جامعہ ملیہ- ’ایویڈینس بیسڈ وولیوم آن رورل انفرااسٹرکچر اینڈ وکست بھارت وژن‘ کے موضوع پر کتاب کا اجرا

Story by  ATV | Posted by  [email protected] | Date 17-12-2025
جامعہ ملیہ- ’ایویڈینس بیسڈ وولیوم آن رورل انفرااسٹرکچر اینڈ وکست بھارت وژن‘ کے موضوع پر کتاب کا اجرا
جامعہ ملیہ- ’ایویڈینس بیسڈ وولیوم آن رورل انفرااسٹرکچر اینڈ وکست بھارت وژن‘ کے موضوع پر کتاب کا اجرا

 



نئی دہلی :جامعہ ملیہ اسلامیہ نے’رورل انفرااسٹرکچر اینڈ سوشیو اکونومک گروتھ ان وکست بھارت۔پرسپیکٹیو آف نارتھ ایسٹ انڈیا‘ کے عنوان سے تحقیق سے مزین نئی عالمانہ کتاب کے اجرا کا اعلان کیا۔اسے پروفیسر دیبارشی مکھرجی شعبہ کامرس جامعہ ملیہ اسلامیہ اور ڈاکٹر راجیش چٹرجی تریپورہ یونیورسٹی نے تصنیف کیا ہے۔وائس چانسلر پروفیسر مظہر آصف کے دست مبارک سے اس کا اجرا عمل میں آیا اور مذکورہ کتاب میں وائس چانسلر کا تحریر کردہ پیش لفظ بھی شامل ہے جو ہندوستان کی ترقیاتی بحث کی معنویت کو اجاگر کرتا ہے۔

بنیادی طور پر سینس دوہزار گیارہ اور این ایس ایس او کے چھیاسٹھویں مرحلے کے ڈاٹا پر مشتمل گزشتہ مطالعات کی تحدیدات کو دور کرتے ہوئے یہ تحقیق شمال مشرق ہندوستان کی سماجی و معاشی ترقی کو متاثر کرنے والے دیہی ڈھانچے کے سلسلے میں شواہد پر مبنی تجزیہ اور اہم بنیادی معلومات فراہم کرتی ہے۔مصنفین نے موجودہ ادب اور چار کلیدی موضوعات پر توجہ کے سلسلے میں حائل گیپ کو نشان زد کیا ہے۔پہلا کلیدی موضوع جس پر مصنفین نے توجہ مرکوز کی وہ ہے دیہی ڈھانچے کا سائنسی جائزہ جس میں انہوں نے میکرو لیول کی وضاحتوں سے اوپر اٹھ کر متعلقہ عنوان پر غور و خوض کیا ہے۔دوسرے موضوع کے تحت انہوں نے بنیادی ڈھانچے پر زور دیا ہے کہ یہ صرف ایک مادی چیز نہیں بلکہ معیار زندگی میں بہتری کے لیے تعلیم صحت پانی صفائی تغذیہ اور دیہی خدمات کو محیط سماجی و معاشی ترقی و بہبود کے لیے ایک آئینہ ہے۔بحث کا تیسرا کلیدی موضوع یہ ہے کہ یہ تحقیقی مطالعہ ارتقا پذیر سرکاری پالیسیوں اور بنیادی ڈھانچے کی تقسیم کے اندر رہتے ہوئے اس کے نتائج کے ساتھ تناظر فراہم کرتا ہے جس سے علاقائی منصوبہ بندی کے سلسلے میں بامعنی بصیرت حاصل ہوتی ہے۔اس کا چوتھا اہم موضوع یہ ہے کہ اس میں فیلڈ انٹرویو شماریاتی تجزیے اور علاقائی تقابل کی شمولیت کے ساتھ اختراعی طریقہ کار بروئے کار لایا گیا ہے جس سے مستقبل کی تحقیق کے لیے نئے معیارات کا تعین ہو سکے گا۔

کتاب میں اہم زمینی حقائق کو دستاویزی صورت دی گئی ہے اور بتایا گیا ہے کہ یقینی بائی بیک میکانزم اور بنیادی ڈھانچے کے سپورٹ کے فقدان کی وجہ سے کمزور تعلیمی سطحیں کس طرح دیہی برادریوں کے لیے مالی امداد تک رسائی میں رخنہ بنتی ہیں حالاں کہ اس کے لیے اسکیمیں اور قرض کی سہولیات دستیاب ہیں۔یہ تحقیق اسے بھی اجاگر کرتی ہے کہ کم از کم ترقی یافتہ پنچایت ایل ڈی پیز خراب بنیادی ڈھانچہ اور نقل و حمل کا ناقص انتظام خاص طور پر غروب آفتاب کے بعد جسمانی اور نفسیاتی علاحدگی کا سبب بنتے ہیں اور علاقے کے مکینوں کو بینکنگ اور انتظامی خدمات کے لیے مقامی حکومت پر انحصار کرنا پڑتا ہے۔پالیسی سازوں ترقی و بہبود کے کام سے وابستہ افراد اور علاقے کے لیے مناسب و سازگار طریقے تیار کرنے والے مالیاتی اداروں کے لیے تحقیق سے حاصل شدہ بصیرتیں رہنمائی کا فریضہ انجام دیں گی۔

اجرا کی تقریب میں پروفیسر مظہر آصف نے مصنفین کی اہم خدمات کی تعریف کی اور ہندوستان کی وکست بھارت پہل کے لیے شمال مشرق میں دیہی بنیادی ڈھانچے کی اہمیت پر زور دیا۔انہوں نے کہا کہ حساس اور اہم علاقوں میں علاقائی ترقی عدل اور سماجی انصاف کے سلسلے میں از سر نو غور و خوض کرنے کے لیے کتاب سرگرم تجزیاتی فریم ورک اور قابل عمل شواہد پیش کرتی ہے۔

اسکالروں پالیسی سازوں ترقیاتی ایجنسیوں نیز دیہی ترقیات بنیادی ڈھانچے اور شمال مشرق مطالعات میں دلچسپی رکھنے والے طلبہ کے لیے جلد ’رورل انفرااسٹرکچر اینڈ سوشیو اکونومک گروتھ ان وکست بھارت۔پرسپیکٹیو آف نارتھ ایسٹ انڈیا‘ کافی اہمیت کی حامل ہوگی۔