ویکسینز :تاریخ میں سب سے زیادہ انسانی جانیں بچانے والی طبی ایجاد

Story by  منصورالدین فریدی | Posted by  [email protected] | Date 15-03-2023
ویکسینز :تاریخ میں سب سے زیادہ انسانی جانیں بچانے والی طبی ایجاد
ویکسینز :تاریخ میں سب سے زیادہ انسانی جانیں بچانے والی طبی ایجاد

 

جاوید خان 

ہر سال 16 مارچ ہندوستان میں قومی ویکسینیشن ڈے کے طور پر منایا جاتا ہے اس دن کو منانے کا مقصد انسانی نظام صحت میں ویکسین کی اہمیت اور شعورکو اجاگر کرنا ہے۔ دراصل صدیوں سے، انسانوں نے ایک دوسرے کو مہلک بیماریوں سے بچانے کے طریقے تلاش کیے ہیں۔ تجربات خطرہ اٹھانے سے لے کر ایک بے نظیر وبائی بیماری کے درمیان عالمی ویکسین کے رول آؤٹ تک، حفاظتی ٹیکوں کی ایک طویل تاریخ ہے۔ ویکسین کی تحقیق مشکل اخلاقی سوالات کو جنم دے سکتی ہے اور ماضی میں ویکسین کی تیاری کے لیے کیے گئے کچھ تجربات آج اخلاقی طور پر قابل قبول نہیں ہوں گے۔ ویکسینز نے تاریخ میں کسی بھی دوسری طبی ایجاد کے مقابلے زیادہ انسانی جانیں بچائی ہیں۔ یہ دیکھنے کے لیے کہ ان غیر معمولی دریافتوں اور کامیابیوں نے ہماری زندگیوں کو کس طرح بدل دیا ہے۔

دنیا میں سب سے پہلی وائرل بیماری

"چیچک"(چے چَک) کی تھی جس نے کروڑوں لوگوں کی جان لے لی۔ تقریباَ ڈیڑھ سوبرس پہلے تک اکثرچہروں پرچیچک کے داغ اورگہرے بدنمادھبے منقش نظرآتے تھے اوربرصغیراوردوسرے مشرقی ممالک میں توپچاس برس پہلے تک یہی حالات تھے۔ صاف ستھری اوربے داغ جلدگویااچنبھے کی بات تھی۔ جب لوگ ایک دوسرے کوگالی یابددعادیناچاہتے تویہی کہتے کہ خداکرے”تمہیں چیچک لگ جائے“۔ جب کبھی کسی علاقے میں چیچک کاحملہ ہوتاتوگھرکے گھرویران ہوجاتے تھے اورجوبچ جاتے، ان کی شکلیں بگڑ جاتیں اوران میں سے کئی اندھے ہوجاتے۔

کہانی بہت طویل ہے 

کورونا وبا کے اختتام پر ، آج ہر شخص " ویکسی نیٹڈ" ہونے کا دعویدار ہے۔ اسی ویکسین کی بدولت آج کاروبار زندگی رواں دواں ہے ورنہ کورونا وبا نے ایک بار تو پوری دنیا کو اپنی لپیٹ میں لے لیا تھا اور ہر شخص "کورنٹائن" ہو کر رہ گیا تھا۔ کورونا کی ویکسین کی تیاری کے بعد، بتدریج نظام زندگی بحال ہوا۔ لیکن کیا آپ نے کبھی سوچا ہے کہ ویکسین کا یہ عمل کس طرح شروع ہوا تھا۔ پہلی ویکسین کیوں اور کیسے بنائی گئی اور اسے بنانے کا آئیڈیا کہاں سے حاصل کیا گیا تھا؟ چلیے آپ کو ویکسین کی کہانی سناتے ہیں۔ آئیے جاننے کی کوشش کرتے ہیں کہ ویکسین کسے کہتے ہیں؟ اس ضرورت کیوں پیش آئی؟ پہلی ویکسین کیسے ایجاد ہوئی ؟ ویکسین سے پہلے وبائی امراض سے کیسے نمٹا جاتا تھا؟

ویکسین کسے کہتے ہیں؟

سب سے پہلے ویکسین کی تعریف کی بات کریں تو سادہ الفاظ میں ہم کہہ سکتے ہیں کہ کسی مرض کے علاج کے لیےجو ویکسین لگائی جاتی ہے، وہ دراصل اسی مرض کے نیم مردہ یا کمزور وائرس پر ہی مشتمل ہوتی ہے۔ ان کے ناکارہ ہونے کی وجہ سے انسانی جسم، اس وائرس کے خلاف مدافعت (یعنی اینٹی باڈیز) پیدا کر لیتا ہے اور اس طرح مستقبل میں جب بھی یہ وائرس حملہ آور ہوتا ہے، تو انسانی جسم میں موجود یہ اینٹی باڈیز اسے فورا پہچان لیتی ہیں اور ان کا خاتمہ کر دیتی ہیں۔

ویکسین کیسے ایجاد ہوئی اور اس کا موجد کون تھا؟

انگلستان کا ایک سرجن ایڈورڈجینر جب1794ءمیں اپنے آبائی علاقے گلاسٹرشائرپہنچےتووہ بھی اپنے مریضوں کوسیتلاکاپیوندلگایاکرتےتھے۔ جینراپنے وطن پہنچ کربہت خوش تھےکیونکہ یہ علاقہ بڑاسرسبزوشاداب تھااوریہاں لندن کے وحشت ناک اسپتالوں والاماحول نہ تھا۔ خاص طورپریہ بات کہ شہرکے مقابلے میں یہاں کی لڑکیاں زیادہ خوبصورت تھیں اورگوالنوں کی رنگت توواقعی بڑی دلفریب تھی۔ جینرنے محسوس کیاکہ گوالنیں کبھی چیچک کاشکارنہیں ہوتیں، تاہم تمام گوالنوں کو کبھی نہ کبھی چیچک نکلی ضرور تھی۔

ان گوالنوں نے بتایاکہ جب انھوں نے ایسی گائے کادودھ دوہا، جس کے تھنوں پردانے نکلے ہوئے تھے، توان کے اپنے ہاتھوں پربھی چیچک جیسے چند دانے نکل آئے تھے جوچنددن بعدہی ختم ہوگئے تھے۔

اس کے بعدبھی اکثروبیشترجینرکے مشاہدے میں یہ بات آئی کہ گوالوں اورچرواہوں کوسیتلاکاپیوندلگانے سے اکثردانے نہیں نکلتے اورجب ان سے گزشتہ زندگی کے حالات دریافت کئے جاتے ہیں توبس ایک ہی بات دہرائی جاتی ہے کہ گائے کی چھوت سے ہاتھوں پردانے نکلے ضرورتھے لیکن چیچک کامرض کبھی نہیں ہوا۔ ایک عورت نے باتوں باتوں میں بتایاکہ اگرہاتھوں پردانے نکل آئیں توچیچک نہیں ہوتی۔

ان مشاہدات سے جینرنے یہ نتیجہ نکالاکہ گائے کی چیچک اورانسانی چیچک ایک ہی طرح کی بیماریاں ہیں۔ اس لیے اگرگائے کی چیچک کی چھوت سے انسان چیچک کے وبائی حملے سے بچ جاتے ہیں توکیوں نہ گائے کی چیچک کے مادے کاپیوندلگایاجائے، کیونکہ گائے کی چیچک ایک بے ضررسی بیماری ہے۔

اس نے گائے کی چیچک کی شکارگوالنوں کے چھالوں سے لیے گئے موادکو20بچوں میں داخل کیا۔ تمام بچے گائے کی چیچک کاشکار ہوگئے۔ ان بچوں کے ہاتھوں پرتکلیف دہ چھالے نمودارہوئے جوکئی دن تک موجودرہے اورپھرغائب ہوگئے۔ دوماہ بعد، جینرنے زندہ چیچک کے جراثیم انھی بچوں میں داخل کیے۔ اگرجینرکانظریہ غلط ہوتاتوان میں سے کافی بچے مرجاتے، لیکن ان بچوں میں سے کسی میں بھی چیچک کی علامات ظاہرنہ ہوئیں۔ جینرنے جب 1798ءمیں اپنے نتائج شائع کرائے تواپنے اس عمل کوبیان کرنے کے لئے”ویکسینیشن“کالفظ استعمال کیا۔ یہ اصطلاح دولاطینی الفاظ، ”وی ای سی سی اے“بمعنی گائے اور”ویکسینیا “بمعنی گائے کی چیچک ، سے بنائی گئی تھی۔

جینرکو1803ءمیں حکومت انگلستان نے6000پاﺅنڈکاانعام دیاکیونکہ اس نے تاریخ کی سب سے بڑی بیماری کوجڑ سے اکھاڑ پھینکاتھا۔ جینرکی اس دریافت کواٹھارہویں صدی کاسب سے عظیم طبی کارنامہ تسلیم کیاجاتاہے۔ جینر کو "بابائے ویکسینولوجی" بھی کہا جاتا ہے۔ 1979ءمیں چیچک سے مکمل تحفظ کااعلان کیاگیا اورعالمی ادارہ صحتکی طرف سے امریکی صدرجارج ایچ بش نے یہ اعلان کیا تھا کہ اس وقت دنیامیں چیچک کاایک بھی مریض موجودنہیں ہے۔

ویکسین سے پہلے وبائی امراض کتنے تباہ کن تھے؟ 

 آج چیچک، پولیو اورخسرہ جیسی خطرناک بیماریاں ہمارے ماحول میں موجودنہیں ہیں لیکن چندعشرے قبل جب یہ بیماریاں حملہ آور ہوتی تھیں توبلامبالغہ لاکھوں لوگ ان کاشکارہوکرموت کے منہ میں چلے جاتے تھے۔ خاص طورپرطاعون کی وباءنے چودھویں اورپندرہویں صدی کے دوران یورپ کی تقریباََ نصف آبادی کوہلاک کردیاتھا۔ چیچک کی وجہ سے بھی ایک صدی قبل تک ہرسال ایک لاکھ سے زیادہ افرادہلاک ہوتے رہے جبکہ کئی لاکھ افرادکے چہرے داغدارہوگئے تھے۔ بیسویں صدی کے آغازمیں پولیوکی وجہ سے ہزاروں افرادہلاک اورلاکھوں معذورہوگئے تھے۔ 1918ءمیں وبائی زکام(انفلوئنزا)سے ڈھائی کروڑافرادہلاک ہوئے تھے۔

لیکن پھرایک سادہ سی دریافت نے نہ صرف ان بیماریوں کوپھیلنے سے روک دیابلکہ انھیں تقریباََ جڑ سے اکھاڑکرپھینک دیا۔ یہ ”ویکسین“کی دریافت تھی۔ ویکسی نیشن کی بدولت نہ صرف کروڑوں زندگیاں بچائی گئیں بلکہ ان بیماریوں سے ہمیشہ کے لئے تحفظ بھی حاصل ہوا۔

ہم پچھلی دو صدیوں کے دوران تیار کی جانے والی ویکسینوں کی تاریخ پر نگاہ ڈالتے ہیں جن کے بارے میں شکوک و شبہات کبھی بھی ختم نہیں ہوئے۔ مہلک اور انتہائی متعدی چیچک کھلے زخموں کے ذریعے پھیلا، جس کی وجہ سے لاکھوں افراد کی زندگیوں کو خطرہ لاحق ہوا اور اس نے کئی صدیوں تک دنیا کو نشانہ بنائے رکھا۔

یہاں تک کہ برطانوی ڈاکٹر ایڈورڈ جینر نے نشاندہی کی کہ دودھ پلانے والی خواتین جو کبھی چھاتیوں کی بیماری کا شکار ہوئی ہیں، انہیں کبھی بھی چیچک نہیں ہوتا۔ 1796 میں وہ اس بیماری کے بے ضرر ورژن کو ایک بچے کے مدافعتی نظام کو متحرک کرنے کے لیے اس کے جسم میں داخل کرتے ہیں۔

بار بار ایسا کرنے کے باوجود بھی وہ بچہ کبھی بیمار نہیں ہوتا اور اس طرح ویکسین کی شروعات ہوتی ہے۔ 1853 میں تمام برطانوی بچوں کے لیے چیچک کی ویکسین لازمی قرار دی گئی لیکن اس کا فوری طور پر رد عمل سامنے آتا ہے اور بہت سے لوگ مذہبی وجوہات کی بنا پر اعتراض کرتے ہیں یا اس پالیسی کو شخصی آزادیوں کی خلاف ورزی قرار دیتے ہیں۔

دراصل 1898 میں قانون میں اضافی شق شامل کی گئی تاکہ اس کے لیے لوگوں کی رضامندی کو مدنظر رکھا جائے۔ فرانسیسی سائنس دان لوئس پاسچر نے بیماری کے زیادہ خطرناک جینز سے ریبیز کی ویکسین تیار کی۔ پاگل کتوں کے کاٹے ہوئے بچوں میں یہ ویکسین کامیاب ثابت ہوئی۔ ویکسینوں کے ناقدین کی جانب سے پاسچر پر منافع کمانے کے لیے 'لیبارٹری ریبیز' تیار کرنے کی کوشش کرنے کا الزام عائد کیا گیا۔

اسی طرح ٹائیفائیڈ کے خلاف ایک ویکسین 19 ویں صدی کے آخر میں تیار کی گئی، جس کے بعد 1920 کی دہائی میں کئی اہم کامیابیاں حاصل کی گئیں اور 1921 میں تپ دق کے خلاف، 1923 میں خناق کے خلاف، 1926 میں تشنج اور 1926یں کھانسی کی ویکسین کی تیار کی گئی۔ 1920 کی دہائی میں بھی ایلومینیم کے ایجنٹس کو کارکردگی بڑھانے کے لیے پہلی بار ویکسین میں استعمال کیا گیا، یہ ایک ایسا عمل تھا جس نے بعد میں خاص طور پر فرانس میں ویکسین سے متعلق شکوک و شبہات کو جنم دیا۔

موسمی فلو کے خلاف پہلی ویکسین مہم کا آغاز 45-1944 میں یورپ میں لڑنے والے امریکی فوجیوں سے کیا گیا جنہیں ہر سال ایک نئی ویکسین کے انجیکشنز دیے جاتے۔ 1950 کی دہائی میں، جب پولیو سے بچاؤ کی ویکسینیشن امریکی حکومت کی ترجیح تھی، اس وقت کے میگاسٹار ایلوس پریسلی نے خود کو اس مقصد کے لیے وقف کر دیا اور پرائم ٹائم ٹی وی پروگرام ’ایڈ سلیوان شو‘ میں سب کے سامنے اس ویکسین کا انجیکشن لیا۔

پھر 1970کی دہائی میں سوائن فلو کی وجہ سے ہونے والے تباہ کاریوں سے تحفظ دینے کے لیے امریکیوں کو ویکسین دینے کی مہم شروع کی گئی تاہم جب اس وبائی مرض میں مدد نہیں مل سکی اور ویکسین حاصل کرنے والوں میں سے 450 افراد غیر ضروری طور پر فالج کا سبب بننے والے گیلین بیری سنڈروم کا شکار بن گئے تو ویکسین مہم کے خلاف مزید شکوک و شبہات پیدا ہو گئے۔

چیچک کا آخری کیس صومالیہ میں 26 اکتوبر 1977 کو تشخیص کیا گیا تھا اور عالمی ادارہ صحت نے عالمی سطح پر ویکسینیشن مہم کی بدولت 1989 میں اس بیماری کے باضابطہ طور پر ختم ہونے کا اعلان کیا تھا۔ افریقہ میں پولیو کے خاتمے کے لیے اسی طرح کی مہم بے حد کامیاب رہی ہے۔

پوری دنیا میں ختم ہونے کے بعد پولیو کا مرض اب صرف پاکستان اور افغانستان میں موجود ہے کیونکہ کچھ مذہبی رہنماؤں کا دعویٰ ہے کہ یہ ویکسین مسلمانوں بچوں میں افزائش نسل کی قابلیت کو ختم کرنے کا ایک منصوبہ ہے۔ 1998میں ایک نامور میڈیکل جریدے لینسیٹ میں شائع ہونے والی ایک تحقیق میں ایم ایم آر (خسرہ، ممس اور روبیلا) ویکسین اور آٹزم کے مابین ایک ربط کا دعویٰ کیا گیا۔ تاہم اس تحقیق کے مرکزی خیال کو اس کے اپنے مصنف اینڈریو ویک فیلڈ نے غلط قرار دے دیا تھا۔ ویک فیلڈ کو بعد میں ان کے پیشے سے برطرف کر دیا گیا تھا۔

اس کے باوجود بھی ویکسین کی مخالفت کرنے والے گروپ اس مشکوک مطالعے کا حوالہ دیتے ہیں۔ 2009میں ایچ ون این ون یا سوائن فلو کی وبا سے پوری دنیا میں خطرے کی گھنٹیاں بج گئی تھیں۔ اگرچہ 1918 کے فلو کے مقابلے میں یہ وائرس کم مہلک ثابت ہوا اور اس سے دنیا بھر میں صرف 18،500 افراد ہلاک ہوئے۔کورونا کے دور میں بھی ایسے ہی شکوک و شبہات پاے گیے لیکن ہندوستان میں ان کو بڑی تیزی کے ساتھ دور کردیا گیا تھا