غوث سیوانی، نئی دہلی
علامہ اقبال جیسے اسلامی مفکر نے ہندوفلسفیوں کو کیوں پسند کیا؟انہیں اپنی تحریروں اور تقریروں میں کیوں جگہ دی؟ آخر انہیں ویدانت کا فلسفہ کیوں بھاتا تھا؟ اقبال نے ہندو بزرگوں کی تعریف کیوں کی ہے؟آخر اقبال بیف کیوں نہیں کھاتے تھے؟ یہ وہ سوال ہیں جو اکثر ان لوگوں کے ذہنوں میں ابھرتے ہیں جو اقبال کے نظریات کو گہرائی سے سمجھنے کی کوشش کرتے ہیں۔اقبال کے بارے میں کئی تنازعات بھی زیربحث آتے ہیں جن میں سے ایک یہ بھی ہے کہ انہوں نے پاکستان کا نظریہ پیش کیا تھا۔ دراصل علامہ اقبال برصغیر کی فکری، ادبی اور فلسفیانہ تاریخ کی ایک ایسی عظیم شخصیت ہیں جس نے مشرق و مغرب کے مختلف فکری دھاروں کا گہرا مطالعہ کیا اور ان سے ایک تخلیقی مکالمہ قائم کیا۔
وہ ایک اسلامی مفکر تھے،اس میں کوئی شک نہیں، لیکن ان کی شخصیت کا ایک اہم پہلو یہ بھی ہے کہ انہوں نے ہندوستان کی قدیم مذہبی اور فلسفیانہ روایات، خصوصاً فلسفۂ ویدانت، کا نہایت سنجیدگی اور دیانت داری سے مطالعہ کیاتھا۔ انہوں نے ہندومت کے ساتھ ساتھ دوسرے مذاہب کے نظریات اور شخصیات کو بھی سمجھنے کی کوشش کی تھی۔ ان کے ہاں مذہب نفرت، تعصب اور تقسیم کا ذریعہ نہیں بلکہ انسانیت، اخلاق اور روحانی ارتقا کا وسیلہ ہے۔اصل میں اقبال ایک برہمن تھے اور وہ اپنے ہندو پس منظرکا بھی احترام کرتے تھے۔ وہ سنسکرت سے واقف تھے اور انہوں نے فلسفہ ویدانت کا گہرا مطالعہ کیا تھا۔

اقبال کا خاندانی پس منظر اور ہندوستانی تہذیب سے تعلق
علامہ اقبال کے آباؤ اجداد کا تعلق کشمیر کے برہمن خاندان سے تھا۔ ان کے بزرگ سترہویں صدی میں اسلام قبول کر چکے تھے۔ اقبال اپنے اس تاریخی اور تہذیبی پس منظر سے پوری طرح آگاہ تھے۔ یہ بات بہتوں کے لئے حیرت انگیز ہوگی کہ وہ گائے کا گوشت بالکل نہیں کھاتے تھے جبکہ وہ جس شہر سیالکوٹ میں رہتے تھے،وہاں بیف کھانا عام بات تھی۔پتہ نہیں یہ ان کے ہندو اور برہمن پس منظر کے سبب تھا یا کسی اور وجہ سے لیکن یہ حقیقت ان کے سوانح نگاروں نے لکھا ہے کہ بیف سے انہیں سخت پرہیز تھا۔سوانح نگاروں کے مطابق وہ اگرچہ جیوتش میں یقین نہیں رکھتے تھے مگرانہوں نے اپنے بیٹے جاوید اقبال کی جنم کنڈلی بنوائی تھی۔

اقبال، اپنے بیٹے جاوید اقبال کے ساتھ
اقبال کا تعلق کشمیری پنڈتوں کے اس طبقے سے تھا جس نے عہد وسطیٰ میں کشمیرمیں مسلم سلطنت کے قیام کے بعد سب سے پہلے فارسی زبان سیکھی تھی اور حکومت کی ملازمت میں آگیا تھا۔ اس طبقے کو "سپرو" کہا جاتا تھا جو بعد میں ایک گوتر کے طور پر جانا گیا۔ اقبال کے بیٹے جسٹس جاوید اقبال نے اپنے والد کی سوانح عمری "زندہ رود" میں لکھتے ہیں:
" ایک قلمی رجسٹری شدہ دستاویز میں اقبال نے اپنی قومیت سپرو (کشمیری پنڈت) تحریر کی ہے۔ انہوں نے اپنے والد سے سن رکھا تھا کہ ان کا تعلق کشمیری برہمنوں کے ایک قدیم خاندان سے ہے۔ گوت ان کی "سپرو" ہے اور ان کے جد اعلیٰ جنہوں نے اسلام قبول کیا، بابا لول حج، یہ لولی حاجی کے لقب سے پکارے جاتے تھے۔""
جب کہ ماہراقبالیات پروفیسر جگن ناتھ آزاد نے لکھا ہے کہ
"شیخ (اقبال) صاحب کا کشمیری پنڈتوں کے ایک خاندان سے تعلق ہے جس کی ایک شاخ کشمیر میں موجود ہے۔ شیخ صاحب کے جدا علی ، قریبا دو سو سال ہوئے کہ مسلمان ہوئے تھے۔ گوت ان کی سپرو ہے۔ ان کے بزرگوں کا اسلام پر ایمان لانا ایک ولی کے ساتھ عقیدت کی وجہ سے ہوا اور وہ حسن عقیدت اس وقت تک اس خاندان میں موجود ہے۔"
اقبال اور کشمیر۔ جگن ناتھ آزاد ص32
اس میں دورائے نہیں کہ اقبال ایک کشمیری پنڈت تھے۔ ان کے خاندان نے اسلام قبول کرلیا تھا،اس طرح مذہب تو تبدیل ہوگیا تھا مگرذات تو نہیں بدلی جاسکتی۔ وہ برہمن رہے اور اپنی شناخت اورعلمی ماخذ کو کبھی تنگ نظری کے دائرے میں محدود نہیں کیا۔
اقبال نے اپنے ایک خط میں لفظ "سپرو"کے تعلق سے اپنا نکتہ نظر پیش کیا ہے اور اسی کے ساتھ انہوں نے اپنے خاندان کے کشمیری پنڈت ہونے کی بات بھی کہی ہے۔ یہ خط علامہ محددین فوق کے نام لکھا ہے۔ خط ملاحظہ ہو:
ڈیر فوق صاحب!
مجھے معلوم نہیں لفظ سپرو کے معانی کشمیری زبان میں کیا ہیں، ممکن ہے اس کے معنی وہی ہوں جو آپ نے تحریر فرمائے ہیں یعنی وہ لڑکا جو چھوٹی عمر میں بڑوں کی سی ذہانت دکھائے۔ البتہ کشمیری بر ہمنوں کی جو گوت سپر و ہے اس کے اصل کے متعلق جو کچھ میں نے اپنے والد مرحوم سے سنا تھا وہ عرض کرتا ہوں ۔
جب مسلمانوں کا کشمیر میں دور دورہ ہوا تو برا ہمہ کشمیر مسلمانوں کے علوم و زبان کی طرف بوجہ قدامت پرستی یا اور وجوہ کے توجہ نہ کرتے تھے ۔ اس قوم میں سے پہلے جس گروہ نے فارسی زبان وغیرہ کی طرف توجہ کی اور اس میں امتیاز حاصل کر کے حکومت اسلامی کا اعتماد حاصل کیا وہ سپرو کہلایا۔ "س" لفظ کے معنی ہیں، وہ شخص جو سب سے پہلے پڑھنا شروع کرے (یا جس نے سب سے پہلے پڑھنا شروع کیا) اس تقدم کے لئے کئی زبانوں میں آتا ہے اور "پرو" کا روٹ وہی ہے جو ہمارے مصدر "پڑھنا" کا ہے۔
والد مرحوم کہتے تھے کہ یہ نام کشمیر کے برہمنوں نے اپنے ان بھائی بندوں کو از راہ تعریض و تحقیر دیا تھا ، جنھوں نے تقدیم رسوم و تعلقات قومی و مذہبی کو چھوڑ کر سب سے پہلے اسلامی زبان و علوم کو سیکھنا شروع کیا تھا۔ رفتہ رفتہ یہ نام ایک مستقل گوت ہو کر مشہور ہو گیا ہے۔
دیوان ٹیک چند ایم اے) جو پنجاب میں کمشنر تھے ۔ ان کو تحقیق لسان کا بڑا شوق تھا۔ ایک دفعہ انبالہ میں انھوں نے مجھ سے کہا تھا کہ لفظ "سپرو" کا تعلق ایران کے قدیم بادشاہ شاہ پور سے ہے اور "سپر و" حقیقت میں ایرانی ہیں جو اسلام سے بہت پہلے ایران کو چھوڑ کر کشمیر میں آباد ہوئے اور اپنی ذہانت و فطانت کی وجہ سے برہمنوں میں داخل ہو گئے۔ واللہ اعلم ۔
پنجاب میں جہاں تک مجھے معلوم ہے کوئی گھر مسلمان سپر و خاندان کا نہیں ہے۔ اعجاز کی شادی کے وقت اس امر کی جستجو کی گئی تھی مگر نا کامی ہوئی۔
محمد اقبال
16جنوری ۔
1934
انوارِ اقبال، بشیر احمد ڈار، ص76, 77۔ اقبال اکادمی۔ پاکستان لاہور
خط میں اقبال نے کشمیری برہمنوں کے "سپرو" خاندان کی اصل کے بارے میں دو مختلف آرا پیش کی ہیں۔ پہلی رائے ان کے والد کی روایت پر مبنی ہے، جس کے مطابق "سپرو" وہ برہمن تھے جنہوں نے سب سے پہلے فارسی زبان اور اسلامی علوم سیکھ کر مسلم حکومت میں نمایاں مقام حاصل کیا، جبکہ دوسری رائے دیوان ٹیک چند کی ہے، جن کے مطابق "سپرو" کا تعلق قدیم ایرانی بادشاہ شاہ پور سے ہو سکتا ہے۔ دونوں آرا بیان کرنے کے بعد اقبال کا "واللہ اعلم" کہنا ان کے غیر جانب دار اور محتاط علمی رویے کی بہترین مثال ہے۔
اقبال کے صاحبزادے جاوید اقبال نے لکھا ہے کہ:
ہندوؤں کو بالعموم اور برہمنوں کو بالخصوص اپنے اسلاف کے برہمن ہونے پر بڑا فخر رہا ہے۔ غالبا اس سبب پنڈت رام چندر دهلوی فاضل عربی و سنسکرت نے اقبال پر اپنے مضمون میں تحریر کیا ہے:
"ایشوری گیان اور کلام ربانی کو برہمن زادہ ہی سمجھ سکتا ہے ۔ اس میں اقبال نے کیا راز پنہاں رکھا ہے؟ یہی کہ وہ کشمیری پنڈت تھے ۔ ہزاروں برس تک ان کے آبا و اجداد نے روحانیت کی تربیت میں اقبال کو اپنے اندر پرورش کیا۔"
زندہ رود، جسٹس جاوید اقبال ص 33
دراصل اقبال ایک مسلم برہمن تھے اوراسلام کے پُرجوش داعی تھے، لیکن اپنی سرزمین کی تہذیبی روایات اور مختلف مذاہب کے احترام کو بھی ضروری سمجھتے تھے۔ ان کے ہاں ہندوستان صرف ایک جغرافیائی خطہ نہیں بلکہ مختلف تہذیبوں، مذاہب اور ثقافتوں کا حسین سنگم ہے۔وہ یہاں رہنے والے سبھی طبقات میں محبت اور بھائی چارہ کے قائل تھے۔ انہوں نے ایک طرف کہا
مذہب نہیں سکھاتا آپس میں بیر رکھنا
ہندی ہیں ہم وطن ہے ہندوستاں ہمارا
وہیں دوسری طرف الہ آباد میں مسلم لیگ کے اجلاس میں اپنی تقریر کے دوران انہوں نے ہندووں اور مسلمانوں کے درمیان ہم آہنگی اور بھائی چارہ کی بات کہی :
جو فرقہ دوسرے فرقوں کی طرف بدخواہی کے جذبات رکھتا ہو وہ نیچ اور ذلیل ہے۔ میں دوسری قوموں کے رسوم، قوانین، معاشرتی اور مذہبی اداروں کا بے حد احترام کرتا ہوں۔ یہی نہیں بلکہ قرآن پاک کی تعلیم کے مطابق ضرورت پڑے تو ان کی عبادت گاہوں کی حفاظت بھی میرا فرض ہے۔
( علامہ اقبال کا خطبہ الہٰ آباد، ص 106)
اوپر کی عبارت پر غور نہ کیا ہو تو دوبارہ پڑھیں،یہ بات وہ ہندوستان کے ہندووں، سکھوں، عیسائیوں اور پارسیوں سمیت سبھی مذاہب کے لئے کہہ رہے ہیں کہ سب کا احترام کرتا ہوں، بلکہ اس سے بھی آگے بڑھ کروہ مسلمانوں سے کہہ رہے ہیں کہ قرآن کی تعلیم تو یہ ہے کہ اگر ضرورت پڑے تو دوسرے مذاہب کی عبادت گاہوں کی بھی حفاظت کریں۔ ماہراقبالیات پروفیسر جگن ناتھ آزاد نے اقبال کے خیالات کو اقبال کے دوست اور تاریخ داں محمدالدین فوق کے حوالے لکھا ہے:
"نوع انسان کی عام بھلائی کے لئے میں یہاں کے مسلمانوں اور ہندوؤں کی مفاہمت کا متمنی ہوں اور اسے اشد ضروری خیال کرتا ہوں۔ باشندگان ہند ہی پرانی دنیا کے کھنڈروں پر نئے آدم کے لئے نئی دنیا تعمیر کرنے کی اہلیت رکھتے ہیں۔"
(اقبال اور کشمیر۔ جگن ناتھ آزاد، بحوالہ مشاہیر کشمیر۔ ص41)

اس سے اندازہ ہوسکتا ہے کہ اقبال نہ صرف ہندوستان کے ہندووں اور مسلمانوں کے بیچ ہم آہنگی چاہتے تھے بلکہ ان کا خیال تھا کہ اس ملک کے ہندواور مسلمان مل کر ایک نئی دنیا تعمیر کرسکتے ہیں۔ انہوں نے اپنے جیتے جی کبھی ہندوستانیوں کے درمیان مذہبی تفریق نہیں کی اور ان کے دوستوں میں مسلمانوں کے ساتھ ہندو بھی شامل تھے۔ پروفیسر جگن ناتھ آزاد نے اقبال کے دوست اور کشمیری محقق محمدالدین فوق کے حوالے سے لکھا ہے:
"انگریزی اور اسلامی فلسفہ کے علاوہ ہندو فلسفہ کا بھی آپ نے مطالعہ کیا ہے ۔ اس لئے سب مذاہب کی دل سے تعظیم کرتے ہیں۔ ہندؤں اور مسلمانوں میں آپ کو یکساں ہر دلعزیزی حاصل ہے ۔"
اقبال اور کشمیر، پروفیسر جگن ناتھ آزاد۔ صفحہ38.( بحوالہ محمد الدین فوق)
دراصل علم والا انسان کبھی کسی مذہب یا کلچر کی توہین کرہی نہیں سکتا۔یہ اقتباس علامہ اقبال کی علمی وسعت، فکری کشادگی اور مذہبی رواداری کو نمایاں کرتا ہے۔ اقبال نے صرف اسلامی فلسفے ہی نہیں بلکہ مغربی اور ہندو فلسفے کا بھی گہرا مطالعہ کیا، جس کی وجہ سے ان کی فکر میں وسعت، توازن اوردوسرےمذاہب کے تعلق سے احترام پیدا ہوا۔ وہ مختلف مذاہب اور تہذیبوں کے افکار کو تعصب کے بجائے تحقیق اور انصاف کی نظر سے دیکھتے تھے۔
مضمون کی دوسری قسط کل ملاحظہ کریں۔