نئی دہلی، : جامعہ ملیہ اسلامیہ نے عالمی تعلیمی منظرنامے میں ایک اور اہم سنگ میل عبور کرتے ہوئے کیو ایس ورلڈ یونیورسٹی رینکنگ 2027 میں اپنی تاریخ کی بہترین درجہ بندی حاصل کر لی ہے۔ جامعہ نے گزشتہ سال کے مقابلے میں 75 سے زائد درجوں کی نمایاں پیش رفت کرتے ہوئے عالمی سطح پر 686 واں مقام حاصل کیا ہے۔ اس کامیابی کے ساتھ جامعہ ملیہ اسلامیہ ملک کی 20 بہترین جامعات میں شامل ہو گئی ہے۔
کیو ایس ورلڈ یونیورسٹی رینکنگ 2027 کے تازہ نتائج کے مطابق جامعہ ملیہ اسلامیہ کی عالمی درجہ بندی میں مسلسل بہتری کا رجحان برقرار ہے۔ جامعہ 2024 میں 951 تا 1000 کے زمرے میں شامل تھی جبکہ 2025 میں اس کی درجہ بندی 851 تا 900 اور 2026 میں 761 تا 770 کے درمیان رہی۔ اب 2027 کی درجہ بندی میں جامعہ نے نمایاں ترقی کرتے ہوئے 686 واں عالمی مقام حاصل کر لیا ہے جو اس کی اب تک کی بہترین کارکردگی شمار کی جا رہی ہے۔
جامعہ ملیہ اسلامیہ کے وائس چانسلر پروفیسر مظہر آصف نے اس شاندار کامیابی پر مسرت اور فخر کا اظہار کرتے ہوئے کہا کہ عالمی سطح کی ممتاز جامعات میں جامعہ کا شمار اس بات کا ثبوت ہے کہ ادارہ تدریس تحقیق اور علمی خدمات کے مختلف شعبوں میں مسلسل اعلیٰ کارکردگی کا مظاہرہ کر رہا ہے۔ انہوں نے کہا کہ کیو ایس درجہ بندی میں جامعہ کی یہ نمایاں پیش رفت اساتذہ محققین سائنس دانوں اور طلبہ کی انتھک محنت اور معیاری علمی خدمات کا نتیجہ ہے۔
پروفیسر مظہر آصف نے کہا کہ جامعہ نے ملک کی 20 بہترین جامعات میں جگہ بنا کر ایک نئی تاریخ رقم کی ہے۔ انہوں نے جامعہ برادری کو مبارکباد پیش کرتے ہوئے کہا کہ مستقبل میں بھی تعلیمی اور تحقیقی معیار کو مزید بلند کرنے کی کوششیں جاری رکھی جائیں گی تاکہ عالمی سطح پر جامعہ کی شناخت مزید مستحکم ہو۔
جامعہ کے رجسٹرار پروفیسر محمد مہتاب عالم رضوی نے اس کامیابی کو تدریسی اور غیر تدریسی عملے کی لگن اور محنت کا ثمر قرار دیا۔ انہوں نے کہا کہ 761 تا 770 کے زمرے سے 686 ویں عالمی مقام تک پہنچنا اس بات کی عکاسی کرتا ہے کہ جامعہ تحقیق اور تدریس کے میدان میں مسلسل ترقی کر رہی ہے اور اس کی قومی و بین الاقوامی ساکھ میں بھی نمایاں اضافہ ہوا ہے۔
انہوں نے مزید کہا کہ قومی سطح پر بیسویں مقام کا حصول جامعہ کے لیے غیر معمولی اعزاز ہے۔ انہوں نے مرکزی حکومت اور بالخصوص وزیر تعلیم کا شکریہ ادا کرتے ہوئے کہا کہ جامعہ کی ترقی میں حکومتی تعاون کا بھی اہم کردار رہا ہے۔
جامعہ انتظامیہ کے مطابق اس سال کی درجہ بندی میں بہتری کے پیچھے متعدد عوامل کارفرما رہے ہیں۔ ان میں تحقیقی مقالات کے حوالہ جات میں اضافہ۔ تعلیمی ساکھ میں بہتری۔ بین الاقوامی طلبہ کی تعداد میں اضافہ۔ فارغ التحصیل طلبہ کی بہتر روزگار پذیری۔ اور مختلف شعبہ جات میں تحقیقی سرگرمیوں کے دائرے میں نمایاں توسیع شامل ہیں۔
رپورٹ کے مطابق جامعہ کا مجموعی اسکور بھی بہتر ہو کر 25.9 تک پہنچ گیا ہے۔ اس کے علاوہ عالمی سطح پر جامعہ کی تحقیقی اثر پذیری اور تعلیمی شناخت میں بھی خاطر خواہ اضافہ ریکارڈ کیا گیا ہے۔ ماہرین کے مطابق یہ پیش رفت اس بات کی علامت ہے کہ جامعہ ملیہ اسلامیہ عالمی تعلیمی اداروں کے درمیان اپنی مضبوط موجودگی درج کرا رہی ہے۔
وائس چانسلر پروفیسر مظہر آصف اور رجسٹرار پروفیسر محمد مہتاب عالم رضوی نے داخلی معیار یقین دہانی مرکز کی ڈائریکٹر پروفیسر رفعت پروین اور ان کی ٹیم کی خدمات کو بھی سراہا۔ انہوں نے کہا کہ قومی اور بین الاقوامی درجہ بندیوں میں جامعہ کی مسلسل بہتر کارکردگی کے پس منظر میں اس شعبے کی منصوبہ بندی اور مؤثر نگرانی کا اہم کردار رہا ہے۔
پروفیسر رفعت پروین نے کہا کہ یہ کامیابی جامعہ ملیہ اسلامیہ کے تعلیمی معیار۔ تحقیق۔ اختراع۔ روزگار پذیری اور عالمی روابط کے فروغ کے عزم کی عکاس ہے۔ انہوں نے کہا کہ جامعہ مستقبل میں بھی علمی اور تحقیقی سرگرمیوں کو مزید وسعت دینے کے لیے پرعزم ہے۔
واضح رہے کہ کیو ایس ورلڈ یونیورسٹی رینکنگ دنیا کی معتبر ترین اور جامع عالمی درجہ بندیوں میں شمار کی جاتی ہے۔ اس درجہ بندی کی تیاری میں دنیا بھر کے لاکھوں تحقیقی مقالات کے اعداد و شمار کے ساتھ ساتھ ہزاروں ماہرین تعلیم اور آجرین کی آرا کو بھی شامل کیا جاتا ہے۔ اسی وجہ سے اس رینکنگ کو عالمی جامعات کی کارکردگی جانچنے کا ایک اہم پیمانہ سمجھا جاتا ہے۔
جامعہ ملیہ اسلامیہ کی یہ کامیابی نہ صرف ادارے کے لیے باعث فخر ہے بلکہ ملک کے اعلیٰ تعلیمی نظام کے لیے بھی ایک مثبت اشارہ سمجھی جا رہی ہے۔ ماہرین تعلیم کا کہنا ہے کہ اگر جامعہ اسی رفتار سے ترقی کرتی رہی تو آنے والے برسوں میں عالمی درجہ بندی میں مزید نمایاں مقام حاصل کر سکتی ہے۔