گلوبل وارمنگ:’انسانیت کے لیے خطرے کا انتہائی نشان‘۔ یو این

Story by  ایم فریدی | Posted by  [email protected] | 1 Years ago
آگ کا گولہ بن رہی ہے دنیا

 

آواز دی وائس : نئی دہلی

زمین کا ماحول اتنا گرم ہو رہا ہے کہ اگلے تقریباً 10 سال میں عالمی درجہ حرارت اس سطح سے کہیں زیادہ بڑھ سکتا ہے، جس سطح پر اسے روکنے کے لیے عالمی رہنما کوششوں میں مصروف ہیں۔ مگر حالات بد سے بد تر ہیں ۔زمین آگ کا گولہ بن رہی ہے۔ اب حالات قابو سے باہر نکل چکے ہیں۔ان خیالات اور خدشات کا اظہار کل اقوام متحدہ کی ایک رپورٹ میں کیا گیا ہے۔

اقوام متحدہ نے اس صورت حال کو ’انسانیت کے لیے خطرے کا انتہائی نشان‘ یعنی ’کوڈ ریڈ‘ قرار دیا ہے۔

 امریکہ کے قومی مرکز برائے ماحولیاتی تحقیق سے منسلک سینیئر سائنسدان اور رپورٹ کی شریک مصنفہ لِنڈا مرنز کے بقول’اس بات کی پکی ضمانت ہے کہ حالات مزید خراب ہونے جا رہے ہیں۔ فرار کے لیے کوئی جگہ ملے گی نہ چھپنے کے لیے۔‘ لیکن قطعی اور بدترین ماحولیاتی تباہی کے امکان کے معاملے میں سائنسدان کسی قدر مطمئن بھی ہیں۔

 ماحولیاتی تبدیلی سے متعلق خود مختار بین الحکومتی پینل (آئی پی سی سی) کی جاری کردہ رپورٹ، جس میں ماحولیاتی تبدیلی کی وجہ واضح اور دوٹوک الفاظ میں انسانوں کی پیدا کردہ قرار دی گئی ہے، اس میں زیادہ گرم ماحول کے بارے میں پیشگوئی 2013 کی رپورٹ کے مقابلے میں زیادہ درست انداز میں کی گئی ہے۔

 کاربن کے اخراج میں کتنی کمی کی جائے گی؟ اس بنیاد پر مستقبل کے لیے طے کیے گئے پانچ منظر ناموں میں سے ہر ایک اُن دو سخت حدود سے آگے بڑھ چکا ہے جو 2015 میں پیرس میں ہونے والے ایک معاہدے میں طے کی گئی تھیں۔ اس وقت عالمی رہنماؤں نے اتفاق کیا تھا کہ درجہ حرارت کو 19ویں صدی کی سطح سے زیادہ 1.5 درجے سیلیئس (2.7 درجے فارن ہائٹ) تک محدود رکھا جائے گا کیونکہ 19 ویں صدی کے بعد مسائل میں تیزی سے اضافہ ہوا۔ عالمی درجہ حرارت میں گذشتہ ڈیڑھ صدی میں پہلے ہی 1.1 درجے سیلسیئس (دو درجے فارن ہائٹ) اضافہ ہو چکا ہے۔

رپورٹ میں بتایا گیا ہے کہ ہر منظر نامے کے تحت دنیا 2030 کی دہائی میں ماضی میں کی گئی بعض پیشگوئیوں سے ہٹ کر درجہ حرارت میں اضافے کی 1.5 درجے سیلسیئس کی حد قبل از وقت پار کرے گی۔ ڈیٹا سے ظاہر ہوتا ہے کہ حالیہ برسوں میں درجہ حرارت میں اضافہ ہوا ہے۔

 آئی پی سی سی کی شریک سربراہ ویلیری میسن ڈیلموٹ کے مطابق: ’ہماری رپورٹ سے ظاہر ہوتا ہے کہ آنے والی دہائیوں میں ہمیں اس سطح کے درجہ حرارت میں جانے کی تیاری کرنے کی ضرورت ہے، لیکن ہم گرین ہاؤس گیسوں کا اخراج کم کرکے درجہ حرارت میں مزید اضافے سے بچ سکتے ہیں۔‘ ڈیلموٹ یونیورسٹی آف پیرس ساکلے میں قائم لیبارٹری آف کلائمیٹ اینڈ انوائرنمنٹ سائنسز میں بطور پر سائنسدان کام کرتی ہیں۔

 تین منظر ناموں کے مطابق ہو سکتا ہے کہ دنیا کا درجہ حرارت صنعتوں کے قیام سے پہلے کے درجہ حرارت کے مقابلے میں دو درجے سیلسیئس (3.6 درجے فارن ہائٹ) سے زیادہ ہو جائے۔ رپورٹ کے مطابق پیرس معاہدے کا دوسرا کم سخت ہدف آنے والی دہائیوں میں کاربن ڈائی آکسائیڈ اور دوسری گرین ہاؤس گیسز کے اخراج میں زیادہ سے زیادہ کمی لانا ہے تاکہ گرمی کی شدید لہروں، خشک سالی، سیلابوں اور شدید بارشوں سے بچا جاسکے۔

آئی پی سی سی کی نائب سربراہ اور امریکہ کی اوشیانک اینڈ ایٹموسفیرک ایڈمنسٹریشن کی ماحول پر سینیئر مشیر کو بیرٹ کا کہنا ہے کہ ’رپورٹ ہمیں بتاتی ہے کہ ماحول میں حالیہ تبدیلیاں بڑے پیمانے پر، تیزی سے اور شدت کے ساتھ ہوئی ہیں جن کی ہزاروں برسوں میں کوئی مثال نہیں ملتی۔

‘ ۔ 234 سائنسدانوں کی تیار کردہ تین ہزار سے زیادہ صفحات پر مشتمل رپورٹ میں کہا گیا ہے کہ درجہ حرارت میں اضافہ پہلے ہی سطح سمندر میں اضافے کا سبب بن رہا ہے اور شدید گرمی کی لہر، خشک سالی، سیلابوں اور طوفانوں کو مزید شدید بنا رہا ہے۔ سمندری طوفانوں میں شدت آ رہی ہے اور زیادہ مقدار میں پانی سمندر سے باہر آتا ہے جبکہ قطب شمالی میں سمندری برف گرم موسم میں کم ہو رہی ہے اورزمین کی سطح سے نیچے موجود برف پگھل رہی ہے۔ رپورٹ کے مطابق ان تمام رجحانات میں مزید بگاڑ آئے گا۔

 یہ حالات نہ صرف دنیا بلکہ انسانیت کے وجود کے لیے خطرناک ہے۔ اقوام متحدہ کی یہ رپورٹ ایک بار پھر دنیا کو جھنجھوڑ رہی ہے لیکن اب ان حالات کا کن بنیاد پر سامنا کیا جائے گا یہ دیکھنا ہوگا۔