رشدہ شاہین، صحافی
نیو دہلی؛ حیدرآباد میں واقع مولانا آزاد نیشنل اردو یونیورسٹی کا شعبۂ ترسیلِ عامہ و صحافت جدید صحافت کا ایک ایسا تعلیمی مرکز ہے جہاں صحافت کو محض ایک مضمون کے طور پر نہیں بلکہ ایک عملی پیشے کے طور پر سکھایا جا رہا ہے۔ اسی شعبے میں اس وقت بی اے (جرنلزم اینڈ ماس کمیونیکیشن) آنرز/ریسرچ پروگرام کے لیے داخلے جاری ہیں۔ اس پروگرام میں داخلہ نیشنل ٹیسٹنگ ایجنسی کے ذریعے منعقدہ سی یو ای ٹی امتحان کے ذریعہ ہوگا، جب کہ درخواست جمع کرانے کی آخری تاریخ 30 جنوری 2026 مقرر کی گئی ہے۔
یہ کورس خاص طور پر اُن طلبہ کے لیے اہم سمجھا جا رہا ہے جو اردو میڈیم سے تعلق رکھتے ہیں یا جنہوں نے اردو کو بطور مضمون پڑھا ہے۔ ان میں ایک بڑی تعداد ایسے طلبہ کی بھی ہے جو مدرسوں سے اپنی ابتدائی تعلیم مکمل کر کے عصری صحافت کے میدان میں قدم رکھنا چاہتے ہیں۔ شعبے کا تجربہ بتاتا ہے کہ مدرسہ پس منظر رکھنے والے طلبہ یہاں داخلہ لے کر نہ صرف نئے تعلیمی ماحول سے ہم آہنگ ہو جاتے ہیں بلکہ زبان، مطالعہ اور مشاہدے کی اپنی مضبوط بنیاد کے باعث میڈیا میں بہتر کارکردگی بھی دکھاتے ہیں۔
شعبے کے سربراہ پروفیسر احتشام احمد خان کے مطابق اردو ذریعۂ تعلیم ہونے کے باوجود یہاں کے طلبہ کا تقرری ریکارڈ تسلی بخش رہا ہے۔ ان کے مطابق تقریباً اسی فیصد طلبہ نے تعلیم مکمل کرنے کے بعد روزگار حاصل کیا ہے۔ یہ تقرریاں اردو اخبارات یا اردو میڈیا تک محدود نہیں رہیں بلکہ قومی دھارے کے اخبارات، ٹیلی ویژن چینلز، ایف ایم ریڈیو، ویب نیوز پورٹلز، ڈیجیٹل میڈیا پلیٹ فارمز اور دیگر ابلاغی و غیر ابلاغی اداروں تک پھیلی ہوئی ہیں۔ طلبہ کی رہنمائی بھی کی جاتی ہے تاکہ وہ مختلف فیلوشپس اور تربیتی مواقع سے فائدہ اٹھا سکیں۔
شعبے میں دی جانے والی تربیت کا ایک نمایاں پہلو اس کا عملی رخ ہے۔ یہاں طلبہ کو کلاس روم کے ساتھ ساتھ نیوز روم اور اسٹوڈیو کے ماحول سے بھی روشناس کرایا جاتا ہے۔ ملٹی کیمرا ٹیلی ویژن اسٹوڈیو، ایڈیٹنگ کی سہولیات، گرافکس و اینیمیشن کے نظام، پرنٹ پروڈکشن لیب اور آڈیو اسٹوڈیو جیسے وسائل طلبہ کو تعلیم کے دوران ہی میڈیا کے عملی تقاضوں سے جوڑ دیتے ہیں۔
اسی تربیتی ماحول کا نتیجہ ہے کہ یہاں سے فارغ ہونے والے کئی طلبہ آج نہ صرف میڈیا اداروں بلکہ تعلیمی اداروں میں بھی خدمات انجام دے رہے ہیں۔ بعض سابق طلبہ ملک و بیرونِ ملک اعلیٰ تعلیم حاصل کر رہے ہیں، جب کہ کئی قومی و بین الاقوامی اداروں، سفارت خانوں، سرکاری نشریاتی اداروں اور خبر رساں ایجنسیوں سے وابستہ ہیں۔
سابق طالب علم عامر احسن، جنہوں نے اپنے کریئر کی شروعات ریڈیو سے کی تھی، اس وقت ایک نجی میڈیا ادارے میں اینکر اور پروڈیوسر کے طور پر کام کر رہے ہیں۔ ان کے مطابق مانو کا شعبۂ صحافت اُن طلبہ کے لیے موزوں ہے جو محض نوکری کے بجائے سماج میں مثبت کردار ادا کرنا چاہتے ہیں۔ وہ کہتے ہیں کہ یہاں طلبہ کی صلاحیتوں کو نکھارا جاتا ہے اور انہیں پیشہ ورانہ طور پر مضبوط بنایا جاتا ہے۔
ڈاکٹر فوزیہ آفاق، جو اس وقت گورنمنٹ ڈگری کالج بارہمولہ میں تدریسی خدمات انجام دے رہی ہیں، شعبے کے تعلیمی ماحول کو مثبت قرار دیتی ہیں۔ ان کے مطابق جو طلبہ پرنٹ یا الیکٹرانک میڈیا میں مستقبل دیکھتے ہیں، ان کے لیے یہ شعبہ خود کو تیار کرنے کا ایک مؤثر پلیٹ فارم ہے، اور خاص طور پر طالبات کے لیے کیمپس کا ماحول محفوظ اور سازگار ہے۔
اسی شعبے سے تعلیم حاصل کرنے والے پرنس، جو آج معروف صحافی رویش کمار کی ٹیم کا حصہ ہیں، اس خیال کو درست نہیں مانتے کہ اردو یونیورسٹی میں تعلیم حاصل کرنے کا مطلب صرف اردو میڈیا تک محدود ہو جانا ہے۔ ان کے مطابق یہاں اردو پر گرفت مضبوط ضرور ہوتی ہے، لیکن اصل توجہ صحافتی فہم اور پیشہ ورانہ مہارتوں پر دی جاتی ہے، جو کسی بھی زبان کے میڈیا میں کام آتی ہیں۔
اے بی پی نیوز سے وابستہ شاہین جمالی کا کہنا ہے کہ یہ شعبہ اردو میڈیم کے طلبہ کے لیے قومی اور بین الاقوامی میڈیا اداروں تک پہنچنے کا ایک عملی راستہ فراہم کرتا ہے، اور کئی طلبہ اسی راستے سے بڑے اداروں تک پہنچنے میں کامیاب ہوئے ہیں۔
قومی خبر رساں ایجنسی پی ٹی آئی کے رپورٹر اویس عثمانی اس وقت سپریم کورٹ، دہلی ہائی کورٹ اور دیگر عدالتی کارروائیوں کی رپورٹنگ کر رہے ہیں۔ ان کے مطابق صحافت میں کسی مخصوص بیٹ پر کام کرنے کے لیے مضبوط تعلیمی بنیاد ضروری ہوتی ہے، جو انہیں مانو کے شعبۂ صحافت سے حاصل ہوئی۔
موجودہ طالبہ صالحہ وسیم، جو اس وقت بی بی سی میں انٹرنشپ کر رہی ہیں، بتاتی ہیں کہ چار سالہ کورس کے دوران طلبہ کو نیوز روم اور اسٹوڈیو کی مکمل عملی تربیت دی جاتی ہے۔ ان کے مطابق شعبے کا تعلیمی ماحول پرسکون ہے اور انٹرنشپ و تقرری کے سلسلے میں طلبہ کو بھرپور رہنمائی فراہم کی جاتی ہے، جس سے میڈیا میں داخلہ نسبتاً آسان ہو جاتا ہے۔
مدرسہ بیک گراؤنڈ سے تعلق رکھنے والے اور شعبۂ صحافت کے فارغ التحصیل امام علی فلاحی اس وقت حیدرآباد میں ایک ملٹی نیشنل کمپنی سے وابستہ ہیں۔ اس کے ساتھ ساتھ وہ باقاعدگی سے مضامین بھی تحریر کرتے ہیں۔ ان کے مطابق ان کا سفر مدرسے کی سادہ دیواروں سے شروع ہو کر ایک ایم این سی تک پہنچا، اور اس سفر میں اردو زبان اور مانو کا شعبۂ صحافت سب سے مضبوط سہارا ثابت ہوا۔ یہاں انہیں محض تعلیم ہی نہیں ملی بلکہ اعتماد، سمت اور ایک باخبر قلم بھی ملا۔ آج وہ پورے یقین کے ساتھ کہتے ہیں کہ اگر تربیت مضبوط ہو تو اردو روزگار اور وقار—دونوں کی ضمانت بن سکتی ہے۔
سابق طالبہ فاطمہ صدیقی اس وقت گاندھی فیلو کے طور پر کمیونٹی اور تعلیم کے میدان میں کام کر رہی ہیں۔ ان کے مطابق کمیونٹی اور تعلیم کے لیے کام کرنے کا جذبہ ان کے اندر شعبۂ صحافت میں تعلیم کے دوران ہی پیدا ہوا۔ وہ کہتی ہیں کہ جو طلبہ صحافت کے ساتھ ساتھ سماجی اور تعلیمی میدانوں میں سرگرم رہنا چاہتے ہیں، ان کے لیے یہ شعبہ ایک مؤثر موقع فراہم کرتا ہے۔
مجموعی طور پر مانو کا شعبۂ ترسیلِ عامہ و صحافت ایک ایسے تعلیمی مقام کے طور پر سامنے آ رہا ہے جہاں اردو میڈیم اور مدرسہ پس منظر رکھنے والے طلبہ جدید صحافت کے تقاضوں کے ساتھ خود کو ہم آہنگ کر سکتے ہیں۔ داخلے جاری ہیں اور آخری تاریخ قریب ہے، ایسے میں صحافت کو بطور پیشہ اپنانے کے خواہش مند طلبہ کے لیے یہ ایک اہم موقع سمجھا جا رہا ہے۔