خورشید ملک ۔ کولکتہ
جوائنٹ ڈائریکٹر، پبلیکیشنز ڈویژن
وزارت اطلاعات و نشریات
نئے سال پر 2 سے 5 جنوری 2026 تک ضلع ہگلی کے علاقے پوئنان (دادپور) میں 160 ایکڑ کے وسیع میدان میں "بیشوا اجتماع" (عالمی تبلیغی اجتماع) منعقد ہوا۔ یہ مغربی بنگال میں 1991-92 کے بعد تقریباً 34 سال بعد اس عظیم روحانی اجتماع کی واپسی تھی۔ مختلف ذرائع کے مطابق اس میں 50 لاکھ سے ایک کروڑ تک (کچھ رپورٹس میں 80 لاکھ سے زائد) لوگوں نے شرکت کی، جو بھارت کے علاوہ 90 سے زائد ممالک سے تشریف لائے تھے۔

میں نے تقریباً دس سے بارہ صحافیوں سے بات کی ۔ سب کے سب غیر مسلم تھے۔ ان میں ٹی وی صحافی، بنگالی اخبار کے رپورٹر، ہندی اخبار کے نمائندے اور یوٹیوب چینلز کے صحافی شامل تھے۔ ان سب کا مشترکہ تاثر یہ تھا کہ اتنی بڑی تعداد میں لوگوں کا مجمع نہایت پرامن، منظم اور پر سکون طریقے سے چلا۔ پورے چار دنوں میں کوئی سیاسی بیان بازی نہیں ہوئی، نہ نفرت انگیز باتیں، نہ کسی حکومت کی تنقید یا تعریف نہ ہی کسی مسلک کے خلاف کوئی بات۔ پورا اجتماع اسلامی تعلیمات، امن، بھائی چارے، اخلاقی اقدار اور انسانیت کی فلاح پر مرکوز رہا۔ تبلیغی جماعت کے عالمی امیر مولانا سعد کاندھلوی کی موجودگی اور ان کے پراثر خطبات نے اسے روحانی اعتبار سے مزید بلند مقام عطا کیا۔
اجتماع میں ایک غیر مسلم خاتون دکاندار
غیر مسلموں کی دکانیں
غیر مسلم دکانداروں کا بے خوف اعتماد: ایک دلچسپ اور مثبت پہلو یہ دیکھنے میں آیا کہ اجتماع کے آس پاس 80 فیصد سے زائد دکانیں غیر مسلموں کی تھیں۔ کھانے پینے کے اسٹالز، چائے کی دکانیں اور دیگر ضروری اشیا کی دکانیں لگائی گئیں۔ یہاں تک کہ کچھ خواتین بھی اپنے اسٹالز پر بیٹھی تھیں اور انہیں کوئی خوف یا پریشانی نہیں تھی۔ جب صحافیوں نے ان غیر مسلم دکانداروں سے پوچھا کہ "اتنے بڑے مسلمان مجمع میں دکان لگانے میں ڈر نہیں لگا؟" تو سب کا ایک ہی جواب تھا: "بالکل ڈر نہیں لگا۔" یہ اعتماد ہندو-مسلم ہم آہنگی کا زندہ ثبوت ہے، جو حالیہ برسوں میں بہت کم دیکھنے کو ملا۔
اہم سبق اور مثبت اثرات
اس عظیم اجتماع سے کئی اہم باتیں سامنے آئیں: اتنا بڑا مجمع شروع سے آخر تک مکمل طور پر پرامن اور منظم رہا مقامی ہندو برادری پر یہ اثر پڑا کہ مسلمانوں کے اس عظیم اجتماع سے امن و امان کو کوئی خطرہ نہیں پہنچا۔ غیر مسلم دکانداروں کے ساتھ کوئی امتیازی سلوک یا بھید بھاؤ نہیں کیا گیا۔ کسی بھی سیاسی جماعت یا لیڈر نے اس کے خلاف غلط بیان بازی نہیں کی ۔ جو آج کے پولرائزڈ ماحول میں بہت بڑی بات ہے یہ سب مل کر ایک خوبصورت پیغام دیتے ہیں: بڑے پیمانے پر مذہبی اجتماع بھی مکمل امن اور بھائی چارے کے ساتھ منعقد ہو سکتے ہیں۔
میں نہیں جانتا کہ اس اجتماع سے طویل مدتی روحانی یا سماجی تبدیلی آئے گی یا نہیں، کیونکہ سوشل میڈیا پر روزانہ اس طرح کی اچھی باتیں مولوی حضرات سناتے رہتے ہیں مگر عمل کم ہوتا ہے۔ لیکن یہ چار دن ضرور ایک زندہ مثال بن گئے کہ جب نیت خالص ہو، انتظام اچھا ہو اور سب مل کر تعاون کریں تو نفرت اور خوف کی جگہ امن اور اعتماد لے سکتا ہے۔ یہ خوبصورت منظر دیکھ کر دل خوش ہوا اور سوچا کہ آپ سب کے ساتھ ضرور شیئر کروں۔
امن ہی اصل مذہب ہے، اور ہم آہنگی ہی اصل طاقت۔