Story by آمنہ فاروق | Posted by Aamnah Farooque | Date 25-04-2026
احمد نظام: ایک سوال اور بن گئے 300 کروڑ کے مالک
آمنہ فاروق: نئی دہلی
آج کے دور میں کروڑوں ہندوستانی اپنی منزل تک پہنچنے کے لیے ٹرین کا استعمال کرتے ہیں۔ ریلوے روزانہ کروڑوں لوگوں کو ان کی منزل تک پہنچاتی ہے، لیکن کئی بار دھند یا دیگر وجوہات کی بنا پر ٹرینیں تاخیر کا شکار ہو جاتی ہیں۔ آج ہمارے پاس ایسے کئی ذرائع موجود ہیں جن کے ذریعے ہم ٹرین کو ٹریک کر سکتے ہیں، مگر آج سے تقریباً دس سال پہلے ایسی کوئی ٹیکنالوجی یا ایپلیکیشن موجود نہیں تھی۔ اُس وقت ہم ٹرین کی لائیو لوکیشن معلوم نہیں کر سکتے تھے۔
کچھ ایسا ہی ایک نوجوان کے ساتھ ہوا، جو عام لوگوں کی طرح ٹرین سے سفر کر رہا تھا۔ اس کی ٹرین تاخیر کا شکار ہو گئی،اسی انتظار کے دوران اس کے ذہن میں ایک سوال آیا کہ آخر میری ٹرین کہاں ہے ۔ اسی خیال سے یہ ایپ وجود میں آیا جسے آج کروڑوں لوگ استعمال کرتے ہیں۔ جی ہاں، ہم بات کر رہے ہیں "وئیر از مائی ٹرین" ایپ کی۔ آئیے جانتے ہیں کہ اس کی شروعات کیسے ہوئی۔
ٹرین لیٹ مگر دماغ چلا تیز
سال 2015 میں احمد نظام محی الدین ٹرین سے سفر کرنے کے لیے ریلوے اسٹیشن پہنچے، لیکن ان کی ٹرین گھنٹوں لیٹ تھی۔ پلیٹ فارم پر بیٹھے بیٹھے وہ پریشان ہو گئے تھے۔ اس دوران ہندوستان میں اوبر اور اولا جیسے ایپس بہت مقبول ہو رہے تھے، جو صارفین کو کیب سروس دیتے تھے اور اپنے ایپ میں ڈرائیور، صارف اور منزل کی لائیو لوکیشن دکھاتے تھے۔ یہیں سے احمد نظام کے ذہن میں خیال آیا کہ جب اوبر اور اولا ایسا کر سکتے ہیں تو ٹرین کی لائیو لوکیشن کیوں نہیں ٹریک کی جا سکتی؟
موبائل ٹاور کا استعمال
انہوں نے 2013 میں "سگمائڈ لیبز" نامی ایک ٹیک کمپنی قائم کی تھی۔ یہ کمپنی ایک نمایاں اے آئی فرسٹ ڈیٹا سلوشنز کمپنی ہے، جو ڈیٹا انجینئرنگ، ڈیٹا سائنس، مشین لرننگ اور جینیریٹو اے آئی کے ذریعے کاروباروں کو جدید بنانے میں مدد کرتی ہے، تاکہ ایڈ ٹیک ، ریٹیل اور بی ایف ایس آئی جیسے شعبوں میں بہتر فیصلے لیے جا سکیں۔احمد نظام نے اپنی کمپنی کی ٹیم کے ساتھ مل کر ٹرین ٹریکنگ ایپ بنانے پر کام شروع کیا۔ انہوں نے اس آئیڈیا پر ایک سال تک محنت کی، لیکن انہیں ناکامی کا سامنا کرنا پڑا۔ تاہم مسلسل کوششوں کے بعد ایک سال میں وہ "وئیر از مائی ٹرین" بنانے میں کامیاب ہو گئے۔ اس وقت ہندوستان میں انٹرنیٹ بہت کم لوگوں کے پاس تھا اور نہ ہی ان کے پاس اتنی فنڈنگ تھی کہ وہ اسے بڑے پیمانے پر لانچ کر سکیں۔ اسی لیے انہوں نے سیل ٹاور کا استعمال کرتے ہوئے یہ ایپ تیار کی، یعنی موبائل ٹاور کے ذریعے ٹرین کی ٹریکنگ ممکن ہو گئی۔
گوگل نے خریدا ایپ
سال 2018 میں گوگل نے "وئیر از مائی ٹرین " کو خرید لیا۔ یہ ایک منفرد آئیڈیا تھا جس نے گوگل کو بہت متاثر کیا، اور اسی وجہ سے گوگل نے اس ایپ کو بنانے والی کمپنی "سگمائڈ لیبز " کو تقریباً 300 کروڑ روپے میں خرید لیا، اگرچہ اس کی مکمل مالی تفصیلات ظاہر نہیں کی گئیں۔ گوگل کے اس حصول کا مقصد "نیکسٹ بلین یوزرس" اقدام کو مضبوط بنانا تھا، تاکہ ابھرتی ہوئی مارکیٹوں میں زیادہ صارفین کو بہتر خدمات فراہم کی جا سکیں اور آف لائن ٹرین ٹریکنگ ٹیکنالوجی کو اپنے سسٹم میں شامل کیا جا سکے۔
دس کروڑ ہورہے ہیں فیضیاب
آج "وئیر از مائی ٹرین " کے 100 ملین یعنی تقریباً 10 کروڑ سے زیادہ ڈاؤن لوڈز ہو چکے ہیں۔ یہ ایپ ٹرین کی لائیو لوکیشن کے ساتھ ساتھ آف لائن شیڈول، پلیٹ فارم نمبر، کوچ لے آؤٹ، سیٹ دستیابی، پی این آر اسٹیٹس چیک، ڈیسٹینیشن الارم اور لوکیشن شیئرنگ جیسی سہولتیں بھی فراہم کرتی ہے۔ یہ ایپ سیل ٹاور ڈیٹا کے ذریعے جی پی ایس یا انٹرنیٹ کے بغیر بھی کام کرتی ہے، جس کی وجہ سے یہ ایک مؤثر اور بیٹری بچانے والا سفری ساتھی بن چکی ہے۔
گوگل میں ملازمت
احمد نظام کے اس آئیڈیا کی بدولت آج کروڑوں ہندوستانی اپنی ٹرین کی لائیو لوکیشن معلوم کر سکتے ہیں اور یہ جان سکتے ہیں کہ ان کی ٹرین کہاں پہنچ چکی ہے اور کب اگلے اسٹیشن تک پہنچے گی۔ سال2018 میں گوگل کے اس ایپ کو خریدنے کے بعد احمد نظام نے گوگل میں بطور سینئر سافٹ ویئر انجینئر کام کیا۔ انہوں نے تقریباً چار سال تک وہاں خدمات انجام دیں اور دسمبر 2022 میں استعفیٰ دے دیا۔
پھر ایک نیا ایپ
اس کے بعد 2023 میں انہوں نے اپنا نیا اسٹارٹ اپ "ریگین ایپ" لانچ کیا۔یہ ایپ صارفین کو موبائل کی لت کو کم کرنے اور اپنی توجہ بہتر بنانے میں مدد دیتی ہے۔ یہ ڈسٹرکٹ کرنے والے ایپس (جیسے ریل / شارٹس) کو بلاک کرتی ہے، استعمال کی حد مقرر کرتی ہے، اسکرین ٹائم ٹریک کرتی ہے، اور بہتر ڈیجیٹل عادات اور پروڈکٹیوٹی کے لیے ٹائمر، میوزک اور لیڈر بورڈ اسٹڈی سیشن فراہم کرتی ہے۔ آج کے وقت میں "ریگین ایپ " کے بھی 1 ملین یعنی دس لاکھ سے زیادہ صارفین ہیں۔