جنگ آزادی سے اردو کا گہرا تعلق: یومِ آزادی پر اردو یونیورسٹی میں پروفیسر عین الحسن کا خطاب

Story by  ATV | Posted by  [email protected] | Date 15-08-2026
جنگ آزادی سے اردو کا گہرا تعلق: یومِ آزادی پر اردو یونیورسٹی میں پروفیسر عین الحسن کا خطاب
جنگ آزادی سے اردو کا گہرا تعلق: یومِ آزادی پر اردو یونیورسٹی میں پروفیسر عین الحسن کا خطاب

 



 حیدرآباد: مولانا آزاد نیشنل اردو یونیورسٹی کے وائس چانسلر پروفیسر سید عین الحسن نے کہا ہے کہ جنگ آزادی اور اردو کا گہرا تعلق ہے۔ اردو زبان نے ”سرفروشی کی تمنا“ اور ”انقلاب“ جیسے ولولہ انگیز نعرے دیے جبکہ اردو صحافی مولوی محمد باقر نے آزادی کی جدوجہد میں اپنی جان قربان کرکے تاریخ میں پہلے شہید صحافی کی حیثیت سے اپنا نام درج کرایا۔

پروفیسر سید عین الحسن نے یہ بات 80ویں یومِ آزادی کے موقع پر مولانا آزاد نیشنل اردو یونیورسٹی میں منعقدہ پرچم کشائی کی تقریب کے بعد حاضرین سے خطاب کرتے ہوئے کہی۔ انہوں نے کہا کہ طلبہ کو آزادی کی اہمیت کو ہمیشہ پیش نظر رکھنا چاہیے اور اس کے تحفظ کے لیے ہر وقت مستعد رہنا چاہیے۔

وائس چانسلر نے کہا کہ کسی بھی جامعہ کی ترقی میں صرف اساتذہ ہی کا نہیں بلکہ طلبہ اور غیر تدریسی عملے کا بھی اہم کردار ہوتا ہے۔ جب ہر فرد اپنی ذمہ داریاں پوری دیانت داری سے انجام دیتا ہے تو ترقی کا سفر آسان ہوجاتا ہے اور منزل کا حصول بھی ممکن ہوتا ہے۔

ڈاکٹر معراج احمد کلچرل کوآرڈینیٹر اور پروفیسر مظفر حسین خان کی نگرانی میں یونیورسٹی کے ثقافتی کلب کے طلبہ نے قومی ترانہ اور حب الوطنی پر مبنی نغمے پیش کیے۔ اس موقع پر رجسٹرار پروفیسر اشتیاق احمد اور پراکٹر پروفیسر ایم اے عظیم بھی وائس چانسلر کے ہمراہ موجود تھے۔

لیفٹیننٹ ڈاکٹر محمد عبدالمجیب ایسوسی ایٹ این سی سی افسر کی نگرانی میں ون تلنگانہ آرٹی بیٹری این سی سی مانو سب یونٹ کے کیڈٹس نے گارڈ آف آنر پیش کیا۔ تقریب کے دوران یونیورسٹی کے این سی سی کیڈٹس میں بی اور سی سرٹیفکیٹس بھی تقسیم کیے گئے۔

پرچم کشائی کی تقریب کی کارروائی ڈاکٹر محمد مصطفیٰ علی سروری افسر تعلقات عامہ نے انجام دی۔ ڈاکٹر محمد یوسف خان کی زیر نگرانی کمیٹی نے این سی سی کیڈٹس کے ناموں کا اعلان کیا۔ ڈائریکٹر رضوان احمد کی نگرانی میں آئی ایم سی کی ٹیم نے پروگرام کو یوٹیوب اور سماجی ذرائع ابلاغ پر براہ راست نشر کیا۔