لاس اینجلس : لاس اینجلس میں منعقد ہونے والی اس سال کی آسکر تقریب صرف فلمی ایوارڈز تک محدود نہیں رہی بلکہ اس دوران کئی فنکاروں نے غزہ میں امن اور جنگ بندی کے لئے آواز بھی بلند کی۔ ہالی ووڈ کے اس اہم ایوارڈ سیزن کے اختتام پر متعدد اداکاروں اور فلم سازوں نے فلسطینی عوام کے ساتھ یکجہتی کا اظہار کیا-ا توار کو امریکہ کے شہر لاس اینجلس میں منعقد ہونے والی اکیڈمی ایوارڈز کی تقریب میں سیاسی سرگرمی نمایاں رہی۔ فنکاروں اور شرکا نے ریڈ کارپٹ کو غزہ کی صورتحال کے تناظر میں فلسطینی آزادی اور جنگ بندی کے مطالبات اجاگر کرنے کے لیے استعمال کیا۔
At the #Oscars ,
— SARA 𓂆 (@saragaza94) March 11, 2024
Jonathan Glazer speaks out against Israel's weaponization of the Holocaust to commit genocide against the Palestinian people.
"We stand here as men who refute their Jewishness and the Holocaust being hijacked by an occupation." pic.twitter.com/E0IHIvcHTB
خاویر باردم کا جنگ کے خلاف پیغام
تقریب کے دوران ہسپانوی اداکار Javier Bardem نے اسٹیج پر آ کر جنگ کے خلاف آواز اٹھائی۔ انہوں نے بہترین بین الاقوامی فلم کا ایوارڈ پیش کرتے ہوئے کہا کہ جنگ کو نہ کہا جائے اور فلسطین کو آزادی ملنی چاہیے۔ اس موقع پر انہوں نے “نو آ لا گویرا” یعنی جنگ کے خلاف ایک پیچ بھی لگا رکھا تھا۔ یہی نعرہ وہ تقریباً دو دہائی قبل عراق جنگ کے خلاف احتجاج کے دوران بھی استعمال کر چکے تھے
معروف ہالی وڈ اداکار خاویر باردم نے بہترین بین الاقوامی فیچر فلم کا ایوارڈ پیش کرنے سے قبل سٹیج پر کہا کہ جنگ نہیں ہونی چاہیے اور فلسطین کو آزادی ملنی چاہیے۔انہوں نے اپنے لباس پر ایک پیچ بھی لگا رکھا تھا جس پر جنگ کے خلاف نعرہ درج تھا۔ یہی پیغام انہوں نے دو دہائی قبل عراق جنگ کے خلاف احتجاج کے دوران بھی استعمال کیا تھا۔
Priyanka looked so uncomfortable when she heard Free Palestine😭😭 She was a UNICEF ambassador and she was silent for 2 whole damn years during the gaza genocide killing thousands of children . https://t.co/Gir3ojFKgb
— Jenni (@hashjenni) March 16, 2026
فنکاروں کی بڑھتی ہوئی سیاسی آواز
ہالی وڈ کے ایوارڈ سیزن کے اختتام پر سیاسی مبصرین کا کہنا تھا کہ اس مرتبہ اداکاروں اور فنکاروں نے گزشتہ برسوں کے مقابلے میں زیادہ واضح سیاسی موقف اختیار کیا ہے۔
لاطینی حقوق کے لیے کام کرنے والی تنظیم ماریموتو کی ایگزیکٹو ڈائریکٹر جیس مورالیس راکیٹو نے اسے فنکاروں کی سیاسی سرگرمیوں کی واپسی قرار دیا۔
The team behind ‘The Voice of Hind Rajab’ (never heard of it) speaks on their decision to wear pins on the Oscars red carpet calling for a “permanent ceasefire” in Gaza, Iran and for ICE to stop deporting.
— Paul A. Szypula 🇺🇸 (@Bubblebathgirl) March 16, 2026
These celebs have no idea what they’re saying.pic.twitter.com/WjGbexAuMG
مارک رفالو کے بیان کا اثر
مورالیس راکیٹو کے مطابق جنوری میں گولڈن گلوبز کے ریڈ کارپٹ پر اداکار مارک رفالو کے بیان نے ماحول کو تبدیل کر دیا تھا۔ رفالو نے اس موقع پر کہا تھا کہ اگرچہ انہیں یہ تقریبات پسند ہیں مگر دنیا میں جاری حالات کو نظر انداز کرنا مشکل ہے۔انہوں نے آسکرز سے قبل کہا کہ ہم نے ابتدا ہی میں محسوس کر لیا تھا کہ یہ وہ وقت ہے جب لوگوں کو واضح طور پر بتانا چاہیے کہ وہ تاریخ کے اس لمحے میں کہاں کھڑے ہیں۔
آرٹسٹس فار سیز فائر بیج کی نمائندگی
اس سال آسکر کے ریڈ کارپٹ پر کچھ فنکاروں نے احتجاجی پیغامات والے بیجز اور پنز بھی پہنے۔ کئی شرکاء نے سرخ رنگ کا “آرٹسٹس فار سیزفائر” پن لگایا جس کا مقصد غزہ میں جنگ بندی کی حمایت کرنا تھا۔ یہ پن اس ڈاکو ڈرامہ فلم کے نمائندوں نے بھی پہنا تھا جس کا عنوان “دی وائس آف ہند رجب” ہے۔ یہ فلم غزہ میں ایک فلسطینی بچی کی کہانی پر مبنی ہے جس کی جان بچانے کی کوششوں کو دکھایا گیا ہے۔
فلم کی اداکارہ Saja Kilani نے ریڈ کارپٹ پر گفتگو کرتے ہوئے کہا کہ ہماری جدوجہد ایک دوسرے سے جڑی ہوئی ہے اور آزادی کی امید بھی مشترک ہے۔ انہوں نے کہا کہ اس تقریب میں شرکت ہمارے لئے اعزاز کی بات ہے
Happening tonight right in the heart of Hollywood:
— sarah (@sahouraxo) March 3, 2025
“We call on the world to take serious actions to stop the injustice and to stop the ethnic cleansing of the Palestinian people.”
—Palestinian journalist and director Basel Adra #Oscars pic.twitter.com/HEsDk3VFpb
غزہ کی صورتحال پر تشویش
غزہ کی وزارت صحت کے مطابق اکتوبر میں امریکہ کی ثالثی میں ہونے والی جنگ بندی کے بعد بھی اسرائیلی حملوں میں سینکڑوں فلسطینی ہلاک ہو چکے ہیں۔
فلم کی ایک اداکارہ سجا کیلانی نے ریڈ کارپٹ پر گفتگو کرتے ہوئے کہا کہ ہماری جدوجہد اور آزادی ایک دوسرے سے جڑی ہوئی ہے اور آج یہاں موجود ہونا ہمارے لیے اعزاز کی بات ہے۔
تقریب کا مجموعی ماحول
اتوار کی تقریب کا ماحول گزشتہ برسوں کے مقابلے میں زیادہ سیاسی محسوس ہوا اگرچہ ایران جنگ اور دیگر عالمی تنازعات کا براہ راست ذکر نہیں کیا گیا۔
آسکر ایوارڈ حاصل کرنے والی فلم ون بیٹل آفٹر انادر کے ہدایتکار پال تھامس اینڈرسن نے کہا کہ انہوں نے یہ سیاسی ڈرامہ اپنے بچوں کے لیے لکھا کیونکہ انہیں محسوس ہوتا ہے کہ ہم نے دنیا میں جو انتشار چھوڑا ہے اس پر ہمیں معذرت کرنی چاہیے۔
میزبان کونن اوبرائن کے تبصرے
آسکرز کے میزبان کونن اوبرائن نے تقریب کے دوران امریکی صحت کے نظام اور گلوکار کڈ راک پر طنزیہ جملے بھی کہے اور قدامت پسند تنظیم ٹرننگ پوائنٹ یو ایس اے کے متبادل سپر باؤل ہاف ٹائم شو کا حوالہ دیا۔
تاہم ایک موقع پر انہوں نے سنجیدگی سے کہا کہ ایسے ادوار میں آسکرز کی اہمیت مزید بڑھ جاتی ہے جب دنیا مختلف بحرانوں سے گزر رہی ہو۔
انہوں نے کہا کہ آج رات ہم صرف فلم کا نہیں بلکہ عالمی فنکارانہ تعاون صبر ثابت قدمی اور امید جیسی اقدار کا بھی اعتراف کر رہے ہیں۔