نئی دہلی: حکومت نے جمعہ کے روز لوک سبھا کو بتایا کہ ہائی کورٹس کے ججوں کے تمام تبادلے مفادِ عامہ میں کیے جاتے ہیں۔ قانون کے وزیر ارجن رام میگھوال نے ایوان میں ایک سوال کے تحریری جواب میں کہا، تمام تبادلے مفادِ عامہ میں کیے جاتے ہیں، جن کا مقصد ملک بھر میں بہتر نظامِ انصاف کو فروغ دینا ہوتا ہے۔
وزیر سے پوچھا گیا تھا کہ کیا حکومت کو ’’ماتحت عدالتوں اور ہائی کورٹس کے ججوں کے تبادلوں میں حکومت کی جانب سے مداخلت کی حالیہ واقعات‘‘ کے بارے میں علم ہے۔ ہائی کورٹس کے ججوں کے لیے اختیار کی جانے والی تبادلہ جاتی کارروائی کے حوالے سے مرکزی وزیر نے کہا کہ طے شدہ طریقۂ کار کے مطابق، ہائی کورٹ کے ججوں کی تقرری اور تبادلے کی تجویز چیف جسٹس آف انڈیا کی جانب سے سپریم کورٹ کے چار سینئر ترین ججوں سے مشاورت کے بعد شروع کی جاتی ہے۔
اس میں یہ بھی طے ہے کہ چیف جسٹس سے توقع کی جاتی ہے کہ وہ اُس ہائی کورٹ کے چیف جسٹس کی رائے کو مدنظر رکھیں جہاں سے جج کا تبادلہ کیا جانا ہے، اور اُس ہائی کورٹ کے چیف جسٹس کی رائے کو بھی اہمیت دیں جہاں جج کا تبادلہ کیا جانا ہے۔ اس کے علاوہ، سپریم کورٹ کے ایک یا ایک سے زیادہ ایسے ججوں کی رائے پر بھی غور کیا جاتا ہے جو اس معاملے پر رائے دینے کی پوزیشن میں ہوں۔