تھا اور مسلمانوں کی طرف سے اس کی سخت مخالفت ہوئی تھی۔ اس سے اندازہ ہوتا ہے کہ اقبال دوسرے مذاہب کا کس قدر احترام کرتے تھے۔ اس موضوع پر اردو اور فارسی میں ان کے سینکڑوں اشعار موجود ہیں۔

زنار ہو گلے میں، تسبیح ہاتھ میں ہو

یعنی صنم کدے میں شان حرم دکھا دیں

پہلو کو چیر ڈالیں، درشن ہو عام اس کا

ہر آتما کو گویا اک آگ سی لگا دیں

آنکھوں کی ہے جو گنگا لے لے کے اس سے پانی

اس دیوتا کے آگے اک نہر سی بہا دیں

ہندوستان“ لکھ دیں ماتھے پہ اس صنم کے

بھولے ہوئے ترانے دنیا کو پھر سنا دیں

مندر میں ہو بلانا جس دم پجاریوں کو

آوازہءاذاں کو ناقوس میں چھپا دیں

اگنی ہے وہ جو نرگن، کہتے ہیں پیت جس کو

دھرموں کے یہ بکھیڑے اس آگ میں جلا دیں

 اقبال ایسی قومی یکجتی اور مذہبی ہم آہنگی چاہتے تھے جو انصاف، اخلاق، روحانیت اور باہمی احترام پر مبنی ہو۔ ان کے نزدیک محض جغرافیائی قومیت کے بجائے مشترک اقدار اور اعلیٰ اخلاقی مقاصد ہی کسی قوم کو مضبوط اور متحد بنا سکتے ہیں۔

awaz

اقبال کی نظر میں ہندو

اقبال اگرچہ اسلامی فلسفہء زندگی کے مبلغ تھے مگرہندووں کے تعلق سے جو ان کے مثبت نظریات تھے، اس سے بیشترلوگ واقف نہیں ہیں۔ اقبال کا ماننا تھا کہ ہندو نہ صرف دنیا کی قدیم ترین قوم ہیں بلکہ یہ وہ قوم ہے جس کے پاس تب علم وہنر کا خزانہ موجود تھا جب باقی دنیا تاریک دور سے گزر رہی تھی۔ ان کا خیال ہے کہ:

""ہندو قوم کے دل و دماغ میں عملیات و نظریات کی ایک عجیب طریق سے آمیزش ہوئی ہے ۔ اس قوم کے موشگاف حکماء نے قوت عمل کی حقیقت پر نہایت دقیق بحث کی ہے۔"

(دیباچہ اسرارخودی)

اقبال نے اپنے پی ایچ ڈی کے مقالہ میں ہندوستانی اور ایرانی کے انداز فکر کا مطالعہ کیا ہے اور فلسفہ ویدانت کا بھی حوالہ پیش کیا ہے۔ ذرا اقبال کی یہ عبارت دیکھیں:

"ایک ہندی بھی ایک ایرانی کی طرح علم کے ایک اعلی ماخذ کی ضرورت کو تسلیم کرتا ہے، لیکن وہ ایک تجربہ سے دوسرے تجربہ کی طرف خاموشی کے ساتھ آگے بڑھتا ہے ، اور بے رحمی سے ان تجارب کا تجزیہ کرتا جاتا ہے۔ تاکہ وہ کلیت ان تجارب سے منکشف ہو جائے ، جو اُن کی تہہ میں پوشیدہ ہے ۔ واقعہ یہ ہے کہ ایرانی کو ما بعد الطبعیات کا بحیثیت ایک نظام فکر کے شعور خفی ہوتا ہے، اس کے برخلاف ایک برہمن اس بات کو پوری طرح محسوس کرتا ہے کہ اس کے نظریہ کو ایک مدلل نظام کی صورت میں پیش کرنیکی ضرورت ہے ۔ ان دونوں اقوام کے ذہنی اختلاف کا نتیجہ ظاہر ہے۔ ایک طرف تو ایسے نظامات فکر دستیاب ہوتے ہیں جو پوری طرح مربوط و منضبط نہیں ہیں۔ اور دوسری طرف متجسس ویدانت ہے جس کی عظمت مرعوب ، مرعوب کن ہے ۔"

( تمہید فلسفہ عجم، اقبال کی پی ایچ ڈی کا مقالہ، ناشر تصدق حسین تاج، حیدرآباد دکن، )1936

awaz

اس اقتباس میں اقبال نے ہندوستانی اور ایرانی اذہان کا موازنہ کرتے ہوئے ہندوستانی ذہن کو برتر قرار دیا ہے۔ وہ کہنا چاہتے ہیں کہ ایرانی ذہن کسی بھی موضوع کی جزئیات تک فوری رسائی حاصل کرنے کا شدید اشتیاق رکھتا ہے۔ یہی بے تابی اکثر اسے اس منظم فکری عمل سے دور کر دیتی ہے جس کے ذریعے خیالات بتدریج پختہ ہوتے، تجربات جذب کیے جاتے اور کسی موضوع سے متعلق بنیادی اصولوں کی گہرائی سے تشریح و تعبیر ممکن ہوتی ہے۔ ایک ذہین ہندوستانی کی طرح ایرانی بھی اشیا کے پسِ پردہ موجود وحدت کو محسوس کر لیتا ہے، لیکن دونوں کے طرزِ فکر میں ایک نمایاں فرق ہے۔ ہندوستانی انسانی تجربے کے مختلف پہلوؤں کا صبر و تحمل سے جائزہ لیتا ہے اور ہر زاویے سے اس حقیقت کو آشکار کرنے کی کوشش کرتا ہے جو ان تمام تجربات میں مشترک ہوتی ہے۔ اس کے برعکس، ایرانی اکثر کسی تصور کی عمومی اور آفاقی صورت کو قبول کر لینے پر اکتفا کرتا ہے۔ان دونوں ذہنی رویّوں کا نتیجہ بھی واضح ہے۔ظاہر ہے کہ ہندوستانی روایت میں یہی جستجو ایک منظم فلسفیانہ نظام کی صورت اختیار کر لیتی ہے، جس کی نمایاں مثال ویدانت کا نہایت بلند، مربوط اور شاندار فکری ڈھانچہ ہے۔

بات صرف اتنی نہیں کہ اقبال نے ہندووں کی تاریخ کو شاندار قراردیا ہے بلکہ انہوں نے اپنے عہد کے ہندووں کو بھی خراج تحسین پیش کیا ہے۔ البتہ اقبال کی سوچ یہ تھی کہ ہندو مغرب کے راستے پر چلتے ہوئے اپنی اخلاقیات نہ چھوڑیں۔ انہوں نے اپنی ڈائری میں لکھا تھا:

"یہ انتہائی دلچسپی کی بات ہے کہ کسی قوم میں ایک نئے نصب العین کی

آفرینش اور نشوونما کا مشاہدہ کیا جائے ۔ یہ نصب العین نیا ولولہ اور جوش پیدا کرتا ہے اور شدت کے ساتھ اس قوم کی تمام توانائیوں کو ایک مشترکہ مرکز پر مجتمع کر دیتا ہے۔ دور جدید کا ہندو اس صورت حال کا مظہر ہے۔ میرے لیے اس کا رویہ سیاسی مطالعے سے زیادہ نفسیاتی ہے۔ ایسا محسوس ہوتا ہے کہ سیاسی آزادی کا مطمح نظر جو اس کے لیے بالکل ایک نیا تجربہ رکھتا ہے اس کی روح پر مکمل طور پر قابض ہو گیا ہے جس سے اس کی روح کے متعدد دھارے اپنی حسب معمول آبناؤں کو چھوڑ کر میدانِ عمل کے نئے آبنائے میں کھل کر شدت کے ساتھ آگے آئے ہیں ۔ اس تجربے سے گزرنے پر اسے اپنے نقصان کا اندازہ ہو گا ۔ وہ اپنی کایا پلٹ کر بالکل ایک نئی قوم میں آجائے گا۔ نئی اس مفہوم میں کہ وہ اپنے آپ میں ان اخلاقی تصورات کا غلبہ نہیں پائے گا جو اس کے اسلاف کی تھیں، جن کے پُرجلال تصورات بہت سے مضطرب ذہنوں کی دوامی دل جوئی کا ذریعہ رہے ہیں ۔اقوام ، تصورات کا سرچشمہ ہیں، لیکن تصورات وقت گزرنے کے ساتھ ساتھ نئی اقوام کو جنم دیتے ہیں۔"

(منتشر خیالات اقبال، ص55-56 مرتب جاوید اقبال، جھیلم بک کارنر، پاکستان)

 ڈائری کے اس اقتباس میں علامہ اقبال نے ہندو قوم کی سیاسی بیداری کو محض ایک سیاسی واقعہ نہیں بلکہ ایک نفسیاتی اور تہذیبی انقلاب کے طور پر دیکھا ہے۔ یہ اس دور کی بات ہے جب ہندوستان کی آزادی کی جدوجہد عروج پر تھی اور شہرشہر، قریہ قریہ آزادی کے نعرے گونج رہے تھے۔ظاہر ہے کہ اس کا اثر ہندوہی نہیں بلکہ ملک کے تمام شہریوں پر پڑ رہا تھا مگر انہوں نے خاص طور پرملک کی اکثریت کے حالات کا جائزہ لیا ہے۔ اقبال کی نظر اس بات پر ہے کہ جب کسی قوم کو ایک نیا نصب العین مل جاتا ہے تو وہ اس کی منتشر توانائیوں کو ایک مرکز پر جمع کر دیتا ہے اور اس کی اجتماعی شخصیت میں گہری تبدیلی پیدا کرتا ہے۔ ظاہر ہے کہ وہ ایک نفسیات داں کی طرح ہندوسماج کی نفسیات کو سمجھ رہے تھے۔

اقبال کے نزدیک برصغیر کا ہندو معاشرہ تحریک آزادی کے دوران ایک ایسے مرحلے سے گزر رہا تھا جہاں سیاسی آزادی اس کا سب سے بڑا مقصد بن چکی تھی۔ وہ کہتے ہیں کہ آزادی کا یہ تصور ہندو ذہن کے لیے ایک نیا تجربہ تھا، اس لیے اس نے قوم کی تمام ذہنی، جذباتی اور عملی قوتوں کو اپنی طرف کھینچ لیا۔ اقبال اس تبدیلی کو ایک فطری اور طاقتور نفسیاتی عمل سمجھتے ہیں، جس میں قوم کی پرانی ترجیحات اور فکری دھارے ایک نئے رخ پر بہنے لگتے ہیں۔

اس اقتباس کی سب سے اہم بات اقبال کی یہ پیش گوئی ہے کہ جب کوئی قوم ایک نئے نصب العین کو اختیار کرتی ہے تو وہ صرف سیاسی طور پر نہیں بدلتی بلکہ اس کے اخلاقی اور روحانی تصورات بھی تبدیل ہونے لگتے ہیں۔ اقبال کے خیال میں سیاسی آزادی کی جدوجہد ہندو قوم کو ایک نئی اجتماعی شخصیت عطا کرے گی، لیکن اس کے نتیجے میں وہ بعض ان اخلاقی اور روحانی اقدار سے بھی دور ہو سکتی ہے جو اس کے قدیم اسلاف کی پہچان تھیں۔ یہاں اقبال کسی مذمت یا تحسین کے انداز میں نہیں بلکہ ایک مفکر اور مبصر کے طور پر تاریخی تبدیلی کے اثرات کو بیان کر رہے ہیں۔ ان کا تجزیہ غلط بھی نہیں تھا کیونکہ آج ہم دیکھ رہے ہیں کہ ہندوستانیوں کے قدیم اقدارمیں تبدیلی آچکی ہے اور مشرقی اخلاقیات کو چھوڑ کرمغرب کی تقلید میں آنکھ بند کرکے چل پڑے ہیں۔

فلسفۂ ویدانت کیا ہے؟

اقبال کی نظر فلسفہ ویدانت پر تھی۔ انہوں نے سنسکرت کے مضامین کو سنسکرت زبان میں پڑھا تھا نیزانہوں نے سنسکرت کتابوں کے تراجم اور ان پر تبصروں کو بھی پڑھاتھا۔ انہوں نےمغربی محققین کی تحریروں کے ذریعے بھی ویدانت کا گہرا مطالعہ کیاتھا۔ ان کے فلسفیانہ مباحث میں ویدانت کے نظریات کا ذکر باربار ملتا ہے۔

لفظ "ویدانت" سنسکرت کے دو الفاظ "وید" اور "انت" سے مل کر بنا ہے۔ "وید" کے معنی علم یا مقدس معرفت کے ہیں، جبکہ "انت" کے معنی آخری حصہ، اختتام یا نچوڑ کے ہیں۔ اس طرح ویدانت کا مطلب "ویدوں کا آخری حصہ" یا "ویدوں کی تلخیص" بنتا ہے۔ چونکہ ویدوں کے آخری ابواب کو "اپنشد" کہا جاتا ہے، اس لیے ویدانت دراصل اپنشدوں میں بیان کردہ فلسفیانہ تعلیمات کا نام ہے۔ یہی وجہ ہے کہ بعض اوقات ویدانت کو "اپنشدوں کا فلسفہ" بھی کہا جاتا ہے۔

ویدانت کی فکری بنیاد تین اہم مذہبی اور فلسفیانہ متون پر قائم ہے۔ اپنشد، بھگوت گیتا اور برہما سُوتر۔ اپنشدوں میں کائنات، روح، خدا اور نجات کے مسائل پر گہری فلسفیانہ بحث ملتی ہے۔ بھگوت گیتا، ان نظریات کو عملی اور اخلاقی زندگی سے جوڑتی ہے، جبکہ برہما سُوتر ان تمام تعلیمات کو ایک منظم فلسفیانہ شکل میں پیش کرتا ہے۔ویدانت کے تمام مکاتبِ فکر انہی متون کی تشریح اور توضیح پر قائم ہیں۔

ویدانت ہندو فلسفے کا ایک اہم مکتبِ فکر ہے۔ اس فلسفے کا مرکزی تصور یہ ہے کہ کائنات کی اصل حقیقت "برہمن" ہے اور فرد کی روح یعنی "آتما" اسی حقیقتِ مطلقہ کا حصہ ہے۔

وقت کے ساتھ ویدانت کی مختلف تشریحات سامنے آئیں اور اس کے کئی مکاتبِ فکر وجود میں آئے۔ ان میں سب سے زیادہ معروف ادویت ویدانت ہے، جسے آدی شنکراچاریہ نے منظم شکل دی۔ اس نظریے کے مطابق صرف برہمن حقیقی ہے اور باقی تمام کائنات مایا یا مظہر ہے۔ اس کے برعکس رامانج نے وششٹ ادویت کا نظریہ پیش کیا جس میں خدا اور روح کے درمیان گہرا تعلق تو تسلیم کیا گیا، لیکن دونوں کو مکمل طور پر ایک نہیں مانا گیا۔ بعد ازاں مدھو آچاریہ نے دویت ویدانت کی بنیاد رکھی، جس کے مطابق خدا اور روح ہمیشہ الگ الگ حقیقتیں ہیں اور ان کے درمیان مکمل اتحاد ممکن نہیں۔ شیومت کا نظریہ بھی عہد وسطیٰ کے ہندوستان میں رائج تھا جس کا مرکز کشمیر تھا۔ شیوازم میں بھی صرف ایک شیو کی پرستش کی بات کہی گئی تھی اور اسے نراکار مانا گیا تھا۔

اقبال اور فلسفہ ویدانت

اقبال نے ویدانت کے اس تصور کو سمجھا اور اس پرتنقیدی وتجزیاتی گفتگو کی۔ اگرچہ وہ اسلامی تصورِ توحید کو ویدانت کے نظریے پر ترجیح دیتے تھے، لیکن انہوں نے کبھی ویدانت کو حقارت کی نظر سے نہیں دیکھا بلکہ جہاں ضرورت محسوس کی،اسے اپنی شاعری اور نثر میں جگہ دی۔ ان کے نزدیک ویدانت میں روحانیت، خود شناسی اور حقیقت کی تلاش کے ایسے عناصر موجود ہیں جوانسان کو غور و فکر کی دعوت دیتے ہیں۔ وہ وحت کی جو بات کرتے ہیں،اس کے پیچھے بھی ویدانت کا فلسفہ ہے۔ وہ اس فلسفہ سے کہیں جزوی اتفاق کرتے ہیں اور کہیں علمی طریقے سے اختلاف۔

فلسفہ عجم میں وہ رقم طراز ہیں:

 "تاہم یہ ذہن نشین رکھنا چاہئے کہ مابعد کے صوفیانہ فرقوں نے (جیسے نقشبندیہ) اس تحقق کو حاصل کرنے کے دوسرے ذرائع بھی ایجاد کئے ، یا یوں کہو کہ ہندی وید انتیوں سے ان کو مستعار لیا ۔ کندالینی کے ہندی نظریہ کی تقلید میں انہوں نے یہ تعلیم دی کہ جسم انسانی میں مختلف رنگوں کی روشنی کے چھ مراکز ہیں- صوفی کا مطمح نظریہ ہوتا ہے کہ مراقبہ کے چند طریقوں کے استعمال سے ان کو متحرک کرے اور اس کے ذریعہ رنگوں کی ظاہری کثرت و تعدد میں سے بالاخر اس اساسی نور کو متحقق کرلے لے جو بے رنگ ہے  اور جس کی وجہ سے ہرشئے دکھائی دیتی ہے لیکن وہ خود غیر مرئی ہے۔"-

فلسفہ عجم، ص107

یہ اقتباس علامہ اقبال کے تحقیقی اور تقابلی مطالعے کا عمدہ نمونہ ہے۔ اس میں وہ تصوف اور ہندو فلسفے، خصوصاً ویدانت کے درمیان موجود بعض فکری مماثلتوں کی نشاندہی کرتے ہیں۔ اقبال کے مطابق بعد کے بعض صوفی سلسلوں، جیسے نقشبندیہ، نے روحانی ارتقا اور باطنی شعور کے لیے بعض ایسے طریقے اختیار کیے جو ہندو فلسفے کے کندالینی نظریے سے مشابہ تھے۔

اقبال نے ویدانت کا کس قدر گہرا مطالعہ کیا تھا اور اس نظریہ کی جھلک انہیں کہاں کہاں دکھائی دیتی تھی، اس کا اندازہ ان کی اس اقتباس سے ہوتا ہے:

"اس تصور کے نشوونما نما پر ان ہندو زائرین کا اثر پڑا ہو گا جو ایران میں سے ہوتے ہوئے اُن بودھی مندروں کو جایا کرتے تھے ۔ جو اُس وقت باکو میں موجود تھے ۔ اس مکتب کو حسین منصور نے بالکل وحدت الوجودی بنا دیا اور ایک سچے ہندو ویدانتی کی طرح انا الحق (اہم برہما اسمی) چلا اٹھا۔"

فلسفہ عجم۔ ص111

یہ اقتباس علامہ اقبال کی تقابلی فلسفیانہ تحقیق کا اہم نمونہ ہے، جس میں وہ ایرانی تصوف اور ہندو ویدانت کے درمیان فکری تعلقات کی نشاندہی کرتے ہیں۔ اقبال کے مطابق ایران میں بدھ مت اور ہندو فلسفے کے اثرات بعض صوفیانہ تصورات کی تشکیل میں شامل رہے۔ ان کا خیال ہے کہ باکو(آزربائیجان) کے بدھ مندروں کی زیارت کرنے والے ہندو راہبوں کے ذریعے یہ افکار ایران تک پہنچے اور بعد میں بعض صوفی مکاتب نے ان سے اثر قبول کیا۔

اقبال کے نزدیک حسین بن منصور حلاج نے اس رجحان کو انتہا تک پہنچایا اور وحدت الوجود کے تصور کو اس انداز میں پیش کیا کہ ان کا مشہور نعرہ "انا الحق" (میں ہی حق ہوں)ہندو ویدانت کے معروف مقولے "اہم برہما اسمی" جیسا ہی دکھائی  دیتا ہے۔ اس تقابل کے ذریعے اقبال یہ واضح کرنا چاہتے ہیں کہ مختلف تہذیبوں اور فلسفیانہ روایات کے درمیان فکری مماثلتیں اور اثرات موجود رہے ہیں۔ خاص طور پر ہندوستان کی فلاسفی نے اک دنیا کو متاثر کیا۔

awaz

اقبال کی تحریروں میں ہندوفلسفہ

اقبال نے اپنی تحریروں میں جہاں تہاں ہندوفلسفے کو انتہائی خوبصورتی کے ساتھ پیش کیا ہے کہ پڑھنے والے کو احساس ہی نہیں ہوتا کہ اس علمی خزانے کا مصدر ومنبع کہاں ہے؟ حالانکہ کہیں کہیں انہوں نے خود ہی اشارہ دیدیا ہے کہ وہ انہوں نے کہاں سے استفادہ کیا ہے۔ حالانکہ اقبال پر تحقیق کرنے والے ان کی علمی گہرائی کو سمجھ سکتے ہیں۔ یہ بات کم لوگوں کو معلوم ہے کہ اقبال نے بچوں کے لئے کچھ ٹیکسٹ بکس بھی لکھی تھیں، انہیں میں ایک کتاب تاریخ ہند بھی تھی۔ اس کتاب میں سنسکرت لٹریچر کی تاریخ بھی بیان کی گئی ہے۔ اس کے چند اقتباس پیش کئے جارہے ہیں تاکہ آپ اقبال کی ہندو فلسفےاور تاریخ کے تعلق سے معلومات کا اندازہ لگاسکیں۔

"ہندوؤں کے مذہبی علم ادب کو دو حصوں میں تقسیم کیا ہے۔ اول شرتی یعنی الہامی کتابیں اور یعنی روایتیں یا حدیثیں ۔ منجمله أن کے اول قسم میں تو ویدوں کے سنہتا اور برہمن ہیں ۔ اور دوسری قسم میں اور بیشمار کتابیں جو یدوں کا تتمہ خیال کی گئی ہیں ۔ان سب کو دھرم شاستر کہتے ہیں ۔

وید چار ہیں۔ اور ان کے نام یہ ہیں۔رگ وید۔ یجروید۔ سام وید۔ اتھر وید۔ ان میں سے ہر ایک وید کے دو حصے ہیں اور بھجن یا منتر جس کو سنہتا کہتے ہیں۔ ان میں ان کے مصنفوں کی حاجتیں اور آرزوئیں مندرج ہیں ۔ جن سے اُس زمانے کے لوگوں کے طریق معاشرت کی کیفیت معلوم ہوتی ہے۔ دوسرے حصے کو برہمن کہتے ہیں ۔ اور ان میں اکثر مذہبی رسموں کا بیان ہے ۔ ان کتابوں میں سے رگ وید جو سب سےپرانا وید ہے۔ اس کے منتر اعلیٰ رُتبے کے ہیں۔ آریا زبانوں میں جس قدر کتابیں موجود ہیں ، رگ وید اُن سب سے پرانی کتاب ہے ۔ اس کو سنہ عیسوی سے قریب چودہ سو برس پیشتر کی تصنیف سمجھتے ہیں ۔ اس کے منتروں میں بڑے بڑے مظاہر قدرت میں سے کسی کو معبود یا دیوتا تصور کرکے اُس کی طرف خطاب کیا گیا ہے ۔ اور ان دیوتاؤں کے نام ہیں ۔ اندر یعنی آسمان کا دیوتا جو اکثر صفات الہی سے موصوف کیا گیا ہے۔ اگنی یعنی آگ کا دیوتا ، ورن یعنی آکاش اور مینہ کا دیوتا - سوتری، سوریہ ، متریہ تینوں سورج کے نام ہیں۔ وایو یعنی ہوا کا دیوتا ۔ مرت یعنی صرصر کا دیوتا - اشا یعنی نور کا تڑکا۔ ان کے سوا آسون اور اور بھی بہت سے دیوتا ہیں۔"

تاریخ ہند، مصنف علامہ اقبال اور لالہ رام پرشاد، ص441, 42

مصنفین نے ہندو مذہبی متون کی تقسیم، ان کی اقسام اور قدامت کو تاریخی انداز میں بیان کیا ہے تاکہ قاری ہندو مذہبی روایت کی بنیادوں کو سمجھ سکے۔

عبارت میں واضح کیا گیا ہے کہ ہندو مذہبی ادب دو بڑے حصوں پر مشتمل ہے: شرتی(Shruti)، جسے الہامی یا مقدس ترین متون سمجھا جاتا ہے، اور سمرتی(Smriti)، جو روایت، تشریح اور فقہی احکام پر مشتمل ہے۔ یہ تقسیم ہندو مذہب کی مذہبی روایت کو سمجھنے میں بنیادی حیثیت رکھتی ہے۔اقبال نے اسی پر بس نہیں کیا ہے ۔مزید لکھتے ہیں کہ:

"آخر ویدانت میں جوتش یعنی علم نجوم داخل ہے ۔ اس فن کی نہات پرانی کتاب جو موجود ہے۔ وہ پراسر کی تصنیف سے ہے مگر آریا بھٹ جو 500ع میں گزرا ہے ۔ وہ علم جو تش کا بڑا مصنف گنا جاتا ہے۔ اس نے زمین کی روزانہ محوری گردش کا حال لکھا ہے۔ اور نیز بعض اور ایسی باتیں بھی دریافت کی تھیں۔ جو اس زمانے کی حیثیت سے بہت بڑھ کر تھیں ۔ اس علم میں ایک اور مصنف بھاسکر آچاریہ نام 1100عیسوی کے قریب مقام بیدر علاقہ دکن میں پیدا ہوا ۔ کہتے ہیں ۔ کہ اُس نے علم ریاضی کا ایک ایسا مسئلہ دریافت کیا تھا۔ جو زمانہ حال کے ریاضی دانان یورپ کے مسئلہ جزئیات سے بہت مشابہ ہے ۔ صفحہ, 443

عبارت میں ویدانت کے آخری شعبے جوتش(Jyotisha) کا ذکر کیا گیا ہے، جو قدیم ہندوستان میں فلکیات، تقویم اور اجرامِ فلکی کے مطالعے سے متعلق تھا۔ مصنفین نے آریا بھٹ کو علمِ نجوم کا عظیم عالم قرار دیتے ہوئے اس کی اس دریافت کا ذکر کیا ہے کہ زمین اپنے محور پر گردش کرتی ہے۔ اسی طرح بھاسکر آچاریہ کی ریاضیاتی خدمات کو بھی سراہا گیا ہے اور بتایا گیا ہے کہ ان کے بعض نظریات جدید یورپی علمِ حساب، خصوصاً حسابِ جزوی و تکاملی(Calculus)، سے مماثلت رکھتے ہیں۔

یہ عبارت اس حقیقت کی طرف اشارہ کرتی ہے کہ قدیم ہندوستانی علماء نے اپنے زمانے میں سائنسی اور ریاضیاتی علوم میں قابلِ ذکر پیش رفت کی، جسے بعد کی دنیا نے بھی اہمیت دی۔ تاہم، جدید تحقیق کی روشنی میں یہ کہنا زیادہ درست ہوگا کہ بھاسکر آچاریہ کے بعض تصورات جدید حسابِ جزوی و تکاملی سے مشابہ ضرور تھے، لیکن انہیں موجودہ شکل میںCalculus کا باضابطہ موجد قرار دینا تاریخی طور پر محلِ بحث ہے۔ اسی طرح آریا بھٹ کے نظریات کی تشریح بھی جدید علمی تحقیقات کی روشنی میں زیادہ تفصیل سے کی جاتی ہے۔یہ تمام وہ علمی خزانے ہیں جن پر نہ صرف اقبال کی نظر تھی بلکہ انہوں نے اسے پیش بھی کیا ہے۔ یہی سبب ہے کہ اقبال ہندوستان کی قدیم تاریخ اور ہندو فلاسفہ سے بے حد متاثر تھے۔

مجموعی طور پر دیکھیں تو اقبال نے دنیا بھر کے نظریات اور فلسفوں کا مطالعہ کیا اور ان سے اثر قبول کیا، ایسے میں یہ ممکن ہی نہیں تھا کہ وہ قدیم ہندوفلسفے کو نہ پڑھیں اور اس کی خوبیوں کے معترف نہ ہوں۔ اقبال نے جن سرچشموں سے اکتساب فیض کیاان میں قدیم ہندو فلسفہ اور قدیم گرنتھ بھی شامل ہیں۔ اس کا ثبوت یہ ہے کہ انہوں نے اپنی نظم ونثر میں اسے جہاں تہاں برتا بھی ہے۔