آواز دی وائس : نئی دہلی
کشمیر پرانسانی اور مثبت کہانیاں سامنے لانی ہوں گی ،ان پر فلمیں بنانے کی ضرورت ہے تاکہ کشمیری سماج کو مثبت انداز میں پیش کیا جا سکے۔
ان خیالات کا اظہار کشمیر کے ممتاز فلم میکر علی عمران نے کیا ۔ انہوں نے کہا کہ بالی ووڈ زیادہ تر کمرشل تقاضوں کے تحت کام کرتا ہے۔ وہاں رجحانات کو فالو کیا جاتا ہے اور ایک ہی طرز کی فلمیں بار بار بنائی جاتی ہیں۔ آواز دی وائس سے خاص بات چیت کے دوران انہوں نے کشمیر سے فلم سازی تک مختلف پہلووں پر روشنی ڈالی ۔
آواز بیورو چیف یاسمین خان نے فلم میکر علی عمران سے گفتگو کی۔ علی عمران ایک فلم میکر رائٹر اور ڈائریکٹر ہیں۔ انہوں نے انٹرویو میں اپنے تخلیقی سفر اور فلم سازی کے تجربات پر کھل کر بات کی۔
بچپن سے شوق
علی عمران نے بتایا کہ انہوں نے اسکول کے زمانے سے شاعری اور کہانیاں لکھنا شروع کیا۔ اسی دور میں انہوں نے طے کر لیا تھا کہ انہیں آرٹ کے شعبے میں ہی جانا ہے۔ والدین کے مشورے پر انہوں نے دہلی سے انجینئرنگ کی تعلیم حاصل کی۔ انجینئرنگ کے ساتھ ساتھ وہ بالی ووڈ کے مختلف ڈائریکٹروں کے ساتھ اسسٹنٹ کے طور پر کام کرتے رہے۔ اسی دوران انہوں نے متعدد فلم فیسٹیول دیکھے اور فلم سازی کی باریکیوں کو سمجھا۔انہوں نے کہا کہ 2006 میں انہوں نے آزاد فلم میکر بننے کا فیصلہ کیا۔ اسی سال انہوں نے اپنی ایک شارٹ فلم بنائی جو ناظرین میں کافی پسند کی گئی۔ ان کا ماننا ہے کہ ایک فنکار اپنی زبان اور اپنے ماحول میں رہ کر زیادہ بہتر تخلیق کر سکتا ہے۔ اسی سوچ کے تحت انہوں نے کشمیر میں رہ کر کام کرنے کو ترجیح دی۔

بات بالی ووڈ کی
علی عمران کے مطابق بالی ووڈ زیادہ تر کمرشل تقاضوں کے تحت کام کرتا ہے۔ وہاں رجحانات کو فالو کیا جاتا ہے اور ایک ہی طرز کی فلمیں بار بار بنائی جاتی ہیں۔ انہوں نے کہا کہ کشمیر کے حوالے سے انسانی اور مثبت کہانیاں بنائی جانی چاہئیں تاکہ کشمیری سماج کو مثبت انداز میں پیش کیا جا سکے۔انہوں نے موجودہ دور کی فلموں پر بات کرتے ہوئے کہا کہ سوشل میڈیا اور ریلز کے رجحان نے سنیما کو متاثر کیا ہے۔ آج کل فلموں کے کئی مناظر ریلز کی طرح بنائے جا رہے ہیں۔ اس عمل سے سنیما کے معیار میں کمی آ رہی ہے۔ ان کے مطابق سنیما محض پیسے کا ذریعہ نہیں بلکہ ایک سنجیدہ فن ہے۔
آزاد فلم میکرز کے لیے پیغام دیتے ہوئے علی عمران نے کہا کہ فلم سازی ایک طویل اور مشکل سفر ہے۔ ابتدائی دور میں کسی پروفیشنل سیٹ اپ کے ساتھ کام کرنا ضروری ہے۔ خود کو مستحکم کرنے میں کم از کم 10 سال لگ سکتے ہیں۔ اس لیے صبر اور مستقل مزاجی بہت ضروری ہے۔ جلد بازی اور مایوسی سے بچنا چاہیے۔انہوں نے بتایا کہ وہ فلم فیسٹیول سرکٹ کے لیے طویل مدتی منصوبہ بندی کر چکے ہیں۔ ان کے مطابق ہر فلم میکر کو اپنا واضح راستہ طے کرنا چاہیے اور اسی کے مطابق محنت کرنی چاہیے۔

آنے والی فملیں
اپنے موجودہ اور آنے والے منصوبوں پر بات کرتے ہوئے انہوں نے کہا کہ ان کی فلم باندھ ریلیز کے لیے تیار ہے۔ سینسر کے بعد یہ فلم عید کے بعد ریلیز کی جائے گی۔ اس کے علاوہ ان کے تین اور پروجیکٹس زیر تکمیل ہیں۔ ایک میوزیکل فلم بھی منصوبے میں شامل ہے جو کشمیر کے پس منظر میں بنائی جا رہی ہے۔ ایک بین الاقوامی سطح کی فلم پر بھی کام جاری ہے جو معاصر اور قدرے صوفیانہ موضوع پر مبنی ہوگی۔
نوجوان اور ابھرتے ہوئے فلم میکر ز کے لیے انہوں نے مشورہ دیا کہ وہ پولش اور چیک سنیما کے ساتھ ساتھ عباس کیارستمی اور مجید مجیدی جیسے بڑے فلم سازوں کی فلمیں دیکھیں۔ ان کے مطابق ان فلموں سے فلم سازی کے فلسفے اور تکنیک کو بہتر طور پر سمجھا جا سکتا ہے۔ ساتھ ہی کسی پروفیشنل سیٹ اپ میں اسسٹنٹ کے طور پر کام کرنا بھی ضروری ہے۔