آمنہ فاروق ۔ نئی دہلی
ہندوستانی ٹیلی ویزن ورلڈ کے مقبول ریلئٹی شو بگ باس کو یوں تو گورو کھنہ نے جیتا لیکن کشمیر کی فرحانہ بھٹ نے خطاب سے ایک قدم دور رہنے کے باوجود ہندوستانیوں کے دل جیت لیے ۔ایک بے باک دوشیزہ فرحانہ بھٹ بگ باس 19 کی پہلی رنر اپ رہیں ،آج لاکھوں دلوں میں اپنی جگہ بنا چکی ہیں۔ اول تو فرحانہ ان نوجوان خواتین میں سے ایک ہیں جنہوں نے کم وسائل، محدود مواقع اور چیلنجوں سے بھری زندگی کے باوجود خود کو اس مقام تک پہنچایا،جبکہ بگ باس میں پر تناو دم دار بنائے رکھا اور نفسیاتی اتار چڑھاو کی جنگ میں خود کو آخر تک
یقینا جب سلمان خان گورو کے ساتھ فرحانہ کا ہاتھ پکڑے کھڑے تھے ،اور فاتح کا اعلان کرنے سے قبل مزید بے چینی پیدا کررہے تھے اس وقت بھی فرحانہ پر اعتماد نظر آئیں۔جبکہ فاتح کی دوڑ میں ایک قدم پیچھے رہ جانے کے با وجود انہوں نے مسکراتے ہوئے کہا کہ میں نے خطاب نہیں دل جیتے ۔جو ان کے لیے بہت اطمینان بخش ہے ۔دلی سکون کا سبب بنا ہے ۔
۔15 مارچ 1997 کو سری نگر، جموں و کشمیر میں پیدا ہونے والی فرحانہ نے کم عمری سے ہی زندگی کی مشکلات کا سامنا کیا۔ ان کا تعلق ایک روایت پسند کشمیری مسلم خاندان سے تھا، جہاں لڑکیوں کے لیے اداکاری کے شعبے میں قدم رکھنا عام طور پر اچھا نہیں سمجھا جاتا۔ تاہم فرحانہ کی والدہ اور دادا نے ان کے خوابوں کو پروان چڑھایا اور ان کی حوصلہ افزائی کی، جس کی بدولت انہوں نے اپنی پہچان بنانے کا سفر شروع کیا۔
فرحانہ نے اپنی تعلیم سرکاری کالج ، سری نگر سے بی اے (ماس کمیونیکیشن اور جرنلزم) مکمل کی۔ ان کی تعلیم نے ان کے فکر اور سوچ کو وسیع کیا اور انہیں میڈیا اور پبلک اسپیکنگ میں مہارت دلائی۔ مگر اداکاری کا شوق انہیں مسلسل اپنی جانب کھینچتا رہا۔ اس لیے انہوں نے ممبئی کے معروف اداکاری اسکول ایکٹر پریپیرس میں داخلہ لیا، جہاں انہوں نے تھیٹر ورکشاپس اور اداکاری کی تربیت حاصل کی۔ یہ تربیت ان کے لیے سنگِ میل ثابت ہوئی، جو بعد میں فلم و ٹی وی کی دنیا میں ان کے قدم جمانے کا ذریعہ بنی۔
۔2016 میں انہوں نے فلم سنشائن میوزک ٹور اینڈ ٹریولز سے بالی وڈ میں اپنا ڈیبیو کیا، اور 2018 میں ہدایت کار امتياز علی کی فلم لیلیٰ مجنوں میں کام کر کے مقبولیت حاصل کی۔ ان کی اداکاری، قدرتی انداز اور خود اعتمادی نے لوگوں کے دل جیت لیے اور وہ تیزی سے ابھرتی ہوئی اداکارہ بن گئیں۔
فرحانہ بھٹ کا عزم، محنت اور جیت کا سفر
فرحانہ صرف ایک اداکارہ نہیں ہیں، بلکہ ان کی شخصیت بہت متنوع ہے۔ وہ ماڈل بھی ہیں، مارشل آرٹس کی ماہر بھی ہیں اور پانچ بار قومی سطح کی تائیکوانڈو چیمپئن رہ چکی ہیں۔ یہ مہارتیں ان کی مضبوط شخصیت اور خود اعتمادی کی بنیاد ہیں، جو انہیں دیگر اداکاراؤں سے ممتاز کرتی ہیں۔ ساتھ ہی، وہ سماجی مسائل پر بھی متحرک ہیں اور نوجوان کشمیریوں کی آواز بن کر امن و ہم آہنگی کی سرگرمیوں میں حصہ لیتی ہیں۔
ان کی مقبولیت کا نیا سنگِ میل 2025 میں آیا جب انہوں نے بگ باس 19 میں حصہ لیا۔ اس ریئلٹی شو میں ان کا بے باک انداز اور سچ بولنے کی عادت نے انہیں فوری شہرت دلائی۔ اگرچہ وہ پہلے ہفتے میں ایلیمنیٹ ہو گئیں، مگر "سیکریٹ روم" کے ٹویسٹ کے ذریعے واپس آئیں اور اپنے بے باک انداز سے گھر کے ماحول کو ہلا کر رکھ دیا۔ ان کی پرفارمنس نے انہیں شو کی سب سے دلچسپ کنٹیسٹینٹ میں شامل کیا۔
فرحانہ نے اپنے جذبات، مشکلات اور تعلقات کو کھلے دل سے شو میں پیش کیا، جس کی وجہ سے وہ نہ صرف دیکھنے والوں کے دل جیتنے میں کامیاب ہوئیں بلکہ سوشل میڈیا پر بھی لاکھوں فالوورز حاصل کیے۔ آخر کار، 7 دسمبر 2025 کو بگ باس 19 کے گرینڈ فائنل میں، فرحانہ نے فرسٹ رنر اپ کا اعزاز حاصل کیا۔ گورو کھنّا کو ٹرافی ملی، مگر فرحانہ نے سب کا دل جیت لیا۔
فرحانہ کے سفر میں چیلنجز کم نہیں تھے۔ کشمیر میں ایک قدامت پسند خاندان سے تعلق رکھنے کے باعث اداکاری میں قدم رکھنا اور میڈیا کی دنیا میں پہچان بنانا آسان نہیں تھا۔ انہوں نے سماجی دباؤ، منفی رائے کا سامنا کیا، مگر ہمت نہیں ہاری۔ ان کا عزم اور مستقل مزاجی آخرکار رنگ لائی اور انہیں وہ مقام ملا جو بہت کم لوگوں کو نصیب ہوتا ہے۔
ان کی کہانی یہ ثابت کرتی ہے کہ محنت، لگن اور حوصلہ کسی بھی مشکل وقت میں انسان کو کامیابی کے راستے پر لے جا سکتا ہے۔ بگ باس 19 نے انہیں شہرت دی، مگر اصل پہچان ان کی محنت، ایمانداری اور مثبت سوچ نے بنائی۔ فرحانہ کی کہانی نہ صرف نوجوان لڑکیوں کے لیے ایک حوصلہ افزا مثال ہے بلکہ یہ بتاتی ہے کہ اگر انسان میں جرات، محنت اور مستقل مزاجی ہو تو کوئی بھی منزل ناممکن نہیں۔۔۔