پروفیسر سیدہ آمنہ ناز نے ہمدرد میڈیکل کالج، دہلی سے بی یو ایم ایس کی ڈگری حاصل کی، جہاں انہوں نے دوسری پوزیشن حاصل کی۔ بعد ازاں انہوں نے این ٹی آر یونیورسٹی آف ہیلتھ سائنسز، حیدرآباد کے گورنمنٹ نظامیہ طبی کالج سے امراضِ نسواں و قبالت میں ایم ڈی کی ڈگری حاصل کی۔
وہ جولائی 2000 سے پوسٹ گریجویٹ سطح پر تدریسی خدمات انجام دے رہی ہیں۔ اب تک وہ 7 پوسٹ گریجویٹ اسکالرز کی نگران اور 11 دیگر اسکالرز کی شریک نگران رہ چکی ہیں۔
پروفیسر ناز نے 2004 میں اجمل خاں طبی کالج، اے ایم یو میں امراضِ نسواں و قبالت کی کنسلٹنٹ کی حیثیت سے خدمات کا آغاز کیا۔ وہ شعبۂ نسواں و قبالت کی چیئرپرسن کے طور پر بھی خدمات انجام دے چکی ہیں۔
خواتین کی صحت، تولیدی امراض، ماہواری اور سنِ یاس سے متعلق مسائل اور یونانی طریقۂ علاج کے شعبوں میں ان کی نمایاں تحقیقی خدمات ہیں۔ ان کی تحقیق میں قبل از سنِ یاس کثرتِ حیض، بانجھ پن، عنقِ رحم کے امراض، متعدد کیسیاتی بیضہ دانی، سنِ یاس کے دوران صحت اور دیگر امراضِ نسواں جیسے موضوعات شامل ہیں۔
انہیں "سنِ یاس سے متعلق عوارض کے علاج کے لیے نباتاتی مرکب" کے عنوان سے بھارتی پیٹنٹ بھی حاصل ہے، جو 2007 میں منظور ہوا تھا۔
پروفیسر ناز کے 60 سے زائد تحقیقی مقالات قومی و بین الاقوامی جرائد میں شائع ہوچکے ہیں۔ انہوں نے متعدد قومی و بین الاقوامی کانفرنسوں، سیمیناروں، ورکشاپس اور تربیتی پروگراموں میں بھی شرکت کی اور خطاب کیا۔ ان کی کتاب "The Natural Menopause" 2009 میں اے ایم یو پریس، علی گڑھ سے شائع ہوئی۔
وہ اے ایم یو کورٹ، اکیڈمک کونسل، فیکلٹی کمیٹی اور فیکلٹی آف یونانی میڈیسن کے بورڈ آف اسٹڈیز سمیت مختلف اہم تعلیمی اداروں میں خدمات انجام دے چکی ہیں۔ وہ یو پی ایس سی کی پالیسی کمیٹی کی رکن بھی رہ چکی ہیں اور یونانی طب سے متعلق مختلف پیشہ ورانہ و تحقیقی تنظیموں سے وابستہ رہی ہیں۔