پٹنہ: بہار قانون ساز کونسل کی 10 خالی نشستوں پر جمعرات کو تمام امیدوار بلا مقابلہ منتخب ہو گئے، جس کے بعد انتخابی عمل ووٹنگ کے بغیر ہی مکمل ہو گیا۔ نامزدگی واپس لینے کا آج آخری دن تھا اور چونکہ جتنی نشستیں خالی تھیں اتنے ہی امیدوار میدان میں تھے، اس لیے کسی مقابلے کی نوبت نہیں آئی۔
منتخب ہونے والوں میں بھارتیہ جنتا پارٹی کے پون سنگھ، سنجے میوکھ، شیلا پانڈت اور انیل ٹھاکر شامل ہیں، جبکہ جنتا دل یونائیٹڈ کی جانب سے بھارتی مہتا، نشانت کمار، للن پرساد اور شوانی دیوی کامیاب قرار پائے۔ لوک جن شکتی پارٹی (رام ولاس) کے اشرف انصاری اور راشٹریہ جنتا دل کے سنیل سنگھ بھی بلا مقابلہ منتخب ہوئے۔ کامیابی کے بعد تمام نو منتخب ارکان سرٹیفکیٹ حاصل کرنے کے لیے اسمبلی پہنچے۔
سابق وزیر اعلیٰ نتیش کمار کے راجیہ سبھا جانے سے خالی ہونے والی نشست پر جے ڈی یو نے للن پرساد کو امیدوار بنایا تھا۔ ان کی مدتِ کار 2030 تک ہوگی، جبکہ دیگر نو ارکان 2032 تک کونسل کے رکن رہیں گے۔ 10 نشستوں کے لیے صرف 10 امیدواروں نے ہی کاغذاتِ نامزدگی جمع کرائے تھے۔ جے ڈی یو اور بی جے پی نے چار، چار امیدوار میدان میں اتارے، جبکہ لوک جن شکتی پارٹی اور آر جے ڈی نے ایک، ایک امیدوار نامزد کیا تھا۔
جانچ پڑتال کے دوران تمام امیدواروں کے کاغذات درست پائے گئے تھے، جس کے بعد ان کی بلا مقابلہ کامیابی یقینی ہو گئی۔ ان نتائج کے بعد سیاسی حلقوں میں بہار حکومت کے پنچایتی راج وزیر دیپک پرکاش کے مستقبل پر بھی بحث شروع ہو گئی ہے۔
اوپیندر کشواہا کے بیٹے دیپک پرکاش دو مرتبہ وزیر کے طور پر حلف لے چکے ہیں، لیکن وہ اس وقت کسی بھی ایوان کے رکن نہیں ہیں۔ اسی لیے اب یہ سوال اٹھ رہا ہے کہ ان کی آئندہ سیاسی حکمتِ عملی کیا ہوگی اور وہ اپنی موجودہ حیثیت کے بارے میں کیا فیصلہ کریں گے۔