زیبا نسیم : ممبئی
بریلی کے بازار میں جھمکا گرنے کا دلکش قصہ اپنی سحر انگیز اور مترنم آواز میں سنانے والی عظیم گلوکارہ آشا بھوسلے اب اس دنیا میں نہیں رہیں۔ ان کی آواز آج بھی وقت کی سرحدوں کو پار کرتے ہوئے کئی نسلوں کو ماضی کی حسین وادیوں میں لے جاتی ہے اور دلوں میں رومانوی جذبات کی نئی لہر پیدا کر دیتی ہے۔
آشا بھوسلے آٹھ ستمبر انیس سو تینتیس کو شاہی ریاست سانگلی کے خوبصورت گاؤں گور میں پیدا ہوئیں۔ ان کے والد پنڈت دینا ناتھ منگیشکر اپنے عہد کے نامور اداکار اور بلند پایہ گلوکار تھے جنہوں نے گوالیار گھرانے سے کلاسیکی موسیقی کی باقاعدہ تربیت حاصل کی تھی۔ ان کا پورا خاندان فنون لطیفہ کی خوشبو میں رچا بسا تھا اور منگیشی مندر سے نسبت کے باعث وہ منگیشکر کے نام سے پہچانے گئے۔
جب آشا صرف نو برس کی تھیں تو ان کے والد کا انتقال ہو گیا جس کے بعد فلموں میں گانا ان کے لیے شوق نہیں بلکہ ضرورت بن گیا۔ ابتدا میں انہیں سخت جدوجہد کا سامنا کرنا پڑا۔ انہوں نے انیس سو اڑتالیس میں ہنس راج بہل کی فلم چنریا کے لیے گیت گایا مگر کامیابی فوری طور پر ان کے حصے میں نہ آئی۔
.webp)
اسی زمانے میں ان کی بڑی بہن لتا منگیشکر کو فلم مجبور کے ذریعے بڑی کامیابی مل چکی تھی۔ نوجوانی میں آشا بھوسلے نے گنپت راؤ بھوسلے سے محبت کی شادی کی جو ان سے عمر میں کافی بڑے تھے۔ اس شادی کو خاندان نے قبول نہیں کیا اور ان سے تعلقات منقطع کر لیے۔ بعد میں بیٹے ہیمنت کی پیدائش کے بعد تعلقات کچھ حد تک بحال ہوئے مگر ازدواجی زندگی خوشگوار نہ رہی۔
آشا بھوسلے نے مشکلات کے باوجود اپنے کیریئر کو جاری رکھا اور پچاس کی دہائی میں بڑی تعداد میں گیت گائے۔ اس دور میں لتا منگیشکر گیتا دت اور شمشاد بیگم کا طوطی بولتا تھا اس لیے آشا کو اکثر وہ گانے ملتے جو دیگر گلوکارائیں چھوڑ دیتی تھیں۔ اس کے باوجود انہوں نے اپنی جگہ بنائی۔
The voice of millions rests today, Asha Bhosle ji passes away at 92, but her songs will never fade, Om shanti ❤️🙏 pic.twitter.com/3WctnEdzKn
— Prayag (@theprayagtiwari) April 12, 2026
انیس سو چھپن میں فلم سی آئی ڈی نے ان کے کیریئر میں اہم موڑ پیدا کیا جس کی موسیقی او پی نیئر نے ترتیب دی۔ اس کے بعد ان دونوں کی جوڑی نے کئی یادگار گیت دیے۔ انیس سو ستاون میں فلم نیا دور نے انہیں وہ کامیابی دی جس کا وہ طویل عرصے سے انتظار کر رہی تھیں۔
انیس سو چھیاسٹھ میں فلم تیسری منزل نے ان کے فن کو نئی بلندی دی۔ اس فلم کے گیتوں نے نہ صرف آشا بھوسلے بلکہ آر ڈی برمن کو بھی شہرت کی نئی منزلوں تک پہنچایا۔ گیت آ جا آ جا کے لیے انہوں نے بھرپور محنت کی اور مغربی طرز موسیقی کو کامیابی سے اپنایا۔

بعد ازاں آشا بھوسلے اور آر ڈی برمن کے درمیان ایک مضبوط تخلیقی اور ذاتی رشتہ قائم ہوا جس نے بالی وڈ کو کئی لازوال نغمے دیے۔ دم مارو دم اور چرا لیا ہے تم نے جیسے گیت آج بھی مقبول ہیں۔ دونوں نے بعد میں شادی کر لی اور موسیقی کی دنیا میں ایک یادگار جوڑی بن گئے۔
انیس سو پچانوے میں فلم رنگیلا کے ذریعے انہوں نے ایک بار پھر اپنی صلاحیتوں کا لوہا منوایا حالانکہ اس وقت ان کی عمر باسٹھ برس تھی۔ ان کی آواز میں وہی تازگی اور کشش برقرار رہی۔
آشا بھوسلے کو اپنے طویل کیریئر میں متعدد اعزازات سے نوازا گیا جن میں سات فلم فیئر ایوارڈ اور دادا صاحب پھالکے ایوارڈ شامل ہیں۔ انہوں نے سب سے زیادہ گیت گانے کا عالمی ریکارڈ بھی قائم کیا اور موسیقی کی دنیا میں ایک ناقابل فراموش مقام حاصل کیا۔
ابتدائی زندگی اور خاندانی پس منظر
برصغیر پاک و ہند کی عظیم گلوکارہ آشا بھوسلے آٹھ ستمبر انیس سو تینتیس کو شاہی ریاست سانگلی کے گاؤں گور میں پیدا ہوئیں۔ مہاراشٹر کا یہ شہر دریائے کرشنا کے کنارے آباد ہے اور ہلدی کی پیداوار کے باعث مشہور ہے۔ ان کے والد پنڈت دینا ناتھ منگیشکر اپنے عہد کے معروف اداکار اور گلوکار تھے جنہوں نے گوالیار گھرانے سے کلاسیکی موسیقی کی تربیت حاصل کی تھی۔ ان کے دادا گوا کے تاریخی منگیشی مندر سے بطور پنڈت وابستہ تھے جبکہ دادی یسوبائی دیوداسی تھیں جن کے خون میں فن کی خدمت شامل تھی۔ اسی نسبت سے یہ خاندان منگیشکر کہلایا۔
.webp)
بچپن اور جدوجہد کا آغاز
آشا ابھی نو برس کی تھیں کہ والد کا انتقال ہو گیا۔ اس کے بعد فلموں میں گانا ان کے لیے شوق نہیں بلکہ مجبوری بن گیا۔ موسیقی میں اپنا مقام بنانا ان کے لیے آسان نہ تھا۔ انیس سو اڑتالیس میں انہوں نے ہنس راج بہل کی فلم چنریا کے لیے گیت گایا مگر کامیابی کے لیے انہیں کئی برس انتظار کرنا پڑا۔ اسی دوران لتا منگیشکر فلم مجبور کے ذریعے شہرت حاصل کر چکی تھیں۔
ابتدائی شادی اور مشکلات
کم عمری میں آشا بھوسلے نے گنپت راؤ بھوسلے سے محبت کی شادی کی جو ان سے عمر میں بڑے تھے۔ اس شادی کو خاندان نے قبول نہیں کیا اور ان سے تعلقات منقطع کر لیے۔ بعد میں بیٹے ہیمنت کی پیدائش کے بعد کچھ تعلق بحال ہوا مگر ازدواجی زندگی خوشگوار نہ رہی۔ انہوں نے ایک انٹرویو میں بتایا کہ سسرال کا ماحول تنگ نظر تھا اور انہیں بالآخر گھر چھوڑنا پڑا۔ اس کے باوجود انہوں نے اپنے بچوں کے ساتھ زندگی کا مشکل سفر جاری رکھا۔
Tribute to #AshaBhosle pic.twitter.com/2i1lfzou7H
— Aviator Anil Chopra (@Chopsyturvey) April 12, 2026
فنی سفر کی ابتدا اور جدوجہد
پچاس کی دہائی میں آشا بھوسلے نے بڑی تعداد میں گیت گائے۔ اس زمانے میں لتا منگیشکر گیتا دت اور شمشاد بیگم کا راج تھا۔ ایسے میں جو گانے دیگر گلوکارائیں چھوڑ دیتیں وہ آشا قبول کر لیتیں اور یوں انہوں نے کئی دوسرے درجے کی فلموں کے لیے بھی گایا۔ اس دوران انہوں نے بمل رائے کی فلم پرینیتا اور راج کپور کی فلم بوٹ پالش کے لیے بھی گیت گائے۔
کامیابی کا موڑ اور او پی نیّر کے ساتھ اشتراک
انیس سو چھپن میں فلم سی آئی ڈی نے ان کے کیریئر کو نئی سمت دی۔ اس فلم کی موسیقی او پی نیّر نے ترتیب دی تھی۔ اس کے بعد دونوں کے درمیان ایک کامیاب تخلیقی رشتہ قائم ہوا جس نے کئی یادگار گیت تخلیق کیے۔ انیس سو ستاون میں فلم نیا دور نے انہیں وہ شہرت دی جس کا وہ طویل عرصے سے انتظار کر رہی تھیں۔
آر ڈی برمن کے ساتھ تخلیقی اور ذاتی رشتہ
انیس سو چھیاسٹھ میں فلم تیسری منزل نے آشا بھوسلے کے فن کو نئی بلندی دی۔ گیت آ جا آ جا کے لیے انہوں نے سخت محنت کی اور مغربی موسیقی کے انداز کو کامیابی سے اپنایا۔ اس کے بعد آر ڈی برمن کے ساتھ ان کا تخلیقی رشتہ مضبوط ہوا جس نے بالی وڈ کو کئی لازوال گیت دیے جیسے دم مارو دم اور چرا لیا ہے تم نے۔ یہ رشتہ بعد میں محبت میں تبدیل ہوا اور دونوں نے شادی کر لی۔
ازدواجی زندگی اور علیحدگی
آشا بھوسلے کی دوسری شادی پہلی کے مقابلے میں بہتر تھی اور دونوں ایک دوسرے کا احترام کرتے تھے مگر آر ڈی برمن کی عادات اس رشتے میں رکاوٹ بنیں اور بالآخر دونوں الگ ہو گئے۔
فن کی وسعت اور شناخت
اسی کی دہائی میں آشا بھوسلے صف اول کی گلوکاراؤں میں شمار ہونے لگیں مگر انہیں کیبرے اور پاپ گلوکارہ کے طور پر پہچانا جانے لگا۔ انیس سو اکیاسی میں فلم امراؤ جان نے ان کے فن کو نئی پہچان دی اور ان کی گائی ہوئی غزلیں بے حد مقبول ہوئیں۔
Eight decades, 12,000+ songs in 20+ languages across different genres a true singing legend. A versatile queen. Rest in peace, Asha Bhosle ma’am. May your soul rest in peace pic.twitter.com/e44CkdfWa3
— r (@bekhayalime) April 12, 2026
اعزازات اور منفرد مقام
آشا بھوسلے کو اپنے طویل کیریئر میں سات بار بہترین خاتون پلے بیک گلوکارہ کا فلم فیئر ایوارڈ ملا۔ انہیں دادا صاحب پھالکے ایوارڈ سے بھی نوازا گیا۔ موسیقی کی تاریخ میں سب سے زیادہ گیت گانے کا ریکارڈ بھی انہی کے نام ہے۔آشا بھوسلے کی سب سے بڑی خصوصیت ان کی ہمہ گیری ہے۔ انہوں نے بھجن پاپ غزل قوالی لوک اور کلاسیکی ہر طرز کے گیت گائے۔ ان کا فن ہر دور اور ہر عمر کے سامعین کے لیے یکساں طور پر پرکشش ہے اور انہیں موسیقی کی دنیا میں ایک لازوال مقام حاصل ہے۔