اردو کو جدید تعلیمی تقاضوں سے ہم آہنگ کرنا ناگزیر: پروفیسر نیلوفر خان

Story by  ATV | Posted by  [email protected] | Date 28-07-2026
اردو کو جدید تعلیمی تقاضوں سے ہم آہنگ کرنا ناگزیر: پروفیسر نیلوفر خان
اردو کو جدید تعلیمی تقاضوں سے ہم آہنگ کرنا ناگزیر: پروفیسر نیلوفر خان

 



 سری نگر: "بدلتے ہوئے تعلیمی و سماجی ماحول میں اردو کو جدید تقاضوں سے ہم آہنگ کرنا وقت کی اہم ضرورت ہے تاکہ یہ زبان نئی نسل کی تعلیمی اور پیشہ ورانہ ضروریات کو مؤثر انداز میں پورا کر سکے۔" یہ بات کشمیر یونیورسٹی کی وائس چانسلر پروفیسر نیلوفر خان نے قومی کونسل برائے فروغ اردو زبان (این سی پی یو ایل) اور مرکز برائے فاصلاتی و آن لائن تعلیم، کشمیر یونیورسٹی کے باہمی اشتراک سے منعقدہ پانچ روزہ ورکشاپ "اردو اساتذہ کی صلاحیت سازی: قومی تعلیمی پالیسی 2020 کی روشنی میں" کے افتتاحی اجلاس سے خطاب کرتے ہوئے کہی۔

گاندھی بھون آڈیٹوریم، کشمیر یونیورسٹی میں منعقدہ افتتاحی تقریب کی صدارت کرتے ہوئے پروفیسر نیلوفر خان نے این سی پی یو ایل کی علمی، ادبی اور تعلیمی خدمات کو سراہا اور کہا کہ ادارہ اردو زبان کے فروغ اور اسے عصری تقاضوں سے ہم آہنگ بنانے کے لیے قابل قدر خدمات انجام دے رہا ہے۔ انہوں نے این سی پی یو ایل کے ڈائریکٹر ڈاکٹر محمد شمس اقبال کی قیادت کی تعریف کرتے ہوئے کہا کہ ان کی رہنمائی میں کونسل اردو زبان و ادب کی ترویج کے لیے مؤثر اقدامات کر رہی ہے۔

انہوں نے چنار بک فیسٹیول میں این سی پی یو ایل کی فعال شرکت کا ذکر کرتے ہوئے کہا کہ نو روزہ علمی، ادبی اور ثقافتی سرگرمیوں نے کشمیری عوام کو اردو زبان و ادب سے جوڑے رکھنے میں اہم کردار ادا کیا۔ ان کے مطابق مرکز برائے فاصلاتی و آن لائن تعلیم کے طلبہ مختلف شعبہ ہائے زندگی میں نمایاں کامیابیاں حاصل کر رہے ہیں اور یہ ورکشاپ اردو اساتذہ کی پیشہ ورانہ صلاحیتوں میں مزید اضافہ کرے گی۔

اس موقع پر این سی پی یو ایل کی اسسٹنٹ ڈائریکٹر (اکیڈمک) ڈاکٹر شمع کوثر یزدانی نے کہا کہ کونسل ملک بھر میں معیاری ادبی کتب کی اشاعت، اساتذہ کی تربیت اور جدید تعلیمی پروگراموں کے ذریعے اردو زبان کی ترویج میں اہم کردار ادا کر رہی ہے۔ انہوں نے کہا کہ این سی پی یو ایل کی کوشش ہے کہ اردو کو نئی نسل، روزگار، تحقیق اور جدید تعلیم سے جوڑا جائے، جبکہ اساتذہ نئی تدریسی مہارتوں سے خود کو مسلسل آراستہ رکھیں۔

اسکول آف اوپن لرننگ کی ڈین پروفیسر شہناز نے کہا کہ تربیتی ورکشاپس اساتذہ کی علمی و تدریسی صلاحیتوں کو نکھارنے کا مؤثر ذریعہ ہیں۔ انہوں نے کہا کہ سیکھنے کا عمل زندگی بھر جاری رہتا ہے اور اردو صرف ایک زبان نہیں بلکہ تہذیب، ثقافت اور شناخت کی امین بھی ہے۔

مرکز برائے فاصلاتی و آن لائن تعلیم کے ڈائریکٹر پروفیسر الطاف انجم نے استقبالیہ کلمات میں کہا کہ پانچ روزہ ورکشاپ کے ذریعے اردو اساتذہ کو قومی تعلیمی پالیسی 2020، جدید تدریسی طریقوں اور لسانی تربیت سے روشناس کرایا جائے گا۔

افتتاحی اجلاس کے بعد کانفرنس ہال میں تین تکنیکی نشستیں منعقد ہوئیں۔ پہلی نشست میں پروفیسر شفق سوپوری نے "شعر: شرح، تفہیم اور تعبیر" پر اظہار خیال کیا، جبکہ دوسری نشست میں شاکر شفیع نے "اردو شاعری کی تدریس کے طریقۂ کار" پر تفصیلی لیکچر دیا۔ تیسری نشست میں ڈاکٹر عظمت اللہ خان احساس نے "تدریسی مہارتیں، بچوں کی نفسیات اور اردو اساتذہ کا کردار" کے موضوع پر گفتگو کرتے ہوئے قومی تعلیمی پالیسی 2020 اور اساتذہ کی پیشہ ورانہ تربیت کی اہمیت پر روشنی ڈالی۔