نئی دہلی :اردو اکادمی، دہلی کی جانب سے محکمہ فن، ثقافت و السنہ، حکومتِ دہلی کے خصوصی تعاون سے منعقد کیا جانے والا سمر کیمپ 14 مئی سے 3 جون 2026 تک کامیابی کے ساتھ جاری ہے۔ اس بامقصد اور ہمہ جہت تربیتی پروگرام میں چوتھی جماعت سے بارہویں جماعت تک کے تقریباً 230 طلبہ و طالبات بھرپور جوش و خروش کے ساتھ حصہ لے رہے ہیں۔
اس اہم تعلیمی و ثقافتی سرگرمی کے انعقاد میں حکومتِ دہلی کی سرپرستی اور معاونت کو بنیادی حیثیت حاصل ہے۔ بالخصوص اردو اکادمی دہلی کے چیئرمین اور وزیر برائے فن، ثقافت و السنہ جناب کپل مشرا کی خصوصی دلچسپی اور تعاون نے اس پروگرام کو کامیاب بنانے میں نمایاں کردار ادا کیا ہے۔ اردو اکادمی، دہلی اس موقع پر حکومتِ دہلی اور جناب کپل مشرا کے تعاون اور حوصلہ افزائی کے لیے دلی تشکر کا اظہار کرتی ہے۔

سمر کیمپ کے انعقاد کا بنیادی مقصد نئی نسل کو اردو زبان و ادب سے قریب لانا، ان میں تخلیقی اور فنی شعور بیدار کرنا، ان کی صلاحیتوں کو نکھارنا اور انہیں مثبت، تعمیری اور بامقصد سرگرمیوں سے وابستہ کرنا ہے۔ اسی مقصد کے پیشِ نظر کیمپ میں خطاطی، غزل گائیکی، مصوری، داستان گوئی، شخصیت سازی اور اردو زبان دانی سمیت متعدد شعبوں میں تربیتی کلاسوں کا انعقاد کیا جا رہا ہے۔
ان کلاسوں میں اپنے اپنے میدان کے ماہر اساتذہ طلبہ کو نظری اور عملی دونوں سطحوں پر تربیت فراہم کر رہے ہیں۔ طلبہ کی عمر اور تعلیمی سطح کو مدنظر رکھتے ہوئے انہیں جونیئر اور سینئر زمروں میں تقسیم کیا گیا ہے تاکہ ان کی ذہنی، تعلیمی اور تخلیقی صلاحیتوں کی بہتر انداز میں آبیاری کی جا سکے اور ہر طالب علم اپنی استعداد کے مطابق زیادہ سے زیادہ استفادہ حاصل کر سکے۔طلبہ اور ان کے سرپرستوں کی غیر معمولی دلچسپی کے پیشِ نظر گزشتہ روز اور آج خصوصی ثقافتی اور ادبی پروگراموں کا اہتمام بھی کیا گیا، جن میں محفلِ غزل، محفلِ قوالی اور داستان گوئی کی نشستیں شامل تھیں۔

گزشتہ روز نوجوان اور باصلاحیت غزل گلوکار ارمان علی نے اپنی خوبصورت آواز میں منتخب غزلیں اور صوفیانہ کلام پیش کرکے حاضرین کو مسحور کر دیا۔ ان کی پرفارمنس کو شرکا نے بے حد پسند کیا۔ بعد ازاں سمر کیمپ میں غزل گائیکی کی تربیت حاصل کرنے والے طلبہ نے بھی اپنی آواز کا جادو جگایا اور مختلف غزلیں پیش کیں۔ والدین اور دیگر حاضرین نے بچوں کی کارکردگی کو خوب سراہا اور ان کی حوصلہ افزائی کی۔
آج صبح نو بجے معروف قوال گلوکارہ ناز وارثی نے محفلِ قوالی میں شرکت کرتے ہوئے اپنے فن کا شاندار مظاہرہ کیا۔ انہوں نے روایتی اور صوفیانہ رنگ میں ڈوبی ہوئی دلکش قوالیاں پیش کیں جنہیں سامعین نے بے حد پسند کیا اور بھرپور داد سے نوازا۔
اس کے بعد جناب جاوید کی ہدایت کاری میں چھوٹے بچوں نے مشہور مزاحیہ ڈراما ’’اندھیر نگری‘‘ پیش کیا۔ بچوں کی معصوم اداکاری، مکالموں کی ادائیگی اور ڈرامے کی پیشکش نے حاضرین کو خوب محظوظ کیا۔ شرکا نے فن کار بچوں کی صلاحیتوں کی بھرپور ستائش کی اور ان کے لیے نیک تمناؤں کا اظہار کیا۔تقریب کے ایک اہم مرحلے میں پرتھم ایجوکیشن فاؤنڈیشن سے وابستہ معروف ٹرینر اور لرننگ اینڈ ڈیولپمنٹ اسپیشلسٹ جناب فیصل قدوسی نے طلبہ، والدین اور اساتذہ سے خطاب کیا۔
اپنی فکر انگیز گفتگو میں انہوں نے موجودہ دور کے بدلتے ہوئے تقاضوں اور نئی مہارتوں کے حصول کی اہمیت پر تفصیلی روشنی ڈالی۔ انہوں نے مسلسل سیکھنے کے عمل کو کامیابی کی بنیاد قرار دیتے ہوئے مصنوعی ذہانت کے مثبت اور مؤثر استعمال، خود اعتمادی، مؤثر ابلاغ، قائدانہ صلاحیتوں اور شخصیت سازی جیسے اہم موضوعات پر مفصل گفتگو کی۔
فیصل قدوسی نے طلبہ کو تلقین کی کہ وہ اپنی پوشیدہ صلاحیتوں کو تلاش کریں اور محنت، لگن اور مستقل مزاجی کو اپنی زندگی کا حصہ بنائیں تاکہ وہ مستقبل میں کامیاب اور باوقار مقام حاصل کر سکیں۔ انہوں نے والدین کو بھی اس جانب متوجہ کیا کہ وہ اپنے بچوں کی تعلیمی، فکری اور تخلیقی نشوونما کے لیے سازگار ماحول فراہم کریں اور ان کی صلاحیتوں کی بھرپور حوصلہ افزائی کریں۔
ان کی معلوماتی، مدلل اور متاثر کن گفتگو سے شرکا نے بھرپور استفادہ کیا اور عصرِ حاضر کے تقاضوں کے مطابق خود کو تیار کرنے کے حوالے سے قیمتی رہنمائی حاصل کی۔
بعد ازاں ساحل آغا کی ہدایت کاری میں موہنی اور دلکش تیواری نے دلچسپ اور دلنشیں داستانیں پیش کیں۔ ان کی پیشکش نے سامعین کو اپنی جانب متوجہ رکھا اور داستان گوئی کے فن کی خوبصورتی کو اجاگر کیا۔
اس کے بعد سمر کیمپ کے طلبہ نے بھی دورانِ تربیت تیار کی گئی اپنی داستانیں حاضرین کے سامنے پیش کیں۔ بچوں کی تخلیقی صلاحیتوں، اظہارِ بیان اور اعتماد کو دیکھ کر شرکا بے حد متاثر ہوئے اور انہیں بھرپور داد و تحسین سے نوازا۔
قابلِ ذکر ہے کہ سمر کیمپ کا اختتامی پروگرام 3 جون 2026 کو منعقد کیا جائے گا۔ اس موقع پر تمام شریک طلبہ و طالبات میں شرکت اور کامیاب تکمیل کے سرٹیفکیٹس تقسیم کیے جائیں گے۔ ساتھ ہی کیمپ کے دوران تیار کی گئی مختلف تخلیقی، ادبی اور فنّی سرگرمیوں کی جھلک بھی پیش کی جائے گی تاکہ والدین اور مہمان بچوں کی صلاحیتوں اور سیکھنے کے سفر کا مشاہدہ کر سکیں۔
اردو اکادمی، دہلی کو یقین ہے کہ اس نوعیت کے تعلیمی، ادبی اور ثقافتی پروگرام نہ صرف نئی نسل کی تخلیقی اور فکری صلاحیتوں کو جِلا بخشتے ہیں بلکہ ان میں زبان، ادب، ثقافت اور فنونِ لطیفہ سے وابستگی کو بھی مضبوط کرتے ہیں۔ ایسے بامقصد اقدامات اردو زبان و ادب کے فروغ، نوجوان نسل کی شخصیت سازی اور ایک مثبت سماجی و ثقافتی ماحول کی تشکیل میں اہم کردار ادا کرتے رہیں گے۔