نئی دہلی: انڈین نیشنل کانگریس نے منگل کے روز کہا کہ اسمبلی انتخابات کی مہم ختم ہونے کے بعد حکومت کو خواتین ریزرویشن کو 2029 سے نافذ کرنے کے معاملے پر بحث کے لیے ایک آل پارٹی میٹنگ بلانی چاہیے۔ پارٹی کے جنرل سیکریٹری جئے رام رمیش نے کہا کہ وزیر اعظم نریندر مودی کو اپنے ذاتی سیاسی ایجنڈے کو آگے بڑھانے کے لیے خواتین کا استعمال کرنے کے بجائے انہیں انصاف فراہم کرنا چاہیے۔
مرکزی اپوزیشن جماعت نے یہ مطالبہ ایک بار پھر دہرایا ہے کہ انتخابات کی مہم ختم ہونے کے بعد خواتین ریزرویشن کے معاملے پر آل پارٹی میٹنگ بلائی جائے۔ اس سے قبل بھی کئی اپوزیشن جماعتیں یہ مطالبہ کر چکی ہیں۔ حکومت نے گزشتہ بجٹ اجلاس میں خواتین ریزرویشن کو 2029 سے نافذ کرنے اور حد بندی (ڈی لیمیٹیشن) سے متعلق آئینی ترمیمی بل پیش کیا تھا، تاہم یہ منظور نہ ہو سکا۔
اپوزیشن نے اس کی مخالفت کرتے ہوئے کہا تھا کہ خواتین ریزرویشن کے نام پر حد بندی کو زبردستی نافذ کیا جا رہا ہے۔ جئے رام رمیش نے سوشل میڈیا پلیٹ فارم ایکس پر لکھا کہ اب جب انتخابی مہم ختم ہو چکی ہے تو حکومت کو وہ مطالبہ پورا کرنا چاہیے جو اپوزیشن مارچ 2026 کے وسط سے مسلسل کر رہی ہے۔
انہوں نے کہا کہ اس بات پر غور کے لیے آل پارٹی میٹنگ بلائی جائے کہ ناری شکتی وندن ایکٹ 2023 کو 2029 سے موجودہ لوک سبھا نشستوں کے ساتھ کیسے نافذ کیا جا سکتا ہے۔ کانگریس رہنما نے کہا، "یہ ممکن ہے، یہ ضروری ہے اور یہ قابلِ عمل ہے۔" انہوں نے مزید کہا کہ خصوصی پارلیمانی اجلاس کے دوران خواتین ریزرویشن کبھی اصل ایجنڈا نہیں تھا، بلکہ اس دوران اصل توجہ حد بندی کے مسئلے پر تھی۔ اب وقت آ گیا ہے کہ وزیر اعظم خواتین کے ساتھ انصاف کو یقینی بنائیں۔