نئی دہلی : اسی خیال کے ساتھ پریم چند آرکائیوز اینڈ لٹریری سینٹر نے نواں منشی پریم چند یادگاری خطبہ منعقد کیا۔ یہ پروگرام جامعہ ملیہ اسلامیہ میں 10 فروری 2026 کو منعقد ہوا جس میں علمی اور ادبی حلقوں کی نمایاں شخصیات شریک ہوئیں۔
خطبہ پیش کرنے کی ذمہ داری ممتاز ادیب اور نقاد پروفیسر صغیر افراہیم نے ادا کی جو سابق صدر شعبہ اردو علی گڑھ مسلم یونیورسٹی رہ چکے ہیں۔ تقریب کی صدارت شیخ الجامعہ پروفیسر مظہر آصف نے کی۔
اپنی صدارتی گفتگو میں پروفیسر مظہر آصف نے کہا کہ پریم چند کا فکشن اساتذہ طلبہ اور محققین کے لیے مشعل راہ ہے۔ انہوں نے واضح کیا کہ پریم چند اور کبیر دونوں ہندوستانی ادب کا گراں قدر ورثہ ہیں اور ان کی تحریریں آج کے دور میں بھی فکری رہنمائی فراہم کرتی ہیں۔ انہوں نے آرکائیوز کو ہر ممکن ادارہ جاتی تعاون کا یقین بھی دلایا۔
پروفیسر صغیر افراہیم نے اپنے خطبے میں پریم چند کو ایک نقیب کے طور پر پیش کیا۔ ان کے مطابق پریم چند نے ہندوستان کی دیہی زندگی کے پیچیدہ حقائق کو اپنی تخلیقات میں اس طرح سمویا کہ اردو اور ہندی ادب میں ایک نئی جہت پیدا ہوگئی۔ انہوں نے کہا کہ پریم چند کے کردار غربت نوآبادیاتی دباؤ اور سماجی ناانصافی کے باوجود اپنی انسانیت کو قائم رکھتے ہیں اور یہی ان کی تخلیقات کی اصل قوت ہے۔
انہوں نے اپنے تحقیقی کاموں پریم چند ایک نقیب 1987 اور پریم چند کی تخلیقات کا معروضی مطالعہ 2017 کے حوالے سے بتایا کہ پریم چند کے فکشن میں حقیقت پسندی اور سماجی ہمدردی گہری وابستگی کے ساتھ موجود ہے۔ انہوں نے گؤدان کا ذکر کرتے ہوئے کہا کہ اس ناول میں کسانوں کی جدوجہد ذات پات کے نظام اور جاگیردارانہ ڈھانچے کے خلاف ایک تاریخی شعور کی عکاسی کرتی ہے۔
تقریب میں فیکلٹی آف ہیومنی ٹیز اینڈ لنگویجیز کے ڈین پروفیسر اقتدار محمد خان نے جامعہ اور پریم چند کے قریبی تعلق کا ذکر کیا۔ شعبہ اردو کے صدر پروفیسر کوثر مظہری نے تجویز پیش کی کہ آرکائیوز میں پریم چند سے متعلق مختلف زبانوں کی تمام کتابوں کا جامع ذخیرہ ہونا چاہیے تاکہ محققین کو ایک ہی جگہ مکمل مواد دستیاب ہو سکے۔ شعبہ ہندی کے صدر پروفیسر نیرج کمار نے بھی پریم چند کی اردو اور ہندی خدمات کو سراہا۔
پروگرام کا افتتاح آرکائیوز کے ڈائریکٹر پروفیسر شہزاد انجم نے کیا۔ انہوں نے شیخ الجامعہ کی سرپرستی اور تعاون پر شکریہ ادا کیا اور کہا کہ ایسے علمی پروگرام مثبت مکالمے کو فروغ دیتے ہیں۔ اس موقع پر ڈاکٹر مشتاق احمد گنائی کی موجودگی کا بھی ذکر کیا گیا جو کشمیر یونیورسٹی سے وابستہ ہیں۔
یادگاری خطبے کی کنوینر محترمہ شردھا شنکر نے مرکزی خیال کا تعارف پیش کیا جبکہ آرکائیوسٹ سنگھدا رائے نے آخر میں شکریہ ادا کیا۔ پریم چند آرکائیوز اینڈ لٹریری سینٹر کے مین ہال میں منعقد اس تقریب میں طلبہ اساتذہ اور ریسرچ اسکالروں کی بڑی تعداد نے شرکت کی اور علمی مباحثے سے استفادہ کیا۔