نئی دہلی: سپریم کورٹ نے جمعرات کو گینگسٹر ابو سالم کی وہ عرضی مسترد کر دی جس میں اس نے اس بنیاد پر جیل سے رہائی کا مطالبہ کیا تھا کہ پرتگال سے اس کی حوالگی کی شرائط کے مطابق ہندوستان میں 25 سال قید کی مدت پوری ہو چکی ہے۔
جسٹس وکرم ناتھ اور جسٹس سندیپ مہتا کی بنچ نے بمبئی ہائی کورٹ کے اپریل میں دیے گئے حکم کو برقرار رکھا، جس میں سالم کی فوری رہائی کی درخواست کو ’’قبل از وقت‘‘ اور ’’غلط بنیاد پر مبنی‘‘ قرار دیتے ہوئے مسترد کر دیا گیا تھا۔ سپریم کورٹ نے سالم کی جانب سے ہائی کورٹ کے اس فیصلے کو چیلنج کرنے والی عرضی پر اپنا فیصلہ سنایا۔ تفصیلی فیصلہ بعد میں جاری کیا جائے گا۔ ابو سالم 1993 کے ممبئی سلسلہ وار بم دھماکوں کے مقدمے میں سزا یافتہ ہے۔
طویل قانونی کارروائی کے بعد اسے 11 نومبر 2005 کو پرتگال سے ہندوستان کے حوالے کیا گیا تھا۔ ہندوستان اور پرتگال کے درمیان طے پانے والی حوالگی کی شرائط کے مطابق ابو سالم کو سزائے موت نہیں دی جا سکتی اور اس کی قید کی مدت 25 سال سے زیادہ نہیں ہو سکتی۔