الہ آباد ہائی کورٹ نے راہل گاندھی کے خلاف ایف آئی آر درج کرنے کی عرضی کو خارج کیا
الہ آباد
الہ آباد ہائی کورٹ نے جمعہ کو کانگریس لیڈر راہل گاندھی کے خلاف 2025 میں مبینہ متنازعہ بیان پر ایف آئی آر درج کرنے کی مانگ والی عرضی کو مسترد کر دیا۔ اس عرضی میں ان کے "انڈین اسٹیٹ سے لڑائی" سے متعلق بیان پر ایف آئی آر درج کرنے کی درخواست کی گئی تھی۔
دائیں بازو کی تنظیم ہندو شکتی دل کی سمرن گپتا کی جانب سے دائر عرضی پر سماعت کے بعد جسٹس وکرم ڈی چوہان نے یہ حکم جاری کیا۔
گپتا نے سنبھل کورٹ کے اس فیصلے کو ہائی کورٹ میں چیلنج کیا تھا، جس میں عدالت نے ان کی اس عرضی کو خارج کر دیا تھا جس میں انہوں نے لوک سبھا میں اپوزیشن لیڈر راہل گاندھی کے خلاف ایف آئی آر درج کرنے کی ہدایت دینے کی مانگ کی تھی۔
عرضی گزار نے الزام لگایا تھا کہ راہل گاندھی نے 2025 میں آل انڈیا کانگریس کمیٹی کے دفتر کے افتتاح کے دوران کہا تھا کہ "ہم اب بی جے پی، آر ایس ایس اور خود ہندوستانی ریاست سے لڑ رہے ہیں۔ عرضی گزار کے مطابق اس بیان سے عوامی جذبات مجروح ہوئے اور یہ بغاوت اور ملک مخالف بیان کے مترادف ہے، جس کا مقصد مبینہ طور پر ملک کو غیر مستحکم کرنا تھا۔
جسٹس چوہان نے عرضی گزار اور ریاستی حکومت کے وکلاء کے دلائل تفصیل سے سننے کے بعد 8 اپریل کو فیصلہ محفوظ کر لیا تھا۔دہلی میں کانگریس ہیڈکوارٹر کے افتتاح کے دوران راہل گاندھی نے کہا تھا کہ ان کی نظریہ ہزاروں سال پرانا ہے اور وہ آر ایس ایس کے نظریے سے مقابلہ کر رہا ہے۔ انہوں نے یہ بھی کہا کہ بی جے پی اور آر ایس ایس نے ملک کے اداروں پر قبضہ کر لیا ہے اور اب ان کی لڑائی ہندوستانی حکومت سے بھی ہے، جبکہ انہوں نے میڈیا کی غیر جانبداری پر بھی سوال اٹھائے تھے۔