نئی دہلی : جامعہ ملیہ اسلامیہ 1980 سے معذور افراد کی ترقی خودمختاری اور بازآبادکاری کا فریضہ انجام دے رہا ہے۔ جامعہ ملیہ اسلامیہ اپنے تعلیمی عہد اور شمولیتی وژن کے تحت معذور افراد کو تعلیم تربیت اور بازآبادکاری کے ذریعے اصل دھارے میں شامل کرنے میں مسلسل سرگرم ہے۔ ان خدمات کی بدولت یہ ادارہ ملک کے نمایاں تعلیمی اداروں میں شمار ہوتا ہے۔
شعبہ تربیت اساتذہ و غیر رسمی تعلیم اور شعبہ نفسیات کی جانب سے معذوریت سے متعلق جاری پروگرام جامعہ کی طویل مدتی خدمات اور تعلیمی افضلیت کے پیش نظر ریہیبلی ٹیشن کونسل آف انڈیا کی جانب سے غیر معمولی اعزاز کے مستحق قرار پائے ہیں۔ جامعہ کے یہ پروگرام اپنے معیار وسعت پیشہ ورانہ معنویت اور سماجی اثر کے سبب شہرت رکھتے ہیں۔
اس وقت شعبہ تربیت اساتذہ و غیر رسمی تعلیم اور شعبہ نفسیات اسپیشل ایجوکیشن میں مختلف پروگرام جاری ہیں۔ ان میں بی ایڈ اسپیشل ایجوکیشن لرننگ ڈس ایبیلٹی۔ بی ایڈ اسپیشل ایجوکیشن بصری نقص۔ ایم ایڈ اسپیشل ایجوکیشن لرننگ ڈس ایبیلٹی۔ ایم ایڈ اسپیشل ایجوکیشن بصری نقص۔ اور ایڈوانسڈ ڈپلوما ان چائلڈ ہوڈ گائیڈینس اینڈ کاؤنسلنگ شامل ہیں۔
ان پروگراموں نے مختلف تعلیمی اور بازآبادکاری ماحول میں متنوع معذوری گروپس کے ساتھ کام کرنے کی صلاحیت رکھنے والے کوالیفائیڈ خصوصی معلمین اور پیشہ وروں کی تیاری میں اہم کردار ادا کیا ہے۔
یہ اعزاز اس اعتبار سے بھی خاص اہمیت رکھتا ہے کہ ان پروگراموں کی منظوری کی مدت میں متعینہ دورانیے سے زیادہ توسیع کی گئی ہے۔ اس سے قبل عام طور پر منظوری کی مدت پانچ برس ہوتی تھی۔ موجودہ منظوری کو بڑھا کر سات برس کر دیا گیا ہے جو کہ سب سے زیادہ مدت ہے۔ اسی طرح شعبہ نفسیات جامعہ ملیہ اسلامیہ میں جاری پروگرام جو پہلے صرف تین برس کے تھے ان میں مزید چار برس کی توسیع کر دی گئی ہے۔ اس طرح یہ پروگرام بغیر دوبارہ درخواست اور بغیر تجدید کے کل سات برس تک جاری رہیں گے۔
اس اعزاز کا ایک اہم پہلو یہ بھی ہے کہ یونیورسٹی نے ان پروگراموں کی منظوری اور پروسیسنگ کے لیے جو فیس جمع کرائی تھی متعلقہ کونسل نے اسے واپس کرنے کی منظوری دی ہے۔ کونسل کا یہ اقدام جامعہ ملیہ اسلامیہ کی مسلسل کارکردگی ادارہ جاتی ساکھ اور تعلیمی معیارات پر مکمل اعتماد کا مظہر ہے۔
پروفیسر مظہر آصف شیخ الجامعہ جامعہ ملیہ اسلامیہ کی دوراندیش قیادت میں جامعہ میں ڈس ایبلیٹی ایجوکیشن کے استحکام میں نمایاں پیش رفت ہوئی ہے۔ ان کی قیادت میں یونیورسٹی گرانٹس کمیشن کو ڈپارٹمنٹ آف ڈس ایبلیٹی اسٹڈیز کے قیام کی تجویز پیش کی گئی ہے۔ اس موقع پر پروفیسر مظہر آصف نے کہا کہ جامعہ ملیہ اسلامیہ کو سینٹر آف ایکسیلینس کا اسٹیٹس ملنا جامعہ میں ڈس ایبلیٹی مرکوز تعلیم تحقیق اور تربیت کو ادارہ جاتی شکل دینے کی سمت ایک اہم سنگ میل ہے۔ یہ مقصد جامعہ کی روح کے قریب ہے اور معذور افراد کو بااختیار بنانے اور ان کی بازآبادکاری میں مؤثر کردار ادا کرے گا۔
پروفیسر محمد مہتاب عالم رضوی مسجل جامعہ ملیہ اسلامیہ نے کہا کہ جامعہ میں ڈپارٹمنٹ آف ڈس ایبلیٹی اسٹڈیز کے قیام کے لیے فیکلٹی اراکین کی غیر معمولی محنت اور اپنے فرائض سے وابستگی نہایت اہم رہی ہے۔ انہوں نے یقین ظاہر کیا کہ تدریس اور تربیت کے اس اہم میدان میں نیا شعبہ مثالی اور مؤثر کام انجام دے گا۔
اس اہم کامیابی پر پروفیسر مظہر آصف نے شعبہ تربیت اساتذہ و غیر رسمی تعلیم اور شعبہ نفسیات کے فیکلٹی اراکین کو مبارک باد پیش کی۔ انہوں نے جامعہ برادری کو متحدہ کوششوں پر سراہا اور اس شعبے میں افضلیت برقرار رکھنے کے لیے نیک خواہشات کا اظہار کیا۔ پروفیسر رضوی نے بھی مبارک باد دی اور معذور افراد کی تعلیم و تربیت کے میدان میں جامعہ کو ایک مقبول یونیورسٹی بنانے کے لیے مکمل تعاون کا یقین دلایا۔
ایڈوانسڈ ڈپلوما ان چائلڈ ہوڈ گائیڈینس اینڈ کاؤنسلنگ اور اسپیشل ایجوکیشن پروگرام جن کے رابطہ کار ڈاکٹر محمد فیض اللہ ہیں معذوریت اور بازآبادکاری تعلیم کے میدان میں ایک اہم قدم ہیں۔ اس کامیابی پر اظہار خیال کرتے ہوئے ڈاکٹر خان نے کہا کہ یہ اعزاز جامعہ ملیہ اسلامیہ کے شمولیتی ڈس ایبلیٹی ایجوکیشن اور اعلیٰ معیاری پیشہ ورانہ تربیت کے لیے دیرینہ عزم کا اعادہ ہے۔
جامعہ ملیہ اسلامیہ تعلیمی پروگراموں کی توسیع مزید مواقع کی فراہمی اور معذور افراد کی تعلیم بااختیاری اور ہمہ جہت ترقی و نشو نما کے مقصد سے اضافی پروگرام شروع کرنے کے لیے پُرامید ہے۔