نئی دہلی :صحافت کے شعبے کے ممتاز ادارے ایکسچینج فار میڈیا کی جانب سے ایوارڈز کی ایک باوقار تقریب منعقد کی گئی جس میں ملک بھر سے سینئر صحافیوں اور ذرائع ابلاغ سے وابستہ شخصیات نے شرکت کی۔ اس موقع پر ’آواز-دی-وائس‘ کی کشمیر سے تعلق رکھنے والی صحافی یاسمین خان کو بہترین اردو صحافت کے ایوارڈ سے سرفراز کیا گیا۔
ایوارڈ وصول کرنے کے بعد اپنے خطاب میں یاسمین خان نے اردو زبان کی اہمیت پر زور دیتے ہوئے کہا کہ جو لوگ یہ سمجھتے ہیں کہ اردو زوال کا شکار ہے وہ حقیقت سے واقف نہیں۔ ان کے مطابق اردو نہ کبھی خطرے میں تھی اور نہ آئندہ کبھی خطرے میں ہوگی کیونکہ یہ آج بھی عوام کے دلوں کی زبان ہے۔
انہوں نے کشمیر میں صحافت کے تجربات بیان کرتے ہوئے کہا کہ دہلی اور ممبئی جیسے بڑے شہروں میں صحافت کرنا اور وادی کشمیر کے زمینی حالات میں رپورٹنگ کرنا ایک دوسرے سے بالکل مختلف تجربات ہیں۔ سرحدی علاقوں میں کام کرنے والے صحافیوں کو غیر معمولی مشکلات کا سامنا کرنا پڑتا ہے لیکن اس کے باوجود وہ عوام کی آواز دنیا تک پہنچانے کی ذمہ داری پوری کرتے ہیں۔
یاسمین خان نے کہا کہ جب وہ کشمیر کے سرحدی اور دور افتادہ دیہات میں لوگوں سے ملتی ہیں تو زیادہ تر لوگ ان سے محبت اور اعتماد کے ساتھ اردو میں گفتگو کرتے ہیں۔ ان کے مطابق لوگوں کی خوشیاں ہوں یا غم۔ روزمرہ کے مسائل ہوں یا امیدیں۔ ان سب کا اظہار آج بھی اردو ہی میں ہوتا ہے۔ یہی اس زبان کی اصل طاقت اور زندگی کی علامت ہے۔
منفی خبروں کے درمیان مثبت کہانیوں کی تلاش
اپنی صحافتی ذمہ داریوں کے بارے میں گفتگو کرتے ہوئے یاسمین خان نے کہا کہ موجودہ دور میں ذرائع ابلاغ میں زیادہ تر توجہ منفی خبروں اور تنازعات پر مرکوز رہتی ہے۔ ایسے ماحول میں ’آواز-دی-وائس‘ کی کوشش ہے کہ ملک کے مختلف حصوں سے امید افزا اور حوصلہ افزا کہانیاں سامنے لائی جائیں تاکہ معاشرے کا مثبت رخ بھی لوگوں تک پہنچ سکے۔
انہوں نے کہا کہ کشمیر سے رپورٹنگ کے دوران ان کی اولین ترجیح وہاں کے عام لوگوں کی زندگی۔ نوجوانوں کی کامیابیاں۔ سماجی تبدیلی کی مثالیں اور ایسے واقعات ہوتے ہیں جو امید اور اعتماد کو فروغ دیتے ہیں۔ ان کے بقول قومی سطح پر ایسی مثبت خبروں کو اکثر مناسب جگہ نہیں ملتی اور وہ اسی خلا کو پر کرنے کی کوشش کر رہی ہیں۔
یہ اعزاز کشمیر کے ہر صحافی کے نام
یاسمین خان نے ایکسچینج فار میڈیا کا شکریہ ادا کرتے ہوئے کہا کہ یہ ایوارڈ صرف ان کی ذاتی کامیابی نہیں بلکہ کشمیر میں مشکل حالات کے باوجود پیشہ ورانہ ذمہ داریاں ادا کرنے والے ہر صحافی کی محنت اور عزم کا اعتراف ہے۔
ان کا کہنا تھا کہ اردو اب صرف ادب یا مخصوص طبقے کی زبان نہیں بلکہ عام لوگوں کی زندگی اور جذبات کی ترجمان ہے۔ یہی وجہ ہے کہ اردو صحافت نہ صرف زندہ ہے بلکہ مستقبل میں مزید مضبوط اور مؤثر انداز میں اپنی خدمات انجام دیتی رہے گی۔