غوث سیوانی، نئی دہلی
ہندوستان کی سرزمین نے بڑے بڑے صوفی، سنت، دانشور اور اسکالر پیدا کئے ہیں جنہوں نے دنیا کو امن، بھائی چارہ اور قومی یکجہتی کا پیغام دیا۔انہیں میں ایک گرونانک جی ہیں جنہوں نے بھید بھائو کے خاتمہ کے لئے بامعنیٰ جدوجہد کی اور ایک سماجی انقلاب برپا کیا۔ ان کی کوششوں کو ہر دور میں اہل علم نے سراہا اور انہیں خراج تحسین پیش کیا۔ علامہ اقبال بھی گرونانک جی کے مداحوں میں شامل ہیں جنہوں نے ایک نظم لکھ کر اس عظیم رہنما کو خراج عقیدت پیش کیا۔ یہ نظم ایک صدی بعد بھی مقبول ہے اور دنیا کو مذہبی ہم آہنگی،مساوات،بھائی چارہ اور اخلاقی بلندی کا پیغام دے رہی ہے۔ اقبال کی نظم پر نظر ڈالنے سے پہلے آئیے جانتے ہیں کہ گرونانک جی کون تھے جن کے اقبال مداح ہیں۔
گرونانک جی کون؟
گرو نانک جی ہندوستان کے ایک عظیم روحانی پیشوامصلح اور شاعر تھے۔ انہیں سکھ مذہب کا بانی کہا جاتا ہے اور وہ اولین سکھ گرو ہیں۔انہوں نے دنیا کے بہت سے خطوں کا سفر کیا اور لوگوں کو "اک اونکار" یعنی ایک خدا کی عبادت کا پیغام دیا۔ اسی تصور کی بنیاد پر انہوں نے ایک ایسا روحانی، سماجی اور اخلاقی نظام پیش کیا جو برابری، اخوت، نیکی اور اعلیٰ اخلاقی اقدار پر قائم تھا۔ان کی تعلیمات گرو گرنتھ صاحب میں محفوظ ہیں۔
گرو نانک کی ولادت پنجاب کے علاقہ ننکانہ صاحب میں ہوئی جوتقسیم ملک کے بعدپاکستان میں ہے۔ ان کی جائے ولادت پر اب ایک عالیشان گردوارہ قائم ہے جہاں سکھ زائرین کا ازدہام رہتاہے۔ان کی تاریخ پیدائش 15 اپریل 1469ء بتائی جاتی ہے،اسی دن گروپرب منایاجاتا ہے۔سکھ روایات کے مطابق گرو نانک کاانتقال 22 ستمبر 1539ء کو 70 سال، 5 ماہ اور 7 دن کی عمر میں ہوا۔گرونانک کے خاندان کا مسلمانوں سے قریبی تعلق تھا۔ ان کے والد کلیان چند داس بیدی (مہتا کالو) ایک نومسلم زمیندار رائے بلار کے ماتحت کام کرتے تھے۔جب کہ ان کی والدہ کی دیکھ بھال ایک مسلمان دائی دولت نے کی تھی، جو حمل کے دوران ان کی خدمت کرتی رہی۔
ان کا ایک قریبی بچپن کا دوست بھائی مردانہ ، مسلمان تھے اور رباب بجایا کرتے تھے۔بعد میں وہ گرو نانک کے سفر اور تبلیغی مہموں میں ان کے مستقل ساتھی بنے۔گرونانک جی کے والد نے نو برس کی عمر میں انہیں ایک مکتب میں مسلمان عالم مولوی سید حسن کے پاس تعلیم کے لئے بھیجا تھا، جہاں انہوں نے فارسی، عربی اور اسلامی ادب کی تعلیم حاصل کی۔ ان کے بہنوئی جے رام، لاہور کے گورنر دولت خان لودھی کے ملازم تھے۔ یہ تمام روایتیں اس بات کو ظاہر کرتی ہیں کہ ان کے خاندان کے مسلمانوں کے ساتھ خوشگوار تعلقات تھے۔
گرونانک جی ایک مصلح تھے اور اس کی علامتیں بچپن سے ہی ظاہر ہونے لگی تھیں۔ جب ان کی عمر لگ بھگ آٹھ سال تھی تب منڈن اور جنیو کی تقریب ہوئی مگر انہوں نے منڈن کرانے اور جنیو پہننے سے منع کردیا۔ اسی عمر میں انہوں نے شاعری بھی شروع کردی تھی اور ان کا کلام صوفیانہ ہوتا تھا جس کے کچھ حصے گروگرنتھ صاحب میں بھی شامل ہیں۔
جب وہ بڑے ہوئے تو ان کی شادی ماتا سلاکھنی سے ہوئی اور روزگار کے لئے انہوں نے وہیں سرکاری غلہ خانے پرملازمت کی جہاں ان کے بہنوئی ملازمت کیا کرتے تھے۔ یہیں ان کے دوبچوں کی پیدائش ہوئی۔
اقبال کی نظم -نانک
اقبال ،گرونانک جی کے پیغام سے حد درجہ متاثر تھے اور ایک نظم کے ذریعے انہوں نے گرونانک جی کی خدمات کا اعتراف کرتے ہوئے انہیں خراج تحسین پیش کیا ہے۔ اس نظم کا عنوان ہے"نانک" ۔اس نظم میں اقبال نے گرو نانک جی کو ہندوستان کی روحانی بیداری اور توحید کے عظیم داعی کے طور پر پیش کیا ہے۔ وہ اس نظم میں گوتم بدھ، تب کا ہندوستانی سماج، ذات پات کے نظام اور گرو نانک کی اصلاحی تحریک کا تقابلی جائزہ لیتے ہیں۔اس کے بعد اخیر میں گرونانک جی کی تعلیمات کو توحید کی تعلیم قراردیتے ہیں۔
قوم نے پیغام گوتم کی ذرا پروا نہ کی
قدر پہچانی نہ اپنے گوہر یک دانہ کی
اس شعر میں اقبال کہتے ہیں کہ ہندوستانی قوم نے گوتم بدھ کی عظیم تعلیمات کی قدر نہ کی۔ گوتم بدھ ایک نایاب موتی (گوہرِ یک دانہ) کی مانند تھے، لیکن ہندوستانیوں نے ان کی عظمت کو نہ پہچانا۔ واضح ہوکہ گوتم بدھ کا پیغام ہندوستان کے حالات کے پس منظر میں بہت بامعنیٰ تھا جس میں انسانیت، مساوات، رحم اور اخلاق کی باتیں تھیں مگر ان کے عہد میں اسے قبولیت نہیں ملی۔ البتہ بعد کے دور میں یہاں کے راجائوں نے بدھ دھرم کو اپنایا اور اس کی تبلیغ بھی کی ،جس کے اثر سے عام لوگوں نے بھی اس دھرم کو قبول کیا۔
آہ بد قسمت رہے آواز حق سے بے خبر
غافل اپنے پھل کی شیرینی سے ہوتا ہے شجر
اقبال افسوس کا اظہار کرتے ہیں کہ لوگ حق کی آواز سے بے خبر رہے۔ جیسے ایک درخت خود اپنے پھل کی مٹھاس سے واقف نہیں ہوتا، اسی طرح ہندوستان اپنی عظیم روحانی شخصیات اور ان کی تعلیمات کی حقیقی قدر نہ کر سکا۔ اس شعر میں اقبال نے گوتم بدھ کے پیغام کو آوازحق سے تعبیر کیا ہے۔
آشکار اس نے کیا جو زندگی کا راز تھا
ہند کو لیکن خیالی فلسفہ پر ناز تھا
اقبال کے مطابق گوتم بدھ زندگی کے مسائل سمجھائے اور انہیں سلجھایا ۔اصل میں نے زندگی کے حقیقی مسائل، دکھ اور خواہشات ہیں اور ان سے نجات کا راستہ بھی گوتم بدھ نے واضح کیا ہے۔ حالانکہ اقبال کو شکوہ ہے کہ ہندوستان کے لوگ آواز حق کو قبول کرنے اور اپنی اصلاح کے بجائے خیالی فلسفوں میں الجھے رہے۔ اس لیے بدھ کی عملی تعلیمات سے بھرپور فائدہ نہ اٹھاسکا۔
شمع حق سے جو منور ہو یہ وہ محفل نہ تھی
بارش رحمت ہوئی لیکن زمیں قابل نہ تھی
گوتم بدھ کی تعلیمات حق اور ہدایت کی روشنی تھیں، مگر اس وقت کا معاشرہ انہیں قبول کرنے کے لیے تیار نہیں تھا۔ اقبال اس کیفیت کو بارش اور زمین کی مثال سے بیان کرتے ہیں کہ رحمت تو برسی، مگر زمین اس قابل نہ تھی کہ اس سے فائدہ اٹھا سکے۔
آہ شودر کے لیے ہندوستاں غم خانہ ہے
درد انسانی سے اس بستی کا دل بیگانہ ہے
اقبال ذات پات کے نظام پر شدید تنقید کرتے ہیں جو ہندوستان میں ہزاروں سال سے رائج ہے اور اس کے سبب ایک طبقہ ہمیشہ سے استحصال کا شکار رہا ہے۔ وہ کہتے ہیں کہ نچلے طبقے، خصوصاً شودروں کی زندگی دکھ اور محرومی سے بھری ہوئی ہے۔ معاشرہ انسانی ہمدردی سے خالی ہو چکا ہے اور کمزور طبقات کے دکھ درد کی کسی کو پروا نہ ہے۔
برہمن سرشار ہے اب تک مئے پندار میں
شمع گوتم جل رہی ہے محفل اغیار میں
اقبال کہتے ہیں کہ سماج کا اعلیٰ طبقہ اب بھی غرور اور برتری کے نشے میں مبتلا ہے، جبکہ گوتم بدھ کی تعلیمات کو دوسرے ممالک نے زیادہ اپنایا ہے۔ بدھ مت ہندوستان سے نکل کر چین، جاپان، سری لنکا اور دیگر ممالک میں پھیل گیا، لیکن خود ہندوستان میں اسے وہ مقام نہ ملا۔
بتکدہ پھر بعد مدت کے مگر روشن ہوا
نور ابراہیم سے آزر کا گھر روشن ہوا

یہاں اقبال نے "نورِ ابراہیم" کو ایک استعارہ کے طور پر پیش کیا ہے جس سے مراد توحید کی روشنی ہے۔ اقبال اس شعر میں گرونانک جی کی پیدائش کی طرف اشارہ کرتے ہیں کہ اگر چہ گوتم بدھ کے پیغام کو قبول نہیں کیا گیا اور ہندوستان ایک طویل عرصے تک نور معرفت سے محروم رہا مگر اس دھرتی پرپھر توحید کا چراغ روشن ہوا۔ "آزر کا گھر" بت پرستی کی علامت ہے، جسے حضرت ابراہیمؑ کی توحیدی دعوت نے منور کیا تھا۔ اسی طرح ہندوستان میں بھی ایک نئی روحانی بیداری پیدا ہوئی اور یہ گرونانک کی دنیا میں آمد سے ممکن ہوا۔
پھر اٹھی آخر صدا توحید کی پنجاب سے
ہند کو اک مرد کامل نے جگایا خواب سے
یہ شعر نظم کا مرکزی نکتہ ہے۔ اقبال کے مطابق پنجاب کی سرزمین سے گرو نانک نے توحید، مساوات، محبت اور انسانیت کا پیغام بلند کیا۔ انہوں نے ہندوستان کو مذہبی جمود، ذات پات اور روحانی غفلت سے بیدار کرنے کی کوشش کی۔ اقبال گرو نانک کو "مردِ کامل" کہہ کر ان کی روحانی عظمت اور اصلاحی کردار کو خراجِ تحسین پیش کرتے ہیں۔
اس نظم میں علامہ اقبال نے دو عظیم اصلاح پسند شخصیات، گوتم بدھ اور گرو نانک کا ذکر کیا ہے۔ ان کے نزدیک گوتم بدھ نے انسان دوستی، اخلاق اور روحانی پاکیزگی کا درس دیا، لیکن ہندوستان نے ان کے پیغام کی قدر نہ کی۔ بعد ازاں گرو نانک نے پنجاب سے توحید، مساوات، اخوت اور انسانیت کا پیغام بلند کیا اور ذات پات، مذہبی تعصب اور سماجی ناانصافی کے خلاف آواز اٹھائی۔ اقبال کے نزدیک گرو نانک نے ہندوستان کی سوئی ہوئی روح کو بیدار کرنے کی کوشش کی اور اسی لیے وہ انہیں "مردِ کامل" کے لقب سے یاد کرتے ہیں۔
گرونانک اور اقبال
علامہ اقبال ،گرونانک جی کے پیغام کو پیغام توحیدقرار دیتے ہیں۔یہ ایک حقیقت ہے کہ اقبال اور گرو نانک جی کا تعلق دو مختلف مذہبی اور فکری روایات سے تھا ،اس کے باوجود اقبال نے ان کے کام کی اہمیت کو سمجھا اور اس کا اعتراف بھی کیا۔ حالانکہ یہ اتفاق بھی ہے کہ گرونانک جی اور اقبال دونوں کا تعلق ایک ہی خطہ ارضی پنجاب سے ہے، دونوں کی مادری زبان پنجابی تھی اور دونوں ہی کی تاریخ پیدائش نومبر کے مہینے میں ہے۔

گرونانک کی جائے ولادت کرتارپور صاحب(پاکستان)
گرورنانک جی اوراقبال میں کچھ اور بھی مشترک قدریں پائی جاتی ہیں جن میں سے ایک یہ ہے کہ دونوں ہی نے عوام کو توحید کی دعوت دی اور سماج کی منجمد فکر سے آگے نکلنے کو کہا۔ گرونانک جی، پنجاب کے معاشرہ سے اونچ نیچ اور چھوت چھات کو ختم کرنے کے لئے ایک طویل مدت تک جدوجہد کرتے رہے اور اقبال نے بھی اپنی شاعری کے ذریعے سماجی مساوات کا پیغام دیا۔دونوں ہی نے انسانیت، اخلاق اور روحانیت کی اقدار کو عام کرنے کی بھرپور کوششیں کیں۔
گرو نانک جی نے ایک خدا کی عبادت کرنے اور اسے یاد کرنے ،نیز سماجی خدمت کو زندگی کا اصل مقصد قرار دیا جب کہ اقبال نے بھی انسان کی کامیابی کو خدا سے تعلق، عشقِ الٰہی اور بندگی میں دیکھا۔
گرونانک جی ایک زبردست سماجی مصلح تھے اور انہوں نے اپنے دور میں سماجی برائیوں کے خلاف لڑائی لڑی جبکہ اقبال نے بھی ان برائیوں کے خلاف آوازاٹھائی اور مسلمانوں کو خاص طور پر اپنے ماضی کی طرف لوٹنے کا مشورہ دیااور اس کے لئے اسلامی اخلاقیات کے ساتھ جدید علوم کے حصول کی طرف بڑھنے کو کہا۔ اسی کے ساتھ دونوں ہی اہل تصوف سے متاثر تھے۔
بابا گرونانک جی نے جس نظریے کی تعلیم دی، اس میں تصوف خاص اہمیت کا حامل تھا اور ان کے پیروکاروں نے اسے قبول بھی کیا،اسی کا اثر تھا کہ گولڈن ٹمپل کی بنیاد رکھنے کے لئے ایک مسلمان درویش کو بلایا گیا تھا۔سکھوں میں آج بھی خدمت خلق اور لنگر کی روایت جاری ہے جب کہ اقبال صوفیا کے دلدادہ تھے اور خانقاہ نشینوں کو اس بات کی دعوت دیتے تھے کہ وہ انجماد سے باہر نکلیں اور اہل تصوف کے طریقے پر چلتے ہوئے عمل کی راہ اپنائیں۔ اقبال دل کی پاکیزگی اور عمل میں اخلاص کا مشورہ بھی دیتے رہے۔حالانکہ ان مشترک نکات کے باوجود دونوں کے مذہبی نظریات میں نمایاں فرق بھی موجود ہے۔