آمنہ فاروق : نئی دہلی
فلمی دنیا میں کامیابی اکثر اُن لوگوں کے قدم چومتی ہے جو خواب دیکھنے کی ہمت رکھتے ہیں۔ مگر کچھ کہانیاں ایسی ہوتی ہیں جو صرف خواب نہیں ہوتیں، بلکہ جدوجہد، درد اور حوصلے کی مثال بن جاتی ہیں۔ فلمی دنیا کی چمک دمک کے پیچھے اکثر برسوں کی محنت اور ان گنت قربانیاں چھپی ہوتی ہیں۔ اور جب کوئی شخص بغیر کسی فلمی پس منظر کے اس دنیا میں قدم رکھ کر اپنی پہچان بنا لیتا ہے، تو اس کی کہانی اور بھی خاص ہو جاتی ہے۔
ہدایتکار آدتیہ دھر کی فلم ’دھورندھر 2‘ باکس آفس پر زبردست کامیابی حاصل کر رہی ہے۔ فلم میں رنویر سنگھ نے مرکزی کردار ادا کیا ہے، لیکن اس بار صرف ہیرو ہی نہیں، بلکہ سپورٹنگ کردار بھی برابر کی توجہ حاصل کر رہے ہیں۔ انہی میں ایک نام ہےمصطفیٰ احمد۔ جنہوں نے ایک فٹنس کوچ سے اداکار بننے تک کا حیران کن سفر طے کیا، اور اب فلم ’دھورندھر 2‘ میں اپنی اداکاری سے سب کو متاثر کر رہے ہیں۔
مصطفیٰ احمد: ایک کوچ سے اداکار تک کا سفر
فلم میں مصطفیٰ احمد نے خفیہ ایجنٹ "رضوان" کا کردار ادا کیا ہے، جو رنویر سنگھ کے کردار حمزہ کے ساتھ ایک اہم مشن میں نظر آتے ہیں۔ ان کی اداکاری نے ناظرین کے دل جیت لیے ہیں، لیکن ان کی اصل کہانی اس سے کہیں زیادہ متاثر کن ہے۔ مصطفیٰ روایتی طور پر اداکار نہیں تھے۔ فلمی دنیا میں آنے سے پہلے وہ ایک کوچ تھے، جنہوں نے رنویر سنگھ، وِکی کوشل اور یامی گوتم جیسے بڑے ستاروں کو ٹرین کیا۔
مشکلات بھرا بچپن اور زندگی کا موڑ
افغان نژاد مصطفیٰ احمد کا بچپن آسان نہیں تھا۔ وہ ڈِسلیکسیا جیسے مسئلے کا شکار تھے، جس کی وجہ سے انہیں پڑھنے لکھنے میں دشواری ہوتی تھی۔ اسکول میں کمزوری کے باعث انہوں نے تعلیم ادھوری چھوڑ دی۔ لیکن اُن کی جسمانی صلاحیتیں غیر معمولی تھیں ۔ وہ کھیل اور ڈانس میں ہمیشہ آگے رہے۔
۔21 سال کی عمر میں انہوں نے ایک کال سینٹر میں کام شروع کیا اور جلد ہی سب سے کم عمر ٹیم لیڈر بن گئے۔ اچھی آمدنی ہونے کے باوجود ان کی زندگی کا اصل موڑ اس وقت آیا جب انہوں نے جم میں ایک خاتون کی مدد کی۔ اس خاتون نے ایک میسیج لکھ کر بتایا کہ جم کی وجہ سے اُس کی زندگی میں خوشیاں واپس آ گئی ہیں۔ یہی لمحہ مصطفیٰ کے لیے آنکھیں کھولنے والا ثابت ہوا۔ انہوں نے فیصلہ کیا کہ فٹنس ہی ان کا اصل مقصد ہے۔
خاندان کی مخالفت اور جدوجہد
مصطفیٰ نے اپنی نوکری چھوڑ دی، لیکن اس فیصلے پر ان کے خاندان نے سخت مخالفت کی۔ یہاں تک کہ ان کی والدہ نے بھی ان سے بات کرنا بند کر دی۔ مگر انہوں نے ہمت نہیں ہاری۔ انہوں نے دہلی کے جنک پوری میں ایک جم میں صرف 10,000 روپے ماہانہ تنخواہ پر کام شروع کیا۔ وہ روز صبح 4 بجے اٹھ کر جم کھولتے اور دن بھر محنت کرتے۔ ایک وقت ایسا بھی آیا جب وہ مہینے میں 400 گھنٹے کام کرتے اور روزانہ 14 سیشن دیتے تھے۔
ایشیا کے نمبر 1 ٹرینر تک کا سفر
اپنی لگن اور محنت کے دم پر مصطفیٰ جلد ہی ایشیا کے نمبر 1 ٹرینر بن گئے۔ ان کے پہلے سیلیبریٹی کلائنٹ ہرتیک روشن تھے، جس کے بعد انہوں نے کبھی پیچھے مڑ کر نہیں دیکھا۔انہوں نے فلم ’پدماوت‘ کے لیے رنویر سنگھ کو ٹرین کیا، ’سردار اُدھم‘ کے لیے وِکی کوشل کو، اور ’آرٹیکل 370‘ کے دوران یامی گوتم کے ساتھ بھی کام کیا۔ وہ ہرتیک روشن کے فزیوتھیراپسٹ بھی رہے۔
اداکاری میں قدم اور نئی پہچان
مآدتیہ دھر کے ساتھ قریبی تعلقات کے باعث مصطفیٰ کو فلموں میں موقع ملا۔ انہوں نے 2025 میں فلم ’دھوم دھام‘ سے اپنے اداکاری کیریئر کا آغاز کیا، جس میں یامی گوتم بھی شامل تھیں۔اس کے بعد وہ ’دھورندھر‘ میں نظر آئے، اور اب ’دھورندھر 2‘ میں ایک بڑے اور مؤثر کردار کے ساتھ واپس آئے ہیں۔
مصطفیٰ احمد کی کہانی ہمیں یہ سکھاتی ہے کہ کامیابی کا راستہ کبھی سیدھا نہیں ہوتا۔ مشکلات، ناکامیاں اور مخالفتیں ضرور آتی ہیں، مگر اگر انسان اپنے خواب پر یقین رکھے، تو وہ ناممکن کو بھی ممکن بنا سکتا ہے۔ یہ صرف ایک اداکار کی کہانی نہیں، بلکہ ہر اُس شخص کے لیے ایک پیغام ہے جو اپنی زندگی بدلنے کا خواب دیکھتا ہے۔